نقار خانے میں طوطی کی صدا

تحریک انصاف کے دور میں صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے والے صدرمملکت عارف علوی کی مدت صدارت کا اختتامی باب شروع ہو چکا ہے دوران صدارت ایک وقت ان کا کردار عمل جماعتی صدر کا رہا لیکن اب بدلتی صورتحال میں وہ ایسے نہیں رہے یا ایسا ممکن نہیں رہابہرحال انہوں نے بڑی صائب بات کی ہے کہ سیاستدان عفو و درگزر کا راستہ اپنائیں، ہمیں نفرتوں کے بجائے محبتوں کو فروغ دینا پڑے گا۔ صدر پاکستان کا کہنا تھا آزادی اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی گئیں، انصاف کے لئے ضروری ہے کہ فریقین کو سنا جائے کیونکہ جس ملک میں انصاف نہ ہو وہ تتر بتر ہو جاتاہے۔ ان کا کہنا تھا سیاستدان اور سٹیک ہولڈرز عفو و درگزر کا راستہ اپنائیں، پاکستان اپنے لیڈروں سے تقاضا کرتا ہے کہ اکٹھے ہو جائیں، ہمیں نفرت کے بجائے محبتوں کو فروغ دینا ہو گا۔صدرمملکت اگرعملی طور پرسیاستدانوں میں کشیدگی میں کمی کے لئے ایوان صدر کواپنی سابقہ جماعت کے دور حکومت میں متحرک کرکے اپنے قول و فعل سے غیر جانبداری اختیار کرتے تو ملک میں آج جس قسم کی سیاسی کشیدگی نظر آتی ہے اور سابق حکمران جماعت اور اس کے قائد کو جن حالات کا سامنا ہے اس کی شاید نوبت نہ آتی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ان کی جانب سے کشیدگی کا حصہ بننے کی بجائے کشیدگی میں کمی لانے کی مساعی ہوتیں تو نقارخانے میں شاید ان کی آواز سنی جاتی مگر اب جبکہ حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں اور تحریک عدم اعتماد کے بعد آنے والی سیاسی حکومت بھی مدت پوری کرکے رخصت ہو چکی ہے اور جتنا پانی پلوں کے نیچے بہنے کی گنجائش تھی وہ بہہ چکی اب نگران حکومت ان کی مخاطب ہے یا پھر عدلیہ ہی ہوسکتی ہے نگران حکومت کاواحد مینڈیٹ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرکے رخصتی ہے اور عدلیہ ایک طریقہ کار کے مطابق مقدمات نمٹاتی ہے ایسے میں ملک میں سیاستدانوں اور دیگر عناصر ہی سے مفاہمت کے بعد ہی عفو ودگزر کی فضا پیدا ہوسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ملک اور ملک سے باہر اب تک الزامات اور تضحیک و توہین کا وہ طوفان تھما نہیں جس کے بعد ہوا ساکت ہو اور شور میں سنائی نہ دینے والی آوازیں سماعت میں آنے لگیں ان کا مشورہ بجا لیکن اس کے لئے حالات پیدا کرنے کے لئے جس ابتداء کی ضرورت تھی وہ وقت شاید اب گزر چکا ہے نو مئی کے واقعات کے بعد سیاست کارخ اور ملکی حالات میں مزید جو تبدیلی آئی اور صورتحال بنی ہوئی ہے اس سے سیاست و جمہوریت ہی آلودہ نہیں بلکہ ملکی سلامتی و استحکام اور قومی تحفظ کے اداروںکی ساکھ کا بھی سوال اٹھا ہے تمام ترحالات کے باوجود بہرحال صورتحال سے نکلنے کے لئے جب تک مفاہمانہ مکالمہ کا ماحول نہ بنایا جائے ان حالات سے نکلنا شاید ہی ممکن ہو۔

مزید پڑھیں:  حکومتی کارکردگی کا امتحان شروع