مقامی وسائل کا حقِ ملکیت

صوبہ پنجاب کے سرائیکی بولنے والے اضلاع(سرائیکی وسیب)میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے)ہو چولستان یا دیگر علاقے، عشروں سے ان میں غیرمستحق افراد کو اراضی الاٹ کرنے کے سکینڈل سامنے آرہے ہیں۔ حال ہی میں سرکاری دستاویزات سے اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ بہاولپور صدر کے چک نمبر15بی سی میں 12سو کنال اراضی 1980 کے دوران شیخوپورہ کے متاثرین قرار دیئے گئے 12متاثرین کو فی کس ایک ایک سو کنال الاٹ کی گئی۔ بہاولپور ڈویژن اوربالخصوص ضلع بہاولپور کی حدود میں نام نہاد متاثرین اور سول ملٹری بیوروکریسی کے حاضر و سابق افسران کو اراضی کی الاٹمنٹ کا سلسلہ تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں شروع ہوا تھا جو بعد کے ادوار میں بھی جاری و ساری رہا اور اب بھی ہے۔ ٹی ڈی اے اور چولستان کی اراضی جس طرح غیرمقامی اور غیرکاشتکاروں کو الاٹ کی گئی اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ماضی میں بعض تنظیموں اور چولستان واسیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں نے 1979 سے 1987 کے درمیانی برسوں میں غیرمقامی غیرکاشتکاروں اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے حاضر و سابقین کو اراضی کی الاٹمنٹوں پر احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ اس امر کو مدنظر کیوں نہیں رکھا جاتا کہ غیرمقامی افراد کو اراضی کی الاٹ منٹوں سے مقامی لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے اس سوال کا سنجیدہ اور تسلی بخش جواب دینے کی بجائے احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے یہی نہیں بلکہ ہمہ وقت سرکاری امن کمیٹیوں میں رہنے والوں کی طرف سے اہتمام کے ساتھ بیانات شائع کروائے گئے غیرمقامی افراد کو الاٹ منٹوں کی بحث چھیڑنے والے ملک دشمن ہیں۔ غیرمستحق و غیرکاشتکاروں اور جعلی متاثرین کوٹی ڈی اے کے چکوک اور چولستان میں پچھلے 45 برسوں کے دوران جو لاکھوں ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی اس پر وقفے وقفے سے ہونے والے احتجاجوں میں یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے 1979 کے بعد سے الاٹ کی گئی زمینوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا جائے نیز یہ کہ زمینوں کی الاٹ منٹ کے ضمن میں مقامی آبادی کو ترجیح دی جائے۔ بادی النظر میں یہ مطالبہ بجا اور درست ہے صرف یہی نہیں بلکہ گزشتہ 45 برسوں میں ڈی جی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاولنگر سے جاری ہونے والے ڈومیسائل کے حوالے سے گزشتہ برسوں کے دوران جو الزامات سامنے آئے ان کی بھی تحقیقات ازبس ضروری ہیں۔مقامی وسائل پر مقامی آبادی کے حق فائق کی ضمانت دستور پاکستان دیتا ہے افسوس کہ اس ملک میں سب سے زیادہ مظلوم دستور پاکستان ہی ہے جس کی بالادستی اور حاکمیت کا سبھی دعوی کرتے ہیں مگر ہر دور میں اس سے انحراف کا کوئی موقع بھی نہیں جانے دیا جاتا۔ تھل اور چولستان میں زمینوں کی غیرضروری غیرمقامی افراد کو جاری الاٹ منٹ کے سلسلوں اور جعلی ڈومیسائل سے وسیب کے مختلف اضلاع میں سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والوں کو مقامی لوگوں کے حقوق کی پامالی میں ساجھے دار قرار دیئے جانے کو ملک دشمن یا اسلامی تعلیمات کے برعکس قرار دینے والے طبقات درحقیقت اس لوٹ مار میں حصے دار ہیں۔ سرائیکی وسیب کی قوم پرست تنظیموں کے اس صورتحال پر موقف سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو یہ امر اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مقامی وسائل پر غیرمقامی بالادستی کی وجہ سے ملک کے مختلف خطوں میں اس وقت شدید مسائل پائے جاتے ہیں یہی وہ نکتہ ہے جس کے موجب یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت کو پنجاب کے سرائیکی بولنے والے اضلاع جنہیں عرف عام میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کہا جاتا ہے، مقامی وسائل بالخصوص زمینوں کی غیرمقامی لوگوں کو الاٹ منٹوں کے سلسلے کو کسی تاخیر کے بغیر بند کرائے اور مستقبل کے حوالے سے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ زمینوں کی الاٹ منٹ میں پہلی ترجیح مقامی ہے زمین کاشتکاروں کو دی جائے گی۔ بہاولپور اور چولستان میں غیرمقامی و غیرمستحق لوگوں کو پچھلے ڈیڑھ عشرے میں ہوئی الاٹ منٹوں کے حوالے سے بعض سیاستدانوں پر بھی سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہورہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بعض سیاستدان غیرمقامی لوگوں کو الاٹ منٹوں کیلئے صوبائی حکومت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اپنے حلقہ انتخاب کے مقامی بے زمین و بے وسائل لوگوں کی حق تلفی میں ملوث ان سیاستدانوں کو کبھی بھی عام آدمی کی پروا نہیں رہی ان کی انتخابی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر مقامی انتظامیہ چلاتی ہے جس سے ان کی بالادستی قائم و دائم رہتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے انتخابی سیاست میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو عوامی جوابدہی کا خوف نہیں ہوتااس لئے وہ حلقہ انتخاب کے کچلے ہوئے طبقات کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔ بدقسمتی سے پارلیمانی سیاست کے بعض معروف ناموں پر گزشتہ برسوں کے دوران یہ الزامات بھی لگے کہ اپنے حلقہ انتخاب میں صدیوں سے میقم خاندانوں کی جگہ اپنے حامیوں کو بسانے کے لئے انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے قبضہ گیری کی سرپرستی کی۔ گو الزامات کی زد میں آنے والی بعض سیاسی شخصیات نے قبضہ گروپوں کی سرپرستی کو سیاسی عناد پر مبنی الزام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا لیکن زمینی حقائق الزامات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اندریں حالات اسسٹنٹ کمشنر صوبہ بہاولپور کے ایک مراسلے سے ہوئے اس انکشاف نے ایک بار پھر غیرمستحق غیرمقامی لوگوں کو زرعی اراضی کی الاٹ منٹ کے معاملہ کو زندہ کردیا ہے۔ چولستان اور بالخصوص بہاولپور صدر کی حدود میں زرعی اراضی کی الاٹ منٹ کا معاملہ سامنے آنے پر سیاسی و سماجی شخصیات اور مقامی بے زمین اور چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل تنظیموں کا یہ مطالبہ بجا طور پر درست ہے کہ نہ صرف اس سلسلے کو کسی تاخیر کے بغیر روکا جائے بلکہ 1979 سے اب تک بالعموم اور 2013 سے موجودہ حکومت (وفاقی و صوبائی) کے تحلیل ہونے تک کے درمیانی عرصہ میں سرائیکی وسیب کے اضلاع میں غیرمقامی لوگوں کو الاٹ کی گئی زمینوں کے معاملات کی تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ ہماری دانست میں یہ مطالبہ غیرضروری یا کسی بھی طرح سماجی وحدت کے منافی نہیں۔ مکرر اس امر کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے کہ مقامی وسائل پر مقامی آبادی کے اولین حق کی دستور پاکستان ضمانت دیتا ہے۔ اس دستوری تحفظ کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے جہاں دستور و قانون کے مجرم ہیں وہیں وہ لوگ ان بے نوا طبقات کے بھی مجرم ہیں ایسے افراد ان کے سرپرستوں اور کسی بھی طرح اقربا پروری اور کرپشن میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ حق اپنے اصل حقداروں کو ملے اور بندربانٹ کا سلسلہ ختم ہو۔ امید ہے کہ نگران صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے عدل و انصاف کو یقینی بنائیں گے۔

مزید پڑھیں:  ''حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ''