56ارب کا کسان ریلیف پیکج

خوش آئند امر ہے کہ وفاقی حکومت نے زرعی شعبہ کیلئے 56ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مطابق 5696ارب روپے کے کسان پیکج سے کسانوں کو کھاد کی خریداری پر 37ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ زرعی ادویات وغیرہ پر بھی سبسڈی ملے گی جبکہ ٹریکٹر کی خریداری اور زرعی قرضوں پر بھی 10فیصد مارک اپ سبسڈی دی جائے گی۔ یہ عرض کرنا البتہ بہت ضروری ہے کہ زرعی معیشت والے ملک میں یہ ریلیف پیکج ضرورت سے کم ہے۔ بجا ہے کہ ملک کے معاشی حالات بہتر نہیں، قرضوں کا بوجھ اور دوسرے مسائل ہیں لیکن یہ امر بھی دو چند ہے کہ پاکستان کا دار ومدار آج بھی زرعی شعبہ پر ہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر کسان ریلیف پیکج کیلئے رکھی گئی رقم ابتدائی طور پر 100ارب روپے ہوتی اور اس کیساتھ ساتھ حکومت کسانوں کو ٹیوب ویل کے بجلی بلوں میں بھی خصوصی رعایت دیتی۔ دوسری اہم بات بعض اجناس کی معاون حکومتی قیمت ہے جو حکومت ہر سال مقرر کرتی ہے، پچھلے چند برسوں کے دوران مہنگائی کی شرح میں جس طور اضافہ ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن دوسری طرف گندم، چاول، گنا اور کپاس کی امدادی قیمتوں جو اضافہ ہوا وہ پیداوار کی لاگت اور قیمت فروخت میں توازن لانے سے قاصر ہے۔ فی ایکڑ پیداواری لاگت اور اجناس کی فروخت سے ہوئی آمدنی میں شدید عدم توازن کی وجہ سے چھوٹے کاشتکاروں کی حالت بہت خراب ہے، اوسط درجہ کے زمینداروں کیلئے بھی اب زرعی شعبہ میں کوئی بہت زیادہ کشش نہیں رہی، ایسی صورت میں اگر حکومت زرعی شعبہ کے استحکام کو اولین ترجیح قرار دیکر پالیسی وضع کرے چند ہی برسوں میں اس شعبہ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کا مستقبل بلوچستان مزید توجہ کا طلبگار ہے
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بلوچستان کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے عوامی خوشحالی کے منصوبوں میں صوبائی حکومت سے تعاون جاری رکھنے کو اپنا فرض کہا ہے۔ بلوچستان کی تعمیر وترقی کے مختلف منصوبوں میں پاک فوج کا صوبائی حکومت سے تعاون خوش آئند بات ہے، قدرتی وسائل سے مالامال رقبہ کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑے اور آبادی کے حوالے سے چھوٹے صوبے کے لوگوں کی بنیادی شکایات پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں روزگار کے مواقع کم ہیں اسی طرح تعلیم وصحت کے شعبوں کی زبوں حالی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ترقیاتی عمل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے صوبے کے عوام کی شکایات کا ازالہ ممکن ہے۔ اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ آخر بلوچستان کی تعلیم یافتہ نئی نسل میں احساس محرومی کیوں بڑھ رہا ہے۔ بنیادی مسئلہ کو سمجھ کر اصلاح کیلئے ٹھوس اقدامات سے ہی دلوں میں موجود کدورتیں ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ بلوچستان کی صوبائی قیادت اس طرف بھی توجہ دے گی۔
مہنگائی کا کورونا
ماہ مبارک رمضان کے دو عشرے مکمل ہوئے، ان دو عشروں کے دوران مہنگائی کے سیلاب نے عوام کی جو درگت بنائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ملک بھر میں کہیں بھی سرکاری نرخ پر اشیائے ضرورت کی فروخت کی بجائے ہر جگہ مرضی کے نرخ پر اشیاء فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ ملک میں ایک طرف کورونا کی وباء سے صورتحال ابتر ہے تو دوسری طرف مہنگائی کا کورونا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کاروبار شروع ہونے پر چھوٹے بڑے شہروں سے یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بعض اشیاء مثلاً کپڑے، جوتوں وغیرہ کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کر دیا گیا ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کسی بھی مشکل صورتحال میں ہم وطنوں سے تعاون کی بجائے انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا مرض زیادہ پختہ ہے۔ فقط یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتیں تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ انفرادی احساس ذمہ داری کے فقدان کا شکار ہے، ہر شخص بس اپنے بارے میں سوچتا ہے، اپنی زندگی کو بہتر رکھنے کیلئے جائز وناجائز کو درست خیال کرتا ہے، اس سوچ سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے سے کہیں بہتر ہوگا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل بھی کیا جائے۔