بچوں کی سیریل کلر نرس

بچوں کی بدترین سیریل کلر نرس پر 7 نومولود بچوں کا قتل ثابت

ویب ڈیسک: برطانوی تاریخ میں بچوں کی بدترین سیریل کلر نرس لوسی لیٹبی پر 7 نومولود بچوں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شمال مشرقی برطانیہ کے کاؤنٹیز آف چیسٹر ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں کام کرنے والی نرس لوسی لیٹبی پر 7 نوزائیدہ بچوں کو انسولین کے ذریعے زہر دے کر قتل کرنے جبکہ مزید 10 بچوں کو جان سے مارنے کی کوشش کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ زیر سماعت مقدمے کے دوران پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 16-2015 کے عرصے میں کاؤنٹیز آف چیسٹر ہسپتال میں ملازمت کرنے والی 33 سالہ نرس لوسی لیٹبی نے 5 نوزائیدہ لڑکوں اور 2 نو زائیدہ لڑکیوں کو مبینہ طور پر قتل کیا، پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 2015 کے آغاز میں ہسپتال انتظامیہ نے یہ نوٹس کیا تھا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات یا ان کی سیریئس کنڈیشن میں اضافہ ہو گیا ہے، انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بچے بغیر سبب کوئی علامتیں ظاہر کیے انتقال کر رہے تھے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ جب ڈاکٹرز کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے پولیس کو بلایا اور بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں کوئی ہے جو بچوں کو انسولین کے ذریعے زہر دیکر قتل کر رہا ہے اور دو بچوں کو پیدائش کے دو روز بعد زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، دونوں بچوں کا بلڈ شوگر لیول انتہائی خطرناک حد تک گر گیا تھا جنہیں بعد میں طبی امداد دے کر بچا لیا گیا تھا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نرس لوسی کے خلاف الزامات کی تفتیش میں ناکام رہی تاہم حکومت نے آزادنہ انکوائری کا حکم دیا اور اب پولیس اُن تمام 4 ہزار کیسز کا جائزہ لے رہی ہے جو اس نرس نے اپنے کیریئر میں ہینڈل کیے۔ نرس لوسی کو مکمل عمر قید کی سزا ملنے کی توقع ہے، یعنی وہ مرنے تک جیل میں ہی رہے گی۔

مزید پڑھیں:  زرعی آمدن پر انکم ٹیکس 77 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عائد