ریاست مخالف سوچ اور نوجوان نسل

ہمارے ہاں نوجوان نسل کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ریاست اور حکومت ایک شے نہیں ہیں ۔ ریاست سے مراد ایک منظم ملت کے ہیں جو آزاد و خودمختار ہو اس کے تصرف میں ایک مستقل اور معین علاقہ ہو اور اس کی جغرافیہ میں لوگوں کی آبادی ہو جس کے انتظام کے لیے مستقل بنیادوں پر کچھ اہلکار تعینات ہوں اور حکومت اسی ریاست کے واضح کردہ قوانین کی رو سے عوام کی حمایت سے منتخب ہونے والے افراد اور گروہ کو کہتے ہیں جو ایک مخصوص مدت کے لیے اس کا انصرام و انتظام مستقل تعینات شدہ لوگوں اور اداروں کی مدد سے چلاتے ہیں ۔ حکومت ریاست کے قوانین کی پابند ہوتی ہے لیکن وہ خود سے بھی ان قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں بنا سکتی ہے اس لیے حکومت اور ریاست کو ایک دوسرے کامددگار ہونا چاہئے اور ممکنہ حد تک مقاصد کے حصول کے لیے ایک دوسرے کا ہمنوا بھی ہونا چائیے پاکستان کی سیاسی تاریخ اُ ٹھا کردیکھی جائے تو ریاست اور حکومت ہمیشہ ایک دوسرے کے حق میں نہیں رہے فاطمہ جناح اور ایوب خان کے الیکشن سے ریاست مخالف گروہ بننا شروع ہوگئے پھر اس کے بعد تواتر سے پاکستان کی سیاست میں ریاست اور حکومت کا فرق بڑھتا گیا اور آج صورتحال یہاں تک آپہنچی ہے کہ ہم ریاست کی جگہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کو ہی سب کچھ سمجھنے پر اپنے نوجوان نسل کو مجبور دیکھ رہے ہیں یعنی یوم آزادی پر پاکستان کے پرچم کی جگہ کسی پارٹی کا پرچم اٹھا کر سڑکوں پر مارچ کرنا کسی طور بھی درست اور مناسب نہیں ہے اس لیے کہ پارٹی کا وجود ریاست کے وجود سے ہے ریاست کی یہ ذمہ دار ی ہے کہ وہ ملک کی بقاء کے لیے جو ممکنہ اقدامات ہیں وہ اٹھائے اور یہ دنیا کی تمام ریاستیں اٹھاتی ہیں ریاستی مفاد کے لیے امریکہ نے افغانستان میں آکر جنگ لڑی ہے جس میں اس کا کھربوں ارب ڈالروں کے ساتھ بہت بڑا جانی نقصان بھی ہوا ہے مگر ریاست کے اس عمل کا امریکہ کی تمام حکومتوں نے ساتھ دیا ہے اس لیے کہ یہ ان کی ریاست کا فیصلہ تھا جبکہ ہمارے ملک میں پشتون الگ سوچ رہے ان کے الگ مقاصد ہیں بلوچ الگ سوچ رہے ہیں ان کے الگ مقاصد ہیں سندھی الگ سوچ رہے ہیں اور اب تو پنجاب سے بھی ریاست مخالفت کی تحریکیں شروع ہوئی ہیں اس کے بے شمار محرکات ہیں سب سے بڑی وجہ واضح مقاصد کا تعین نہ ہونا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، دوسروں کی پراکسی وارز میں غیر ضروری حدتک خود کو شامل کرنا ملکی سطح پر صحت اور تعلیم اور مواصلات کی ترقی پر توجہ نہ دینا اور سیاسی انجینئرنگ کرنا مستقل اداروں کاوقتی جتھوں کو غیر معمولی اہمیت و طاقت دینا ،میرٹ اور فطری ترتیب کے بجائے وقتی ضرورتوں کی بنا پر مخصوص گروہوں کی غیر ضروری حمایت کرنا وقتی مقاصد کے حصول کے لیے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا ،کرپشن اقرباء پروری اور دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی شامل ہیں ۔ ان سب کے نتیجے میں وہ عمومی ترقی کی رفتار جو دیگر ممالک میں ہے اس کا یہاں ہونا ممکن نہیں رہا اور اس کی وجہ سے ملکی وسائل کم دستیاب ہوتے رہے یا ان کے استعمال کی صلاحیت بھی کم ر ہ گئی اور ملک میں معاشی ترقی کا گراف نیچے گرتا رہا اس کی وجہ سے لوگ دیگر ذرائع جیسے رشوت سفارش سمگلنگ دھونس دھندلی اور فراڈ کا سہارا لیتے رہے جس سے معاشرے کے بہت ہی کم لوگ بہت زیادہ امیر ہوگئے اور اکثریتی طبقہ کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ایسے میں سیاستدان ان کے جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان سے اپنے فائدے کے کام لیتے ہیں یہاں پھر ان کے ماننے والوں کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ باریک لکیر جو کسی بھی صورت پار نہیں کرنا ہوتی جس سے ریاست کو خطرہ ہو وہ اس کو پار کرکے بہت دور نکل جاتے ہیں یوں وہ اور ریاست ایک دوسرے کے مدمقابل آجاتے ہیں اس مقابلے میں نقصان دونوں کا ہوتا ہے مگر اس سے ریاست کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اصل فرائض پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتی تو ملک میں امن و امان کے مسائل بڑھ جاتے ہیں اور شرپسند اس کا فائدہ اٹھا تے ہیں اور رفتہ رفتہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپس ترقی کے سفر میں بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں ہمارے ملک میں نوجوان نسل جس تیزی کے ساتھ ریاست مخالف بیانیہ کا شکار ہورہی ہے وہ بہت زیادہ تشویشناک ہے بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے پشتون نوجوانوں کا تو اب فیشن بن چکا ہے کہ وہ ریاست مخالف جذبات کا اظہار کریں اور آج کل اس کے لیے سوشل میڈیا کی فری سہولت بھی دستیاب ہے پھر جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے یہ مخصوص سوچ کے حامی وہاں پہنچ کر وہاں کے مقامی لوگوں کے جذبات کا فائدہ اٹھا کر ان کو بھی اپنے بیانیے میں شامل کرلیتے ہیں اس ملک میں رہائش پذیر لاکھوں افغان شہری بھی اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہیں اور پھر خصوصاً وہ نوجوان جو ملک سے باہر ہیں ان کو اس پروپیگنڈے میں بہت ہی مہارت سے راغب کرکے شامل کیا جاتا ہے اور وہ دن رات وہاں سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز سے یہاں کے نوجوان نسل کو مزیدگمراہی کی طرف لے کر جارہے ہیں تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیوں میں اب ان گروہوں کا اثر رسوخ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ڈر لگنے لگتا ہے وہ کسی بھی قسم کی دلیل اور حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں ایسے میں ریاست کا ان کے ساتھ نرم رویہ اور پھر ان کے کچھ لوگوں پر عنایات کی وجہ سے ان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث ہے منظور پشتین ،محسن داوڑ اور دیگر ان کے ہمنوا بلا روک ٹوک روز کسی نہ کسی یونیورسٹی میں جاکر وہاں نوجوان نسل کے ذہنوں میں ریاست مخالف زہر بھر رہے ہیں مگر مجال ہے کہ ان کو کوئی روک سکے ان کا یک ورژن تو میڈیا پر آتا ہے مگر جو ان کے نجی محفلوں میں جذبات ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ زہریلے اور خطرناک ہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے ان کو اور ان کے حامیوں کو سرکاری سرپرستی ملنا ان کی مقبولیت اور زہر ناکی میں بہت زیادہ اضافہ کا باعث بن رہا ہے نوجوان نسل کو افغانستان کے کچھ مخصوص نام نہاد طالبان یوٹیوبرز جس طرح گمراہ کر رہے ہیں اس پر کیا ہماری ریاست ان کی حکومت سے باز پرس بھی نہیں کرسکتی سعودی عرب میں بیٹھے ہوئے ایک مخصوص جماعت کے شرپسند روز سوشل میڈیا پر ہماری ریاست کے خلاف جو زبان استعمال کرتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی یہاں کے ان پڑھ نوجوان جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان کے ذہنوں میں ریاست کا تصور مزید کمزور ہورہا ہے 9مئی کے واقعات نے یہ تو ثابت کردیا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈا کتنا خطرناک ہے لیکن پاکستان کی یوم آزادی پر جو کچھ سڑکوں پر دیکھا گیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے پشاور کے بورڈ بازار میں رات کے وقت افغان شہریوں نے جو نعرے لگائے اور جس ملک کے حق میں نعرے لگائے وہ سن کر تومجھے خوف محسوس ہوا کہ ہم کہاں پر کھڑے ہیں اگر ریاست نے اپنی رٹ بحال کرنی ہے تو ان فتنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا اور افغان شہریوں کو جو پاکستان سے شدید نفرت رکھتے ہیں انہیں فوراً ان کے ملک روانہ کرنا ہوگا ورنہ یہ لاکھوں افغان شہری جو اس وقت پاکستان کے ہر کونے میں موجود ہیں ہمارے لیے کسی دن بہت بڑی تباہی کا باعث بنیں گے ان کی وجہ سے ملک میں تجارتی ، معاشی ، اخلاقی ، قانونی تباہی ہورہی ہے ہر غیر قانونی دھندے میں یہ شریک ہیں اور اب تو کھلے عام پاکستان کے خلاف نعرہ بازی بھی کررہے ہیں یہ ہیں ریاست کے اصل دشمن آپ سوشل میڈیا پر ان کی تعداد دیکھیں جو پاکستان مخالف سوچ رکھتے ہیں آپ کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے ریاست کو اپنی تعلیمی اداروں پر توجہ دینی چائیے ریاست مخالف لوگوں کی مدد کرکے ان کو مزیدطاقتور نہ بنائیں ان کی حوصلہ شکنی کریں ان کو اس ریاست کے قانون کا پاسدار بنائیں افغانستان کے بارڈر بند کردیں وہاں تعینات لوگ چند سو روپے لے کر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں جن لوگوں کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں وہ یہاں خرابی کا باعث بن رہے ہیں نوجوان نسل ہمار ا مستقبل ہیں ان پر سرمایہ کاری کریں ان کی تعلیم و تربیت پر وسائل خرچ کریں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کریں انہیں دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے لیے آزاد نہ چھوڑیں اور ان کو غلط راستوں پر لے جانے والوں کو ان تک رسائی کے لیے وسائل نہ فراہم کریں اس لیے کہ یہ نسل یا ہمیں ترقی کی طرف لے کر جائے گی یا تنزلی کی طرف اور تنزل کی طرف لے جانے والے ترقی کی طرف لے جانے والوں سے مجھے زیادہ سنجیدہ اور مستعد نظر آرہے ہیں ۔

مزید پڑھیں:  ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی