ریاستی رِٹ کی ادھوری حساسیت

فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ میں توہین قرآن کے مبینہ واقعے کو بنیاد بنا کر بلوائیوں نے عیسائی کمونٹی کی بستیوں کو گھیرکر تباہی پھیلادی ۔چھ گرجا گھروں سمیت درجنوں گھر نذر آتش کئے گئے اور سیکڑوںافراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے پہنچ گئے ۔ بہت سی کہانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دو عیسائی بھائی بہن نے قرآن مجید کی توہین کی جس پر حسب روایت مسجد سے اعلانات کرکے عوام کو اشتعا ل دلایا گیا اورہجوم نے پھر انسانی بستیوں پر وہ تباہی برپا کی جو پڑوسی ملک میں ہو تو ہم کئی روز تک بے چین رہتے ہیں اور امن انصاف اور احترام انسانیت کی دُہائی دیتے نہیں تھکتے مگر وہی رقص ابلیس خود ہماری اپنی سوسائٹی میں ہو تو ردعمل اور تکلیف میں وہ شدت نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے ۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جب ہجوم اپنا کام کر رہا تھا تو پولیس خاموش تماشائی بن کر بیٹھی تھی اور ہجوم کو مشتعل کرنے کے لئے کسی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کر رہی تھی ۔اب جبکہ طوفان گزر گیا تو بلوہ کرنے کے الزام میں ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور علاقے میں دفعہ 144نافذ کی گئی ہے ۔جڑانوالہ واقعے کی نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ سمیت کئی اعلیٰ حکام نے رسمی مذمت بھی کی ہے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔عالمی سطح پر اس واقعے پر تبصرے سامنے آئے ہیں ۔عیسائی کمونٹی توہین قرآن کے کسی بھی واقعے کی تردید کر رہی ہے ۔پاکستان کا جو ماحول اور نظام انصاف کی جو دُرگت بنی ہے اس میں کسی یکطرفہ کہانی پر یقین کرنا مشکل ہو کر رہ گیا ہے ۔عین ممکن ہے جس واقعے کو توہین قرآن کا رنگ دیا گیا ہے وہ کوئی انتظامی رقابت ہو کیونکہ جڑانوالہ سے جڑی ایک کہانی یہ بھی گردش کرتی رہی کہ یہاں کا اسسٹنٹ کمشنرعیسائی کمونٹی سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے شہر میں صفائی ستھرائی کا بہترین نظام قائم کر رکھا تھا ممکن ہے یہ صفائی ستھرائی کسی کو پسند نہ آئی ہو ۔ممکن ہے کوئی اس پرکشش پوسٹ پر اپنی تعیناتی کروانا چاہتا ہو ۔اس میں بیرونی ہاتھ کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ابھی چند ہی دن قبل ہم سب منی پور بھارت میں عیسائی کمونٹی کی خواتین کو ہندئووں کی طرف سے برہنہ پریڈ کرائے جانے پر ہلکان ہوتے رہے ہیں ۔اسے بھارت کی شکست وریخت اور سوشل فیبرک کی ٹوٹ پھوٹ سے جوڑتے رہے ہیں ۔بھارت کو برے انجام سے ڈراتے رہے اور منی پور واقعے کو اس کی کثیر الاقومی سوسائٹی کی آخری ہچکیوں میں شمار کرتے رہے۔ابھی ہم ہندوانتہا پسندوں کے ہاتھوں بے لباس ہونے والی عیسائی خواتین کے دکھ اور کرب کا ماتم ہی کر رہے تھے اچانک پاکستان میں بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہوا جس میں گرجا گھروں اور مقدس کتابوں کو جلا یا گیا ۔اور اب بھارت کو طعنہ دینے والے پاکستانی اب خود اپنا دفاع کرتے پھر رہے ہیں کیونکہ جڑانوالہ میں کئی پاکستانیوں کے اندر کا مودی بھی اُبل پڑا ہے ۔پاکستان کا نظام تہہ در تہہ اور پرپیچ ہو گیا ہے ۔اس میں جو چیزیں بظاہر نظر آتی ہیں حقیقت میں وہ ایک رخ ہوتا ہے اصل کہانی تصویر کے پیچھے اور دوسرے رخ پر ہوتی ہے ۔اب آزادانہ تحقیقات کا رواج ہو تو اندازہ ہو کہ حادثہ کیوں ہوا اور اس کے محرکات کیا تھے ۔اس ملک میں بدترین واقعات کی تحقیقات کا رواج نہیں ۔بس بیانیہ بنا کرکام چلایا جاتا ہے اور جس کو رگڑا دینا مقصود ہو اسے شکنجے میں کس دیا جاتا ہے اور اصل منصوبہ ساز اور مجرم دور بیٹھے اس عمل پر ہنستے رہتے ہیں ۔انصاف کا نظام اب اس قدر مضمحل اور کمپرو مائزڈ ہوگیا ہے کہ سزا اور جزا کا عمل بھی اپنی معنویت کھو چکا ہے ۔یہاں کیفیت یہ ہے کہ ”ہیں سنگ وخشت مقید و سگ آزاد”۔جرم کرنے والے آزاد پھرتے ہیں اور جرم بے گناہی کا شکار افراد برسہا برس تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک انارکی کی سی کیفیت ہے ۔انتظامیہ اور پولیس ا ب سیاسی رول نبھاتے ہوئے اس قدر کاہل ہو چکی ہے کہ وہ گھنٹوں توڑ پھوڑ تشدد اور ابلیسی رقص کا نظارہ کرتی ہے اور جب طوفان گزر جائے تو پھر دیواریں پھلانگتی ہے ۔ایف آئی آر درج کرتی ہے ،اصل ملزم نہ ملے تو بھائی باپ اور ماں بہنو ں کو دھرلیتی ہے اور مغلظات کے ذریعے ان کی تواضع کرتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب کوئی ہجوم فساد اور شر پھیلا رہا ہوتاہے تو اس وقت پولیس خاموش تماشائی کیوں بنتی ہے ؟ یہ صرف جڑانوالہ والے واقعہ میں نہیں دیکھا گیا بلکہ نو مئی کے واقعات میں پولیس کے مفقود الخبر ہونے کا سوال اب بھی موجود ہے ۔پولیس لاہور میںگھنٹوں مشتعل ہجوم کے کورکمانڈر ہائوس پہنچنے کا نظارہ کرتی رہی اور جب تباہی ہوگئی تو پھر پھرتیاں شروع ہو گئیں ۔اب جڑانوالہ کے واقعے میں بھی یہی دیکھا گیا ہے ۔اس سے پہلے سیالکوٹ میں ایک سر ی لنکن شہری کے معاملے میں بھی یہی نسخہ آزمایا گیا تھا اور اس وقت بھی ہجوم نے پاکستان کے نام کو مزید بدنام اور یہاں کے نظام انصاف کو مزید بے نقاب کیا تھا ۔اب جڑانوالہ کے اس واقعے کے ذریعے پاکستان اور کو بھارت کو اقلیتوں کے حوالے سے ایک سطح پر لایا گیا ہے ۔پاکستان میں سے قانون کی گرفت ڈھیلی پڑی ہے ہجوم کے انصاف کا یہ بھونڈا انداز رواج پا چکا ہے ۔یہ اسلام کی کونسی خدمت ہے جو رسول خداۖ کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے ہورہی ہے ۔یہ قرآن کی کونسی محبت ہے جو قرآن کی ہدایات کی خلاف ورزی کئے بنا جاگتی نہیں ۔اسلام میں اقلیتوں کا مقدس امانت کا درجہ ہوتا ہے اور ان کے جان ومال عزت وآبرو اور مذہبی شعائر کی حفاظت معاشرے کی اجتماعی اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔اس کے برعکس رویے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔آخر کس نے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے توہین ہوئی ہے یا نہیں ؟یہ حق لاوڈ سپیکر کا ناجائز استعمال کرنے والے کسی فسادی کو دیا جا سکتا ہے نہ مذہبی نعرہ زن ہجوم کو دیا جاسکتا ہے ۔اس ملک میں قوانین موجود ہیں اور عدالتیں بھی قائم ہیں ۔قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی درست طریقہ ہے مگر مقاصد کچھ اور ہوں جن کی تکمیل کے لئے کہانی بنائی گئی ہو تو پھر لٹھ برداری ہی آسان راستہ ہے ۔ہائو ہو اور جذباتیت میں بہت سے حقائق سامنے آنے ہی نہیں پاتے ۔حکومت کو جڑانوالہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرنے کا راستہ اپنانا چاہئے اور اگر پولیس اور انتظامیہ کسی غفلت کی مرتکب ہوئی ہے تو ان سے بھی باز پرس کی جانی چاہئے ۔یہ ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے اور اس بوجھ کے ساتھ مزید چرکوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔یہ ریاست کے ناکام اور دیوالیہ ہونے کے شک کو یقین میں بدلنے کا عمل ہے۔معاشرے میں تیزی سے پنپنے ہوئے یہ رویے انارکی کی علامت ہوتے ہیں ۔ریاست کی رٹ کی حس صرف سیاسی عناد کے وقت جاگ جانے کا رواج عام ہوجائے توپھر بہت سے مظالم گواراا ور قبول ہوجاتے ہیں ۔