وہی دلیل پرانی

مشکل امر یہ ہے کہ ملکی معیشت کی زبوں حالی اور مہنگائی کا جن نہ کسی سیاسی حکومت کے اقدامات پر قابو آسکا اور نہ ہی نگران حکومت سے کسی بھلائی کی توقع ہے نگران حکومت کے ابتدائی دو تین روز میں ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے لمبی چھلانگ لگائی اور اس کے نتیجے میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا دوسری جانب انہی دو تین دنوں میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں سا ت روپے کا اضافہ ہوا جس کی وجہ سے درآمدی خام مال اور تیار مصنوعات کی لاگت میں اضافہ فطری امر تھاپٹرول و ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے اضافے کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کی بڑھتی لاگت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی نے پہلے سے ہی دبائو کے شکار صارفین کو عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔چینی کے ڈیلرز کے مطابق دو روز کے دوران اس کی تھوک قیمت 8 روپے فی کلو اضافے سے 153 روپے کلو ہو گئی جبکہ چینی کی خوردہ قیمت 155-150 روپے فی کلو سے بڑھ کر 160 روپے فی کلو ہوگئی، آن لائن اسٹورز پر اس کی قیمت 170 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ڈالر کے ریٹ میں اتار چڑھائو کے معاملات پیچیدہ اور دسترس سے باہر سہی لیکن چینی کی قیمتوں کو ایسے ہی پر نہیں لگتے بلکہ شوگر مافیا انتہائی منظم طریقے سے منصوبہ بندی کے ساتھ اس کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے بدقسمتی سے ہر دور حکومت میں شوگر مافیایا اس کے نمائندے حکومت کا مضبوط اور موثر گروپ کے طور پرحصہ ہوتے ہیں جن کے خلاف کارروائی نہیں ہو پاتی نگران حکومت نے تو آتے ہی مہنگائی کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور وزیر اطلاعات نے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف بات کہہ دی ہے ان کی بات سے اختلاف ممکن نہیں لیکن دوسری جانب ساتھ ہی حکومت بارے جوعندیے دیئے گئے وہ لفظی سطحی اور کھوکھلے دعوے نظر آتے ہیں ہر دور حکومت میں حکومتی ترجمان کا یہی موقف رہتا ہے آیا ہے مگر عملی طور پر معیشت کی بحالی اور مہنگائی میںکمی کے وعدوں میں ناکامی ہی دیکھی گئی ۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اخراجات کم کرنے کے لئے عملی طور پر کیا اقدامات تجویز کئے گئے اور ان پر عملدرآمد کا آغاز کب ہو گااس کا کچھ علم نہیں معیشت کی بحالی کے لئے کمیٹی کا قیام بھی خوش آئند ہے مگر سوال یہ ہے کہ تین ماہ کے لئے آنے والی حکومت منصوبہ بندی کیا کرے گی اور اس پر عملدرآمد کب ہو گا ایسے میں یہ دعویٰ گنجی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا کا مصداق ٹھہرتا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ نگران حکومت اس طرح کے معاملات بارے دعوے کرنے کی بجائے اپنی اصل ذمہ داری کی ادائیگی پرتوجہ دے اور جوبنیادی کام اس کے ذمے ہے اسی کو پورا کر سکے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔