انتخابات کے انعقادکا معاملہ

پاکستان بار کونسل کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تازہ حلقہ بندیاں کرانے اور انتخابات میں 90دن کی آئینی مدت سے زائد التوا کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اجرا انتخابات ملتوی کرنے کا حربہ ہے اور آئین کا آرٹیکل 224 کمیشن کو اسمبلیوں کی تحلیل کے 90دن کے اندر عام انتخابات کے انعقاد کا پابند کرتا ہے۔نیز یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین میں درج مقررہ وقت کے اندر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔مقررہ مدت کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھتے جارہے ہیں پاکستان بار کونسل کا اس حوالے سے بیان اور قانونی نکات کو سامنے لا کر مقررہ مدت کے اندر انتخابات کے انعقاد کا مطالبہاس امر کا غماز ہے کہ وکلاء برادری کو بھی دوسروں کی طرح اس حوالے سے سخت خدشات ہیں دوسری جانب الیکشن کے انعقاد کے عمل کوایسے بھول بھلیوں میں الجھادیاگیا ہے اور اس کے لئے پہلے ہی میدان تیار کرنے کے لئے ایسے اقدامات کئے گئے کہ اب الیکشن کا بروقت انعقاد گویم مشکل ونگویم مشکل والی بات بنتی جارہی ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ مردم شماری کی منظوری اور نوٹیفکیشن میں غیرضروری تاخیر کے باعث آئینی بحران کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ مردم شماری کے حتمی اعلان اور نوٹیفکیشن کے معاملات 31 مئی تک مکمل کرلئے جانے چاہئیں تھے تاکہ15ستمبر تک نئی حلقہ بندیوں اور اعتراضات کے امور مکمل ہونے پر نومبر کے آخری ہفتے میں انتخابات ہونے کی راہ ہموار ہوتی ۔ اس حساس آئینی معاملے کو نمٹانے کے عمل میں تاخیر کیوں برتی گئی اس کی جوابدہی بہرطور سابق حکومت کے ذمہ داران پر ہی ہے۔مشکل امر یہ ہے کہ دستور کے بنیادی تقاضوں پر ذاتی خواہشات اور مراسم کو ترجیح دینے کی سوچ نے ہی اس ملک میں جمہوری اقدار کو پنپنے دیا نہ ہی نظام میں کوئی استحکام دیکھنے میں آیا۔ یہاں یہ امر ذہن نشین رکھنا ہوگاکہ اس معاملے میں نگران وفاقی کابینہ کوئی فیصلہ کرنے سے اس لئے قاصر ہوگی کہ یہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ نئی حلقہ بندیوں، اعتراضات، دیگر امور اور حتمی نوٹیفکیشن کا جو شیڈول الیکشن کمیشن نے دیا ہے اسے نظرانداز کرنا یقینا مشکل ہوگا۔ البتہ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سے بعض معاصر اخبارات میں بتایاگیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کہے تو حلقہ بندیاں روک کر انتخابات کراسکتے ہیں۔ یہ خبر اگر درست ہے تو اس سے صورتحال مزید واضح ہوجاتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن ازخود حلقہ بندیوں کے عمل کو منجمد کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ حلقہ بندیوں کے عمل کو منجمد کرکے گزشتہ حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کا حکم دے سکتی ہے؟ قانونی ماہرین کی اس ضمن میں دو آرا ہیں ایک حلقہ کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر حکم امتناعی یا اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ نہیں دے سکتی کسی قانون کی تشریح الگ معاملہ ہے آئینی اداروں کے فیصلوں پر عدالتی قدغن سے نہ صرف بحران سنگین ہوگا بلکہ فیڈریشن اور اکائیوں (صوبوں) کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوگی۔ دوسری جانب ہر مرض کی دوا عدالتوں سے لینے کے خواہش مندوں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ حلقہ بندیاں روک سکتی ہے۔ کیسے کیا سپریم کورٹ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو معطل کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟ ہماری دانست میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلہ پر کونسل کے علاوہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہی نظرثانی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ اپنایا گیا کوئی بھی طریقہ کار آئین سے ماورا ہوگا۔ اس امر پر دو آرا نہیں کہ حال ہی میں رخصت ہونے والی حکومت نے مردم شماری کی منظوری اور نوٹیفکیشن کے اجرا میں غیرضروری تاخیر کی سوال یہ ہے کہ کیا اس تاخیر کو جواز بناکر حلقہ بندیوں کے آئینی عمل کو روکا جاسکتا ہے؟ اس حوالے سے کسی بھی ادارے اور عدالت کو بہت سوچ سمجھ کر رائے اور فیصلہ دینا چاہیے اور یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ اس وقت پارلیمان بھی نامکمل ہے۔ قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی سینیٹ گوکہ موجود ہے لیکن محض سینیٹ میں وہ فیصلے نہیں کئے جاسکتے ہم مکرر اس امر کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ نگران حکومت کے پاس پالیسی سازی کے اختیارات نہیں اسی طرح کسی ادارے کو مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان کے اختیارات استعمال کرکے مسائل پیدا کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ سیاستدانوں کی غلطیوں یا منصوبے کے تحت کئے گئے اقدام ہر دو کا بوجھ آئین پر نہیں پڑنا چاہیے۔معاملات آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی آگے بڑھانا ہوں گے تاکہ کسی قسم کی ابتری پیدا نہ ہونے پائے۔ یہ امر اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ انتخابی عمل کے التوا سے مسائل پیدا ہوں گے فی الوقت غور طلب بات یہ ہے کہ کیا نئی حلقہ بندیوں کے عمل کو روک کر انتخابات کرانے کی طرف جانے سے آئینی بحران تو پیدا نہیں ہوگا۔ ثانیا یہ کہ کیا نگران دور میں پالیسی سازی آئین کی روح سے متصادم تو نہیں ہوگی۔ ان امور میں جو بھی ہو آئین سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں:  پل بنا ، چاہ بنا ،مسجد و تالاب بنا