بچوں سے مشقت اور بھیک

مہنگائی بے قابو، بچوں سے مشقت اور بھیک مانگنے میں اضافہ

ویب ڈیسک: مہنگائی میں اضافہ اور ذمہ دار اداروں کی خاموشی کے باعث پشاور میں بچوں سے مشقت لینے میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ پشاور کے بیشتر ٹریفک سنگلز پر بچوں سے بھیک مانگنے میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس پر محکمہ سماجی بہبود اور چائلڈ پروٹیکشن کمیشن نے آنکھیں موند لی ہیں۔ پشاور میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ متعلقہ اداروں کیلئے چیلنج بن چکا ہے۔ شہر بھر کے مختلف جگہوں پر بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے تاہم متعلقہ ادارے اس حوالے سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
شہر کے بازاروں، ورکشاپس، فیکٹریوں، آڈوں اور ریسٹورنٹس پر بچوں سے مشتقت لینے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ متعلقہ حکام اسکی روک تھام کے حوالے سے تاحال کوئی موثر حکمت عملی ترتیب نہ دے سکے، جسکے باعث چائلڈ لیبر کی شرح میں اضافہ ہونے لگا اور غریب بچے سکولوں کی بجائے بڑی تعداد میں محنت و مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
پشاور کے مستری خانوں، ہوٹلوں، بازاروں اور چائے خانوں میں بچوں کی بڑی تعداد مشقت پر مجبور ہے جبکہ بچوں سے بھیک مانگنے میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ بھیک مانگنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:  دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں