استاد کا وزیر اعظم بننا ملک کے لیے نیک شگون ہے

پاکستان کا شمار دنیا کے اہم ترین ممالک میں ہوتا ہے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہے قدرتی وسائل اور سازگار موسم کے حوالے سے دنیا میں اس کا ثانی نہیں ہے اس کا جغرافیائی سیاسی محل وقوع دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے یہاں صاف پینے کے پانی کے ذخائر دنیا کے چند ممالک کو چھوڑ کر سب سے زیادہ ہیں اس ملک کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے دنیا کی بہترین فوج اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مامور ہے اس کے پاس بہترین اور سہولیات سے مزین بندرگاہیں موجود ہیں کئی ایک صنعتی شہر یہاں موجود ہیں ملک میں زراعت کا ایک وسیع سلسلہ موجود ہے دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام یہاں ہے ہم چین افغانستان ایران اور انڈیا سے زمینی راستوں سے منسلک ہیں ہمارے ہر شہر میں ہوائی اڈے موجود ہیں ہمارے ملک کا روڈ نیٹ ورک بھی ایک سے زیادہ راستوں سے پاکستان کے ہر شہر سے منسلک ہے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے موجود ہیں ملک میں اس وقت پی ایچ ڈیز کی تعدادپینتیس ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے ہمارے پاس میڈیکل ڈاکٹر انجینئرز ضرورت سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں ملک کے تمام حصوں میں فون اور انٹرنیٹ تک رسائی موجود ہے یہ تمام اور اس کے علاوہ ہزاروں ایسی سہولیات ہیں جن کے لیے باقی دنیا ابھی ترس رہی ہے اتنا سب کچھ ہمارے پاس ہونے کے باوجود ہم دنیا کی ترقی کی رفتار سے بہت پیچھے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ لیڈرشپ کا نہ ہونا ہے ملک میں موروثی سیاست اور شخصی سیاست کی وجہ سے ملک کو حقیقی لیڈر شپ نہیں مل سکی جو بھی نیا لیڈر آیا ااس نے پچھلے لیڈروں کو بخشوا دیا لیکن اب کے بار ملک میں کچھ نیا ہوا ہے وہ نیا کیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار ایک استاد کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا ہے اور اس کو اعلیٰ ترین ماہرین کی ایک ٹیم وزیر وں کی منتخب کرکے دی گئی ہے جس کی یقیناً تعریف ہونی چائیے پاکستان کے علاوہ بھی دنیا کے کئی ایک ممالک میں استاد کو بطور ملک کے سربراہ کے چنا گیا یا بنایا گیا ان کے ادوار میں ان ملکوں نے زیادہ ترقی کی ہے اس کی چند ایک مثالیں دیکھ لیں امریکہ کے صدر جان ایڈمز،جون کیونسی ایڈمز، ملررڈفیلمور، جیمز گریفیلڈ،گرورکیمولینڈ،چیسٹر ایلن ارتھر، ولیم ہاورڈ، ورڈرو ولسن ،و لیڈن بی جانسن، روزویلیٹ ، بل کلنٹن، بارک اوبامہ ، انڈیا کے ڈاکٹر سروا پیلی رادہ کرشن،منموہن سنگھ، کینڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ،فرانس کے صدر جان مارک ایورالٹ ، بلجیم کے وزیر اعظم ہر من وان اومھپے،ائیوری کوسٹ کے صدر لورنٹ گاباگو،ٹرینی ڈاڈ اینڈٹوبیگو کے صدر ایریک ولیمزیہ فہرست بہت طویل ہے ان سربراہاں کی تعداد سینکڑوں ہے جو استاد تھے ان کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور دی گئی اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ دوسروں سے بہتر انداز میں ملک چلا سکتے ہیں اس کے بہتری کے لیے منصوبہ بندی کرسکتے ہیں دنیا سے بہتر تعلقات رکھ سکتے ہیں وہ تمیز اور طریقے سے بات کرنا کا ہنر جانتے ہیں خالی خولی نعرہ بازی اور جذباتی بیانات سے گریز کرتے ہیں وہ دلیل اور علم سے بات کرتے ہیں وہ پڑھ سکتے ہیں سمجھ سکتے ہیں اور سمجھا سکتے ہیں جس کی کمی ہمارے گزشتہ ادوار کے وزرائے اعظم میں شدت سے محسوس کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا چند دن کے اندر اندر ملک کے بہترین اشخاص کا انتخاب کرکے ان کو نگران حکومت میں شامل کیا گیا اس کا مطلب ہے کہ نیت صاف ہے اور پاکستان کی ترقی مقصود ہے نگران وزراء کی صلاحیت اور قابلیت میں کوئی شک اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ سب افراد اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین ہیں ان کا کوئی کانفلیکیٹ آف انٹرسٹ نہیں ہے وزیر خارجہ گزشتہ چار دہائیوں سے امریکہ ،یورپی یونین ،اقوام متحدہ اور دس سے زیادہ ملکوں میں سفارت کاری کا تجربہ رکھتے ہیں ، وزیر خزانہ سٹیٹ بنک کی سربراہ رہنے کے علاوہ ورلڈ بنک کے کلیدی عہدے پر فائز رہی ہیں اور انہوں نے آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا ہوا ہے ، وزیر صحت اپنے شعبہ کے بہترین دماغوں میں سے ایک ہیں دیگر وزرا ء بھی تجربہ اور اپنے اپنے شعبوں میں قابل فخر نام کے حامل ہیں یہ کام پاکستان میں اس سے پہلے نہیں ہوا یہاں رشتہ داروں کو نواز گیا یار دوستوں کو عہدے دئیے گئے فرنٹ مینوں کو وزیر بنایاگیا پہلی مرتبہ معیار اور کارکردگی اور صلاحیت کی بنیاد پر لوگوں کو اقتدار کے ایوانوںمیں لایا گیا ہے اس کا مطلب ہے سب سے پہلے پاکستان ہے اور اب کی ترقی مقصود ہے ، نگران وزیر اعظم انورالحق کاکڑ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پٹھان ہیں ان کا نام جب سامنے آیا تو موروثی سیاست دانوں نے واویلہ مچانا شروع کردیا بلوچستان کے سرداروں نے تو باقاعدہ پریس کانفرنس کر دیں کہ یہ تو سردار نہیں ہے اس کو کیسے وزیر اعظم بنایا گیا یعنی ان کے نزدیک بلوچستان میں انسان صرف سردار ہیں باقی تو ان کے غلام ہیں بھلا غلاموں کو بھی کوئی حکومت دیتا ہے یہی نہیں قوم پرست جماعتوں کو ان کی تعیناتی پسند نہیں آئی ہمارے صوبہ کی ایک قوم پرست جماعت کے سربراہ نے بھی پریس کانفرنس کر ڈالی حالانکہ ان کو خوش ہونا چائیے تھا کہ ان کا ایک پشتون بھائی پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا ہے لیکن ان کو یہ کہاں ہضم ہوتا ہے کہ ایک پڑھا لکھا استاد بندہ اور وہ بھی ایک پشتون ملک کا سربراہ بنے گا وہ تو ایک سرمایہ دار یا جاگیر دار کو وزیر اعظم بنوا کر اپنے موروثی سیاست کو دوام بخشیں گے یہ ملک کے لیے ایک نیک شگون ہے کہ استاد کو ملک چلانے پر مامور کیا گیا ہے مگر اس سے امید کی ایک کرن تعلیمی اداروں میں بھی پھوٹ پڑی ہے کہ اب ان میں سے ایک بندہ جو درون خانہ مسائل سے آگاہ ہے اور تعلیم کی ضرورت اور اہمیت سے بھی کما حقہ واقف ہیں فیصلہ سازی کی مسند پر براجمان ہیں وہ یقیناً تعلیم اور تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل نکالیں گے اور ملک کی وسیع تر مفاد میں اس کی تعلیمی ڈھانچے کی تشکیل نو کرنے کا آغاز کریں گے اس شعبہ پر قبضہ گروپ سے اس کی جان چھڑائیں گے اور اس کو کاروبار بنانے سے بچائیں گے وہ چونکہ ملکی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ باہر کے تعلیمی اداروں سے بھی پڑھے ہوئے ہیں اس لیے وہ ان جدید تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جو تعلیم کے میدان میں پاکستان کو بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں گزشتہ شخصی اور موروثی سیاست دانوں نے سب سے زیادہ شعبہ تعلیم کے ساتھ زیادتی کی ہے اور اس کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس لیے استاد وزیر اعظم اگر اسے واپس اپنے ٹریک پر نہیں ڈالیں گے تو شاید پھر کوئی دوسرا ایسا نہ کرسکے ان کے پاس بہترین لوگوں کی ٹیم ہے جس میں تعلیم کے شعبہ کے بہترین دماغوں کو شامل کرکے اس کا حل نکالا جاسکتا ہے غیر ضروری اخراجات سے کچھ مالی وسائل نکال کر اس شعبہ پر سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کو تعلیم کے شعبہ سے مربوط کرکے بھی یہاں بے روزگاری کاخاتمہ ممکن ہے اس وقت ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے استاد وزیر اعظم سیاسیات ، عالمی سیاسیات اور حکمت عملی کی عملی تعلیم اور پڑھانے کا تجربہ لے کر آئے ہیں اس لیے وہ ہماری عالمی سطح پر تنہائی دور کرنے اور ملکی سطح پر تنازعات کو ختم کرنے میں اپنے علم اور تجربہ کو استعمال کریں گے اگر وہ بہتری لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر پاکستان یقیناً موروثی سیاسی نظام اور سیٹھوں کی چنگل سے نکال جائے گا اور اپنے وسائل کو استعمال میں لاکر دنیا کی ترقی کی دوڑ میں شریک ہوسکے گا اس لیے ان کی کامیابی بہت ضروری ہے اگر وہ کامیاب نہیں ہوتے تو گزشتہ آزمائے ہوئے اپنے باری کا انتظار کرنے والے سرمایہ دار وڈیرے ،سردار ،کارخانہ دار اور رئیل اسٹیٹ کے ساہوکار پھر سے اس دھرتی کو مزید لوٹنے کے لیے کمر کس لیں گے اس لیے ہماری دعا ہے کہ استاد کامیاب ہو اور ملک کا اقتصادی نظام چل پڑے بیرونی قرضوں کا دباؤ کم ہو ملکی وسائل اس کی ترقی پر خرچ ہوں یہاں پانی ، بجلی ، خوراک ،صحت اور تعلیم کے مسائل حل ہوں اور لوگ یہاں سے ہجرت کرنے کی جگہ یہاں بسنے کا خواب دیکھیں لوگ یہاں سیاحت کی غرض سے آئیں سرمایہ کاری کی غرض سے آئیں کہتے ہیں انسان ظاہر کو دیکھ کر مستقبل کے بارے میں رائے قائم کرتاہے تو ظاہری طور پر نیت بھی صاف لگ رہی ہے اور افراد کا انتخاب بھی بہترین ہے اب اگلا مرحلہ ان بہترین افراد کو ماحول فراہم کرنا ہے جس میں یہ آزادی کے ساتھ ملک کے بہتری میں فیصلے کر سکیں اور کام کرسکیں اس لیے انتظامی امور میں ملک کی بیوروکریسی کو ان کا مکمل ساتھ دینا چائیے تاکہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے اور عوام الناس کو بھی چائیے کہ غیر ضروری شخصیت پرستی ، قوم پرستی اور ذاتی مفاد پرستی سے نکل کر پاکستان کے بارے میں سوچیں اور دامے درمے سخنے اس تعلیم یافتہ تجربہ کار اور باصلاحیت نگران حکومت کا ساتھ دیں تاکہ ہم ان بحرانوں سے نکلیں اس لیے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر بہت دیر ہوجائے گی ۔