پرنسپل سیکرٹری صدر مملکت

بل تنازع، سبکدوش پرنسپل سیکرٹری نے بھی صدر مملکت کو ذمہ دار قرار دے دیا

ویب ڈیسک: سبکدوش پرنسپل سیکرٹری وقار احمد نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ نہ میں نے بلز کے معاملے میں تاخیر کی، نہ بے قاعدگی، نہ صرف نظر کیا۔ اپنے خط میں وقار احمد نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فائلز ابھی بھی صدارتی چیمبر میں موجود ہیں، صدر کا سیکرٹری کی خدمات واپس کرنے کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں۔ وقار احمد نے مزید کہا کہ صدر نے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر کوئی تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا۔ صدر مملکت نے میری خدمات واپس کر دیں لیکن میں حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ تاثر دیا گیا کہ سیکرٹری مذکورہ بلوں سے متعلق کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار ہے جبکہ صدر مملکت نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی نہ منظوری دی نہ تحریری طور پر واپس پارلیمنٹ بھیجنے کو کہا۔ مذکورہ فائل 21 اگست تک سیکرٹری کے آفس میں واپس نہیں بھجوائی گئی۔ وقار احمد نے اپنے خط میں مزید کہا کہ صدر سے درخواست کرتا ہوں کہ ایف آئی اے یا کسی بھی ایجنسی سے تحقیقات کروا لیں، انکوائری کروا کر اگر کسی نے کوتاہی کی ہے تو ذمہ داری ڈالی جائے۔ اگر سپریم کورٹ یا کسی عدالت نے بلایا تو میں ریکارڈ کے ساتھ جا کر حقائق بتاوں گا۔ خط میں کہا گیا کہ میں ریکارڈ پیش کر کے اپنی بے گناہی ثابت کروں گا۔
میں نے ایوان صدر کے دفتر کے وقار کو کم نہیں کیا۔ اس میں کہا گیا کہ آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 8 اگست کی شام آفس بند ہونے کے بعد ایوان صدر کو موصول ہوا۔ آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 9 اگست کو صدر مملکت کو بھجوایا گیا، صدر مملکت ان دونوں بلز پر حقائق اچھی طرح جانتے ہیں، میں حلف پر بیان دینے کو تیار ہوں۔ وقار احمد نے یہ بھی لکھا کہ صدر مملکت سے درخواست ہے کہ میری خدمات واپس کرنے کا خط واپس لیں۔ وقار احمد نے کہا کہ آرٹیکل 75 کے تناطر میں صدر کو بل کی 10 دن کے اندر منظوری دینے کا اختیار ہوتا ہے، آرٹیکل 75 کے تحت صدر کو بل 10 دن کے اندر واپس پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کیلئے بھجوانے کا اختیار ہے۔

مزید پڑھیں:  9 اور 10 محرم الحرام کو بی آر ٹی سروس بند رکھنے کا فیصلہ