جنگلات کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلیاں

سٹی مجسٹریٹ سوات کی جانب سے ضلع سوات میں جنگلات اور درختوں کی غیرقانونی کٹائی ‘ نجی اورپروٹیکٹڈ ایریا میں”چین سا” اور دیگر آلات کے استعمال پر دفعہ 144 ضائطہ فوجداری کے تحت دو ماہ کے لئے مکمل پابندی عائد کئے جانے کے اقدام کو وقتی ریلیف قراردینے کے سوااور کچھ بھی نہیں سمجھا جا سکتا ‘ گویا اسے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈنگ ٹپائو ا قدام ہی قرار دیا جاسکتا ہے ‘بدقسمتی سے صوبے کے بالائی علاقوں میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی ایک عرصے سے جاری ہے ‘ جس میں متعلقہ سرکاری حکام سے لے کر جنگلات کی حفاظتی گشت پرمامور عملے کی تلویث کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا ‘ دنیابھرمیں جنگلات کی پرداخت اورکٹائی کے حوالے سے جوقوانین رائج ہیں ‘ ان کے مطابق ایک درخت کاٹے جانے کے بعد اسی مقام پر سولہ پودے لگا کر اس کمی کو پورا کرنے پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ سولہ پودے تمام کے تمام ترتناور درخت نہیں بن سکتے ‘ بلکہ موسمی شدائدکی وجہ سے کچھ سڑ جاتے ہیں اور کچھ مشکل ہی سے پرداخت کے عمل سے گزرتے ہوئے کئی سال بعد تناور درختوں میں تبدیل ہوتے ہیں ‘ جبکہ ہمارے ہاں”ٹمبر مافیا” کی کارستانیاں کسی سے پوشیدہ امر نہیں ہیں ‘ یہ لوگ دس بیس یاسوپچاس درختوں کی کٹائی کے پرمٹ حاصل کرکے ہزاروںدرخت کاٹ کرچوری کرلیتے ہیں مگر وہاں پودے لگانے کی بجائے مزید درختوں کو مبینہ طور پرآگ لگا دیتے ہیں جس سے بھاری نقصان ہوتا ہے ٹمبر مافیا اور ان کے ”سہولت کار”اپنی جیبیں تو بھرلیتے ہیں جبکہ جنگلات کوبے پناہ نقصان پہنچانے کے اس عمل سے ماحولیات کو جس شدید اندازسے متاثر کیا جاتا ہے اس سے نہ صرف موسمی تغیر وتبدل سے ماحولیات کونقصان ہوتا ہے ‘ بلکہ زمینی کٹائو کی وجہ سے بارشیںکم ہونے سے بھی جنگلی حیات اور انسان متاثر ہوتے ہیں ‘ اس حوالے سے ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ صوبے میں گزشتہ تحریک انصاف حکومت کے نو سالہ مجموعی دور میں ملین ٹری سونامی اور پھربلین ٹری کے نام سے درختوں کواگانے پر جو اربوں روپے صوبائی خزانے سے خرچ کئے گئے اس پرسوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں مگراس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے ہی نہیں دی گئیںجبکہ ان منصوبوں کے مثبت نتائج اب تک سامنے نہیں آسکے ‘ اب ایسی صورتحال میں درختوں کی کٹائی پر صرف دو ماہ کی پابندی لگانے سے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی صرف احکامات تک ہی محدود ہیں یعنی ”چوردروازوں” سے پس پردہ کٹائی کا عمل مبینہ طور پر جاری رہتا ہے جو ملک کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے ‘س لئے نہ صرف وقتی پابندی کی بجائے زیادہ مدت کیلئے پابندی لگنی چاہئے بلکہ جنگل چوروں پر سخت ہاتھ ڈالنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ جنگلات کی تباہی روکی جا سکے۔

مزید پڑھیں:  پل بنا ، چاہ بنا ،مسجد و تالاب بنا