انتخابات کی حتمی تاریخ پر اٹھتے سوال

پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد محولہ دونوں صوبوں میں دوبارہ انتخابات پرطویل سیاسی اورعدالتی محاذ آرائی اور پنجاب میں چیف جسٹس عمرعطاء بندیال اوران کی سربراہی میں قائم عدالتی بنچ کی جانب سے حتمی تاریخ دیئے جانے کے باوجود جس طرح اس معاملے کو قانونی موشگافیوںکی نذر کرتے ہوئے طول دیاگیا ‘ اس سے قطع نظر ایسا لگتا ہے کہ اب ملک بھر میں قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوںکے انتخابات پربھی اتفاق رائے میںقدغنیںآڑے آرہی ہیں،ایک طبقہ آئینی تقاضوںکے تحت اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر اندر انتخابات پر زور دے رہا ہے جبکہ اس حوالے سے ایک اور طبقہ آئین ہی کے تحت نئی حلقہ بندیوں کی تکمیل تک الیکشن کو التواء میں ڈالنے پر مصر ہے ‘حالیہ دنوں میں ایک قانونی ترمیم کے بعد اب انتخابات کے لئے حتمی تاریخ دینے کا اختیار چیف الیکشن کمشنر کو دے دیا گیا ہے جبکہ ایک سابقہ آئینی شق کی رو سے صدرمملکت نے چیف الیکشن کمشنر کوخط لکھ کر انتخابات کی تاریخ طے کرنے کیلئے ملاقات کی دعوت دے دی ہے اور ان سطور کے شائع ہونے تک ممکن ہے کہ اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آچکی ہو’ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے بھی آج مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مراسلے بھیج کر انتخابات کے حوالے سے گفت و شنید کے لئے مدعو کرلیا ہے ‘ساتھ ہی صدر مملکت کے خط کے حوالے سے ایک اہم اجلاس بھی طلب کرکے صدرمملکت کے خط اور انتخابات کی تاریخ پرآئینی اورقانونی پہلوئوں کا جائزہ لینے کاعندیہ دیا ہے اس حوالے سے بھی شاید ان سطور کے چھپنے تک صورتحال واضح ہوچکی ہو’یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ انتخابات کی حتمی تاریخ پرایک بارپھر صورتحال گنجلک ہونے کے امکانات ہیں ‘ اور عین ممکن ہے کہ اس سلسلے میں آخری فیصلے کیلئے عدالتوں ہی کارخ کرنا پڑے ‘ اس سلسلے میں صرف تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی یکسو نظر آتی ہیں اور وہ آئینی تقاضے کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے دن سے 90 روز کے اندر الیکشن چاہتی ہیں ‘ تاہم کچھ سیاسی حلقے آئین ہی کے تحت انتخابات سے پہلے نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کو لازمی قرار دے کر چارہ ماہ تک انتظارکامشورہ در رہے ہیں،البتہ بعض باخبرسیاسی حلقے اس بات کاخدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ انتخابات چارماہ بعد بھی ممکن نظر نہیں آتے وہ کن حقائق اور دلائل کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے جبکہ اس ساری صورتحال میں ایک اہم نکتہ بھی زیر غور لانا ضروری ہے کہ مارچ کے وسط میں سینیٹ کی آدھی نشستیں خالی ہونے اور ان پر نئے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے ایک اور آئینی بحران منہ کھولے سامنے آسکتا ہے اس بحران سے نمٹنے کیلئے کیا کیاجائے گا؟ ‘ اس کا سوال آئینی ماہرین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  سابق وزراء کے اعترافی بیانات