دہشت گردوں سے نمٹنے کے عزائم

نگران وزیر ا عظم انوار الحق کاکڑ نے خود کش حملہ آوروں کے حوالے سے انتہائی سخت ریمارکس دیتے ہوئے انہیں جہنم کے کتوں سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ ہم ان سے نہیں ڈرتے ‘ انہوں نے کہا کہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ‘ جو سمجھتے ہیں کہ ہم جنگ سے تھک گئے ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں ‘ شہداء کی قربانیوں کو بھولیں گے نہ ان کی حرمت پر آنچ آنے دیں گے ‘ معصوم لوگوں کی جانیں لینے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی ‘ ادھر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقے شیروانگی کے دورے کے موضع پر سیکورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے بعد واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ‘ انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا ریاست کے سامنے سرنڈر کرنا ہو گا ‘ پاکستان میں مکمل امن و استحکام واپس آئے گا ‘ آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افسروں اور جوانوں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گرد ایک بارپھر فعال ہوگئے ہیں جن کے حوالے سے یہ اطلاعات اب کوئی پوشیدہ امر نہیں رہیں کہ یہ لوگ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیاں آپریٹ کر رہے ہیں ‘ اور انہیں افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کی سرپرستی اور آشیر باد حاصل ہے ‘ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ان کے پاس اب وہ جدید اسلحہ موجود ہے جو امریکی افواج افغانستان سے انخلاء کے وقت بھاری مقدار میں چھو ڑ گئی ہیں اور جن پر طالبان انتظامیہ نے قبضہ کر لیا تھا ‘ اگرچہ افغانستان کی طالبان انتظامیہ نے اس قسم کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ محولہ دہشت گردوں کی سرپرستی میں ملوث ہیں ‘ تاہم پاکستان کے سخت مؤقف کے بعد افغان حکام نے بہ امر مجبوری افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تحریک طالبان کو تنبیہ کی ہے کہ ان کی سرگرمیاں اسلامی جہاد کے اصول و ضوابط کے خلاف ہیں اور جو بھی ان حملوں میں ملوث ہو کر موت کو گلے لگائے گا اسے شہید کا درجہ حاصل نہیں ہو گا ‘ ادھر پاکستان میں علمائے دین نے جن کا تعلق مختلف مکتبہ ہائے فکر اور مسالک سے ہے ‘چند رو ز پہلے مولانا طاہر اشرفی کی سربراہی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہایت دو ٹوک ا لفاظ میں پاکستان میں حملوں ‘ مساجد و مکاتب اور دیگر عمارتوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے ‘ بے گناہ مسلمانوں کے خون ناحق سے ہاتھ رنگنے اور خود کش حملے کرنے والوں کو خوارج قرار دیا تھا ‘ جس کے بعد بہ امر مجبوری افغان عہدیداروں نے بھی محولہ بالا بیان جاری کیا’ کیونکہ انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس پاکستان کے سخت مؤقف کی وجہ سے ہو چکا تھا اور وہ پاکستان کے سخت لہجے میں چھپے افغان انتظامیہ پر ظاہر کرنے والی ناراضگی کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہو چکے تھے ‘ ان کے پاس اس بات کا کوئی معقول جواز اور جواب نہیں تھا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لئے لانچنگ پیڈ کے طور پراستعمال کرنے والی تحریک طالبان کے اہلکاروں کے پاس جدید ترین اسلحہ کہاں سے آیا ‘ جس میں جدید ہتھیار ‘ گولہ بارود اور اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی عینکیں شامل ہیں ‘ اور انہی کو وہ نہ صرف پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ عام بے گناہ افراد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بھی بروئے کارلا کر اسلامی اصولوں کی نفی کرتے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی علمائے کرام نے متفقہ طور پر ان سرگرمیوں میں ملوث دہشت گردوں کو اسلام کے دائرے سے خارج قرار دے کر ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں کو جائز قرار دیا ہے ‘ جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے ان عناصر پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی قوم ان خوراج سے نہیں ڈرتی اور ان میں لمبے عرصے تک لڑنے کی سکت نہ رکھنے کے حوالے سے بالکل واضح پیغام دے دیا ہے کہ غدر مچانے والے خارجیوں کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے ‘ انہیں مزید معصوم لوگوں کی جانیں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ‘ جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی ان پر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار جس ملک دشمن ایجنڈے پرعمل پیرا ہیں ‘ ان کوپاکستان میں امن سے کھل کر کھیلنے کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی ‘ اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کوبلاآخر ہتھیار ڈالنے ہی پڑیں گے ‘ سول اور ملٹری رہنمائوں کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے کے پیچھے عوام کی وہ غیر متزلزل قوت کار فرما ہے جووہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے حوالے سے عزم بالجزم کے طور پر ہمیشہ سے اختیار کئے ہوئے ہے پاکستانی عوام دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بالخصوص افواج پاکستان اور دیگر سیکورٹی اداروں کے کردار پر ہمیشہ سے فخر رہاہے اور انہیں یقین ہے کہ عوام اور سیکورٹی ادارے مل کر بلآخر دہشت گردی کی بیخ کنی میں کامیاب ہو جائیں گے۔