یاران تیز گام نے منزل کو جالیا

چندرما آدھا ہے، رات آدھی ‘رہ نہ جائے تیری میری بات آدھی ، ملاقات آدھی،آپ نے یہ خوبصورت گیت یقینا سن رکھا ہو گا ‘ صورتحال کچھ اسی کے مطابق دکھائی دیتی ہے، وہ جوصدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لئے ملاقات کی دعوت دی تھی اسے مسترد کرتے ہوئے مکتوب الیہ نے مکتوب نگار پر واضح کر دیا ہے کہ قوانین میں ترمیم کے بعد آرٹیکل 48 (5)کے تحت صدر الیکشن کمشنر کو خط لکھنے کے مجاز نہیں ہیں’ تا ہم اچھا ہے کے صدر نے مرزا غالب کے تتبع میں ایک اور خط نہیں لکھا یعنی وہ جو مرزا نے کہا تھا ناں کہ
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
اور خط کا جواب ملنے پر صدر نے وزارت قانون سے رائے طلب کرلی ہے، یوں نہ صرف بات رہ گئی ہے بلکہ ملاقات بھی آدھی ہی محدود ہوگئی ہے۔ خط کو قدیم دور سے ہی آدھی ملاقات سے تشبیہ دیا جاتا ہے، مسئلہ مگر کچھ اور بھی ہے اسی لئے ہم نے کالم کے آغاز میں چندرما والے گیت کونقل کیا تھا اور وہ یہ ہے کہ بقول ایک شاعر
یا ران تیز گام نے منزل کو جا لیا
ہم محونالہ جرس کارواں رہے
ہمارا اشارہ اسی جانب ہے جس کے بارے میں آپ کے ذہن میں بھی سوچ ابھر سکتی ہے جبکہ عین ممکن ہے آپ یہی کچھ سوچ رہے ہیں ۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی یہ طے نہیں کرسکے کہ الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ جہاں تک نالہ جرس کا رواں کی بات ہے تو ہمیں مرحوم بھٹو نے ”جرس سے ابھرنے والی ٹن ٹن کو ” گھاس” قرار دے کر اس گھنٹی کو بلی کے گلے میں ڈالنے پر لگا کر ہمسائے سے مقابلہ کرنے پر اکسا دیا تھا، تب تو ہوش و خرد سے بے نیاز ہو کر ہم نے جوش و جذبے میںپناہ ڈھونڈ لی تھی مگر اس وقت کے فیصلے کے ممکنہ نتائج سے بے خبر ہو کر پاکستان مخالف قوتوں کو جس طرح ہم نے اپنے پیچھے لگادیا تھا اس کے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں اور واقعی صورتحال گھاس کھانے کی کیفیت سے ہمیں سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ دنیا کسی اسلامی ملک کے ایٹمی قوت بننے کے ”خطرے”کو بھلا کب برداشت کرنے کو تیار تھی اور ہمارے گرد سازشوں کے جال پھیلائے جاتے رہے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس طرح ہمارے ہمسائے میں گرم پانی تک پہنچنے کے سوال پرایک نام نہاد جہاد کی جڑیں استوار کرتے ہوئے ایک تیرسے دو شکار کرنے کی راہ ہموار کی گئی ‘ یعنی سابق سوویت یونین کو بھی نہایت چالاکی سے افغانستان میں جنگ پر آمادہ کیاگیا اور دوسری جانب اسی نام نہاد جہاد کی کوکھ سے ”دہشت گردی”برآمد کرکے ہمارے گرد سازش کے تانے بانے بنے گئے اور ہمیں اقتصادی کجھ رویوں میں مبتلا کرکے ہماری ترقی کی راہیں مسدود کرنے کی حکمت عملی پرکچھ اس انداز سے عمل درآمد کیا گیا کہ 2018ء میں آئی ایم ایف کو ”گڈ بائی” کہہ کر اس سے جان چھڑانے کو ایک اور ”گستاخی” قرار دیتے ہوئے جبکہ سی پیک کو ایک اور ”جرم” سمجھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باہمی ملاپ سے ہم پر ایسی حکومت مسلط کی گئی جس نے ایک جانب مسئلہ کشمیرکادھڑن تختہ کرنے کے لئے وائٹ ہائوس کے اندر سودے بازی کی ‘ سی پیک کو ”لگام ڈالنے” کی سازش کو پروان چڑھایا اور ملک کو”اقتصادی سقوط” کی راہ پر گامزن کرکے ایک ایسی صورتحال سے دو چار کیا کہ 70ء کی دہائی میں ”گھاس کھانے” کے جن فلسفے پر ہمیں گامزن کیاگیاتھا آج واقعی ہم گھاس کھانے بلکہ اس سے بھی آگے کی کسی خطرناک منزل کوچھونے لگے ہیں۔ آئی ایم ایف کے آہنی شکنجے نے ہمیں ایک بار پھر کچھ ایسی کیفیت سے ہمیںجکڑ کر ہماری چیخیں نکلوانا شروع کردی ہیں کہ ہماری آہ و بکا سننے کو بھی کوئی تیار نہیں ‘ اب ہماری جان ان طلمساتی کہانیوں کے دیو کی مانند ہے جس کی جان میں دیو کی جان ہوتی ہے اور ”شکاری” اس کی گردن مروڑ کر دیو کی جان لے لیتا ہے ‘ ہم نے جس طرح بلا سوچے سمجھے بڑی طاقتوں کے ساتھ”پنگا” لینے کی غلطی کی اب ہمارے گرد”سازشی تھیوریوں” کے اندر سے یہی صدائیں آرہی ہیں کہ
تو منکر روز مکافات عمل تھا
لے دیکھ ترا عرصہ محشر بھی یہی ہے
کیا جاپان دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے بڑے خوبصورت ‘ آباد اور خوشحال شہروں میں آباد لاتعداد انسانی جانوں کی ایٹمی دھماکوں میں دی جانے والی قربانی کے بعد ایٹمی قوت بننے کی راہ پرگامزن نہیں ہو سکتا تھا؟ مگر اس کی سیاسی قیادت نے اس وقت جذبات سے مغلوب ہوکرکسی ایسی سوچ کوقریب بھی نہ بھٹکنے دیاجس سے اس کا مستقبل تاریک ہونے کے امکانات روشن ہوجاتے ‘ اس کی قیادت نے ”بم” بننے کا فیصلہ کیا مگر اقتصادی بم بن کر خود کو دنیا کے لئے ایک ناقابل تسخیر چیلنج بنا کر رکھ دیا ‘ اور ثابت کیا کہ
میں نے چپ رہ کے سلیقے سے پلٹ دی بازی
اس نے سوچا تھا ‘ بڑی دیر تماشا ہوگا
وہ جن کی تقلید میں ہم نے ”گھاس کھانے” کا فلسفہ تراشا ‘ آج وہ چند اماموں کے سر پر سوار ہو کر دنیا کے لئے ایک مثال بن چکا ہے ‘ اور ہماری مثال اس گیت کے ”منے” کی سی ہے جس کے لئے چاند دور بہت دور صرف رونی کا ایک ہالہ ہے
چندا ماما دور کے ‘ کھوئے پکائے بور کے
آپ کھاتیں تھالی میں’ منے کودے پیالی میں
وہاں عام انتخابات برسر اقتدار جماعت کے تحت ہی منعقد ہوتے ہیں مخالف جماعتوں کو اس پر کوئی عتراض نہیں ہوتا کہ وہاں الیکشن کمیشن اس قدر طاقتور ‘ آزاد اور خود مختار ہے کہ اس کے کام میں مضبوط سے مضبوط سیاسی جماعت مداخلت کی جرأت نہیں کر سکتی جبکہ ہم ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار ہوتے ہیں نہ ہی ماضی میں الیکشن کمیشن کی”کمزوری ‘ بے توقیری اور غیر جانبداری” کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب تلاش کرنے میں ہم کامیاب ہو سکے ‘ جھرلو ‘بیلٹ بکس چرانے ‘ زور زبردستی ووٹوں کی پرچیوں پر ٹھپے لگانے کے بعد آخری حربے کے طور پر آرٹی ایس کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ‘ جن کے ”من مانے” نتائج نے عالمی سطح پر ہماری ساکھ کوجس طرح متاثر کیا ہے اس کے بعد ہم بھلا چاند پر پہنچنے کی سوچ کہاں اپنا سکتے ہیں ‘ کہ ہم تو اس قسم کے گیت ہی تخلیق کر سکتے ہیں کہ
چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے
ملنے کوآئے تھے ہم بھی حضور سے
٭٭٭٭٭

مزید پڑھیں:  پل بنا ، چاہ بنا ،مسجد و تالاب بنا