سرکاری افسران کا قبلہ ہی تو درست نہیں ہوتا

خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے سرکاری افسروں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دبا میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ایک ایسی انتظامیہ کی تشکیل دینے کے لیے حکومت کے عزم کاا ظہار کیا جو شفافیت، احتساب اور عوام کے بہترین مفادات کو ترجیح دیتی ہو۔ قائد کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”یہ سرکاری ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتہائی لگن، دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ کام کریں۔ انہیں بغیر کسی تعصب، خوف یا احسان کے قوم کی خدمت کرنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے افسران پر زور دیا کہ وہ معاملات خاص طور پر مالی امور، پوسٹنگ ٹرانسفر اور جنرل ایڈمنسٹریشن سے متعلق اقدامات میں شفافیت لائیں۔نگران وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ غیر مجاز افراد اور افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں اور اس ضمن میں تعمیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو جلد پیش کی جائے۔نگران وزیر اعلیٰ ایک طویل اور کامیاب رہنے والے بیورو کریٹ رہ چکے ہیں سرکاری امور اور خاص طور پر سرکاری ا فسران کے کردار وعمل سے ان کی واقفیت اور آگاہی ان سے جس کردار و عمل کا متقاضی ہے اگرچہ انہوں نے اس حوالے سے سرکاری افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عندیہ ضروردیا ہے اور ایک لائحہ عمل بھی دیا ہے لیکن اس امر کا یقین کرنا مشکل ہوگاکہ اس پرعملدرآمدبھی ہو مشکل امر ہی یہ ہے کہ سرکاری افسران تمام تر سہولیات اور مراعات لینے کے باوجود عوام کی خدمت اور سرکاری فرائض جانفشانی اور تندہی سے انجام دینے کی سعی نہیں کرتے کوتاہی اور غلط فیصلوں کی گنجائش بہرحال رہتی ہے لیکن جب بیورو کریسی کام کرنے پر ہی تیار نہ ہو۔ بدعنوانی اور ملی بھگت کی لعنت سے پاک نہ ہو مستزاد جب وسائل کی کمی اور مشکلات پہاڑ جتنے ہوں تو صورتحال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے نگران وزیر اعلیٰ کا اب تک کا دور کوئی مثالی نہیں رہا اور نہ ہی عارضی حکومت سے اس کی توقع رکھی جاسکتی ہے اس کے باوجود نگران وزیر اعلیٰ چاہیں تو اپنی ہدایات اور احکامات پر موثر طور پر عملدرآمد پر توجہ دیں اور اپنے تجربے کو بروئے کار لائیں تو بڑی حد تک بیورو کریسی کی ا صلاح ہو سکتی ہے اور ان کو ایسے امور سے روکا جاسکتا ہے جو قانون کے برعکس ہوں اور بیورو کریسی مختلف حیلے بہانوں اور طریقوں سے ان کو بروئے کارلاتی آئی ہے۔