پاکستان میں پے پال اور گوگل پے کا نہ ہونا

دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے یعنی اب دنیا کا کوئی ملک دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی ملک تمام وسائل میں خود کفیل ہے دنیا ایک دوسرے کو کچھ دے کر اور کچھ لے کر زندگی کا کاروبار چلاتی ہے دنیا نے اکیسویں صدی میں ڈیجیٹل ترقی کی ہے اس ترقی میں انٹرنیٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے اب دنیا میں اشیاء سے زیادہ خدمات کا کاروبار ہوتا ہے یعنی اس وقت دنیا کی نصف سے زیادہ دولت ان اشخاص اور کمپنیوں کے پاس ہے جو خدمات پیش کرتی ہیں یا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں چاہے وہ مائیکرو سافٹ ہو ، سپیس ایکس ہو، فیس بک ہو ایپل، گوگل ، امیزون یا دیگر کمپنیاں جن کے پاس دنیا کی کل دولت کا پانچواں حصہ ہے سب آئی ٹی کے ذریعہ اپنی خدمات دیتی ہیں اس لیے ان کمپنیوں کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلتا چلا جارہا ہے اور اس میں ہر برس کئی سو گنا اضافہ ہورہا ہے یہ ساری کمپنیاں روایتی بنکاری کے نظام کے ذریعہ پیسے کی ترسیل نہیں کرتی بلکہ انہوں نے اپنے اور دنیا کی سہولت کے لیے رقم کی ترسیل وتقسیم کا ڈیجیٹل نظام بنایا ہوا ہے یہ ایک نظام نہیں ہے اس میں سینکڑوں کمپنیاں ہیں جن میں بہت مشہور پے پال اور گوگل پے ہیں اس کے علاوہ اب یہ کمپنیاں کرپٹو کرنسی میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیتی ہیں ، کرپٹو کرنسی سے مراد ہے ادائیگی اور وصولی کا ایک ڈیجیٹل نظام جو لین دین کی تصدیق کے لیے بنکوں پر انحصار نہیںکرتا یہ ایک پئیر ٹو پئیر سٹم ہے جو کسی کو بھی کہیں پر بھی ادائیگی بھیجنے اور وصول کرنے کے قابل بناتا ہے اس سے پہلے ہمیں بنکوں میں جاکر کاغذی نوٹوں کی شکل میں پیسے لینے ہوتے تھے جبکہ کرپٹو کرنسی میں ہم ادائیگی یا وصولی خالصتاً آن لائن ڈیٹا بیس میں ڈیجیٹل اندراج کے ذریعے کرتے ہیں اس کے لیے ایک ڈیجیٹل آن لائن والٹ ہوتا ہے جس میں یہ رکھی اور خرچ کی جاسکتی ہے پہلی کرپٹو کرنسی جسے 2009 میںبٹ کوائن کے نام سے مارکیٹ میں متعارف کروایا گیا ،کرپٹو کرنسیاں ایک تقسیم شدہ عوامی لیجر پر چلتی ہیں جسے بلاک چین کہا جاتا ہے کرپٹو کرنسی کی اکائیوں کو جمع کرکے ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرکے جسے عرف عام میں مائننگ کہا جاتا ہے اس میں کمپیوٹر کی صلاحیت کو استعمال کرکے ریاضی کے پیچیدہ اصولوںکو بروئے کار لاکر سکے بنائے جاتے ہیں اس کو صارفین بروکر سے خرید بھی سکتے ہیں اور پھر کریپٹو کرافگ والٹ کے ذریعے انہیں اپنے پاس جمع بھی کرسکتے ہیں اور استعمال بھی کرسکتے ہیں یعنی اگر آپ کرپٹو کرنسی کے مالک ہیں تو آپ کے پاس کوئی ٹھوس چیز نہیں ہوتی آپ کی ملکیت ایک کلید ہے جو آپ کو کسی قابل اعتماد تیسرے فریق کے بغیر ریکارڈ یا پیمائش کے یا اکائی کے ایک فریق سے دوسرے کو منتقل کرنے کی اجازت دیتی ہے مشہور کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن ، ایتھریم،لائٹ کوائن اور رابیل شامل ہیںہمارے ہاں چونکہ یہ قانونی نہیں ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی دیگر ممالک کے بروکروں کے ذریعہ غیر قانونی اس کی تجارت و خرید کررہے ہیں ہمارے ہاں ڈالروں کی مارکیٹ میں کمی کی ایک وجہ اس کو قانونی حیثیت نہ دینے کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے اس لیے کہ لوگ مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ہنڈی اور حوالہ والوں کے ہاتھوں باہر بھیجوا کر پیسہ اس میں لگا رہے ہیں اور اس کے اگر حقیقی اعداد و شمار سامنے آگئے تو پاکستان کی کل جی ڈی پی سے زیادہ غیر قانونی کاروبار میں لوگ لگا چکے ہیںدوسرے ممالک کی طرح اگر ہم بھی اس کو قانونی شکل دیں تو ہمیں اس کے نقصانات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہمیں بہت زیادہ زرمبادلہ ڈالروں کی شکل میں مارکیٹ میں ملے گا کرپٹو کرنسی کے علاوہ اس وقت خدمات کا کاروبار دنیا کی دیگر مستحکم کرنسیوں میں بھی ہوتا ہے جن کی ترسیل کے لیے دنیا میں پے پال اور گوگل پے جیسے جدید آن لائن نظاموں کا سہارا لیا جاتا ہے اس لیے اس نظام میں شخصی آزادی بہت زیادہ ہے حکومت اور دیگر اداروں کا کنٹرول بہت کم ہے لیکن یہ سب قانونی ہے اور اس سے پاکستان کی ٹیکس آمدنی میں بہت زیادہ اضافہ کیا جاسکتا ہے اس لیے کہ یہ ڈیجیٹل نظام مکمل ریکارڈ ہوتا ہے اور یہ بڑی کمپنیاں ٹیکس کے معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت یا چوری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں ، پاکستان میں اس کی عدم دستیابی کی وجہ سے نوجوان جو دنیا کے ساتھ آن لائن کاروبار کررہے ہیں یا خدمات بیچ رہے ہیں وہ بہت مشکلات کا شکار ہیں اس لیے کہ دنیا کی تقریباً تمام کمپنیاں ادائیگی کے لیے پے پال کا استعمال کرتی ہیں اس لیے مجبوراً پاکستانی نوجوانوں کو بھی بیرون ملک موجود ایجنٹوں کے ذریعہ وہاں اکاونٹ کھول کر اپنے پیسے ان میں ڈال کر پھر ہنڈی اور حوالہ والوں کی توسط سے یہاں لانا پڑتا ہے جس میں ایک تو ان کا کثیر سرمایہ ضائع ہوتا ہے اور لیکن اس سے بڑا نقصان ملک کا یہ ہوتا ہے کہ یہ رقم جو بیرون ملک سے آتی ہے وہ ریکارڈ پر نہیں آتی اور ملک کا حصہ جو ٹیکس کی شکل میں لیا جاتا ہے ملک اس سے محروم رہ جاتا ہے اس نظام کو نہ اپنانے کے پیچھے کئی ایک وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ ہمارے ملک کے پرانے بنکنگ کے قوانین ہیں جس میں اس جیسے سسٹم کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی پھر ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ ان قوانین کو دنیا کی دیگر ممالک کی طرح بہتر نہیں بنایا دوسری بڑی وجہ اس میں یہ ہے کہ اس سسٹم میں شخصی مداخلت ختم ہوجاتی ہے اور ہمارے ہاں شخصی مداخلت کو جواز بنا کر لوگ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں سسٹم کو چلانے والے پرانے نظام کی سونے دینے والی مرغی کو قربان کرنے کے لیے کسی بھی طور تیار نہیں ہیں ،ایک وجہ اس کی یہ بیان کی جارہی کہ اس کے ذریعہ سے منی لانڈرنگ آسان ہوجائے گی جو اس لیے درست نہیں ہے کہ پوری دنیا میں اس نظام کو ہر ملک استعمال کررہا ہے اور چونکہ یہ مکمل ڈیجیٹل دستاویزی نظام ہے تو اس میں ایسا کرنا عملاً ممکن نہیںہوگا اس لیے کہ اس کا حساب موجود ہوتا ہے لیکن ہمارے پرانے قوانین میں ہے کہ ہر چیز کے لیے سٹیٹ بنک کی اجازت ضروری ہے وہ اس نظام میں ممکن نہیں ہے البتہ پے پال یا گوگل پے تمام ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ضرور سٹیٹ بنک کو دے گی لیکن یہ اختیارات کی جنگ ہمیں معاشی بدحالی کی انتہا پر لے گئی ہے جس سسٹم پر دو سو سے زیادہ ممالک سہولت اور مفاد حاصل کررہے ہیں اس سے ہمارے ماہرین معاشیات کے خیال میں پاکستان کو نقصان ہوگا اگر پاکستان میں گوگل پے کو اجازت مل جاتی ہے تو دو سے تین برسوں میں تمام دکانوں اور ہرجگہ جہاں پیسے دینے کی ضرورت ہوگی وہاں اس کا استعمال عام ہوجائے گا اس طرح سب کو ٹیکس دینا پڑے جو ہماری حکومتوں کو بالکل بھی منظور نہیں ہے وہ صرف تنخواہ دار وں سے ٹیکس کاٹیں گے باقی لوگوں کے لیے ٹیکس نہ دینے کی جتنی سہولتیں ہیں ان کو برقرار رکھے گی ۔ ان کی پاکستان میں نہ آنے کی راہ میں پالیسی سازی میں شریک لوگوں کا کانفلیکٹ اف انٹرسٹ بھی شامل ہے اس لیے کہ ان پالیسی سازوں کے اپنے اپنے بنک ہیں اس سے ان کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی اگر ہم نے یہ سہولت اپنے نوجوانوں کو دے دی کہ وہ پاکستان پے پال کے ذریعہ پیسے سہولت کے ساتھ منگواسکیں گے تو اس ملک میں ڈالروں کی کمی فوری ختم ہوجائے گی اور ہنڈی اور حوالہ کے کاروبار کی حوصلہ شکنی ہوگی جس سے ملک کی آمدنی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ہم عالمگیریت کے اس دور میں اپنی الگ دکان سجا کر نہیں بیٹھ سکتے اس لیے ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا چائیے اور ان تمام سلسلوں میں دنیا کے ساتھ شریک ہونا چائیے جس سے کاروبار میں وسعت ملتی ہے اورگلوبل رسائی سہل ہوتی ہے ورنہ کون یہاں سرمایہ کاری کرے گا کون یہاں کاروبار کرے گے بس یہی ہزاروں ذخیرہ اندوز اور دو نمبر کے اشیاء بنانے والے سیٹھ لوگوں کی صحت اور دولت کے ساتھ کھیلتے رہیں گے اور نوجوان روزگار نہ ہونے کی وجہ سے زندہ باد مردہ باد کے چکروں میں اپنی جوانی ضائع کردیں گے اس قوم کے نوجوان لاکھوں کی تعداد میںجعلی آن لائن جوا کمپنیوں میں روزانہ اربوں روپے ضائع کررہے ہیں لیکن اس کا سدباب کرنے والا کوئی نہیں ہے اس لیے عالمی سطح پر قانونی اور تحفظ والے مالیاتی نظاموں کو یہاں بھی کام کی اجازت ملنی چائیے اس طرح غیر قانونی اور دھوکہ والی کمپنیوں کا خود بخود خاتمہ ہوجائے گا اور نوجوان دنیا سے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر وسائل پاکستان لانے میں کامیاب ہوں گے ۔