شاہ محمود تیسری بار جسمانی ریمانڈ

شاہ محمود مسلسل تیسری بار جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

ویب ڈیسک: سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم سپیشل کورٹ نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا مسلسل تیسری مرتبہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 2 روز کے لیے ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ اسلام آباد کی سپیشل کورٹ کے جج ابو الحسنات نے شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی جس میں ایف آئی اے نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں عدالت میں پیش کیا۔ نیب کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے بابر اعوان اور شعیب شاہین پیش ہوئے۔ اس موقع پر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔ دورانِ سماعت ایف آئی اے نے شاہ محمود قریشی کا مزید جسمانی ریمانڈ مانگا جس پر وکیل صفائی بابر اعوان نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور اپنے دلائل میں مختلف اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس سے کوئی تعلق نہیں، آرٹیکل 90 اور 91 کے تحت ان کا سائفر سے کوئی لینا دینا نہیں۔
وکیل صفائی بابر اعوان نے آئین کے آرٹیکل 90، 91 کو سیکرٹ ایکٹ عدالت میں پڑھا اور کہا کہ 9 دنوں سے شاہ محمود قریشی جسمانی ریمانڈ پر ہیں، ان کا پہلے ہی کافی ریمانڈ دیا جا چکا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شاہ محمود قریشی کے مزید جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے شاہ محمود کا 5 روز کی بجائے مزید 2 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

مزید پڑھیں:  صنم جاوید اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس منتقل