چیئرمین پی ٹی آئی سزا معطلی

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائیگا

ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو کل 11 بجے سنایا جائے گا۔ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئِی کی جاب سے ٹرائل کورٹ کی سزا کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز میں بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا امید ہے کہ آج تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ ہو جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عمران خان کی سزا معطلی کی مخالفت کرتے ہوئے مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کیے۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ کا کہنا تھا پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پہلے نوٹس کیا جانا ضروری ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ شکایت تو الیکشن کمیشن نے فائل کی تھی ریاست نے نہیں، ٹرائل کورٹ میں آپ نے یہ بات نہیں کی، آپ پہلی بار یہ کہہ رہے ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ جسٹس (ر) کھوسہ نے کہا تھا کہ ٹیسٹ میچ کا زمانہ چلا گیا اب ٹونٹی 20 کا دور ہے، لطیف کھوسہ نے بڑے شائستہ انداز میں کہا کہ مختصر کریں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لطیف کھوسہ نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیلئے 3 دن لیے، انہوں نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو مشقِ ستم بنا رکھا ہے، انہوں نے 6 نکات اٹھائے مجھے ان کا جواب دینا ہے۔
امجد پرویز کا کہنا تھا انہوں نے بیانیہ بنا دیا ہے کہ یہ کوئی پہلا کیس ہے جس میں ملزم کو حقِ دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کیلئے اجازت نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا، درحقیقت سیکرٹری کمیشن نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ہی شکایت دائر کرنے کی اجازت دی، الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آفس کو شکایت دائر کرنے کا کہا کسی مخصوص شخص کو نہیں، آپ کی دلیل اپنی جگہ لیکن سیکرٹری کمیشن نے خود کو متعلقہ شخص کیسے سمجھا؟ کمپلینٹ دائر کرنے کے لیے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کیوں کہا؟ الیکشن کمیشن نے یہ نہیں کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن جو ضروری سمجھیں وہ کریں، انہوں نے دفتر کو ایسا کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آفس کو آرڈر کیا، سیکرٹری ای سی کے علاوہ کیا کوئی اور بھی کمپلینٹ دائر کر سکتا تھا؟ کیا الیکشن کمیشن کا ڈی جی لاء یہ کمپلینٹ دائر کر سکتا تھا؟
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا ایڈمنسٹریٹو سربراہ ہوتا ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو معاملات رجسٹرار چلاتا ہے، چیف جسٹس کیا رجسٹرار کو کوئی کارروائی کرنے کا کہے گا یا آفس کو؟ چیف جسٹس رجسٹرار کو کہیں یا آفس کو دونوں ہی درست ہوں گے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اب مزید کِس نکتے پر دلائل باقی ہیں؟ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ حقِ دفاع اور 4 ماہ میں کمپلینٹ دائرکرنے کے نکات پر دلائل دینے ہیں، واویلا کیا جا رہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے ہائیکورٹ کے آرڈرکی خلاف ورزی کی، میں بتاؤں گا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے آرڈرکی خلاف ورزی نہیں کی، ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ ملزم کے وکیل عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیں گے۔
وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ میرے دلائل آج مکمل نہ ہو پانے کی ایک وجہ ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا نہیں نہیں، آج ہی دلائل مکمل کریں، آپ دلائل جاری رکھیں، دو نکات ہیں، جو سزا معطل ہوتی ہے اس میں اتنی تفصیل میں نہیں جاتے، اگر دلائل کو اتنا طویل رکھیں تو پھر اپیل کا ہی فیصلہ ہو جائے گا، امجد صاحب، پانچ 10 منٹ میں آپ مکمل کر لیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات پبلک دستاویز ہے؟
چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ کر لیا جو کل دن 11 بجے سنایا جائیگا۔

مزید پڑھیں:  خیبر پختونخوا لہولہان،وزیردفاع زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں : بیرسٹر سیف