آخر کب تک؟

اقوام متحدہ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر داعش اور اس سے وابستہ دیگر دہشت گردتنظیموں کو پڑوسی ملکوں کے لئے بدستور سنگین خطرہ قرار دے دیاگیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کے ادارے کے عہدیدارنے سلامتی کونسل کو اس امر سے آگاہ کیا کہ داعش اور اس سے وابستہ تنظیمیں بشمول کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)نیٹو جیسے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعات والے علاقوں اور پڑوسی ملکوں کیلئے سنگین خطرے کا باعث ہیں۔نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیربحث اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)،طالبان اور القاعدہ سے وابستہ دیگر گروہ، داعش(آئی ایس)کو نیٹو ہتھیار فراہم کررہاہے۔واضح رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے اندر طویل عرصے سے حملے جاری ہیں جبکہ حال ہی میں عسکریت پسند گروہ داعش خراسان نے بھی پاکستان کے اندر حملے کئے ہیں۔دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں عالمی برادری کی تشویش بجا ہے اور بدقسمتی سے ان حملوں کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان ہے اور ابھی ان خطرات کا ازالہ نہیں ہوا بلکہ نیٹو اور امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد جو جدید ہتھیار پاکستان مخالف قوتوں کے ہاتھ لگا ہے اس سے ٹی ٹی پی داعش اور بعض دیگر عناصر کی حملے کی قوت بڑھ گئی ہے اب تک ہونے والے بعض واقعات سے اس کی تصدیق بھی ہوتی آئی ہے ان عناصر سے دو دوہاتھ بہرحال پھر بھی ہوسکتا اور ہماری سیکورٹی فورسزان کا مقابلہ کر رہی ہیں لیکن تمام تروعدوں کے باوجود پڑوسی ملک میں ان کے ٹھکانے وہ درد سر ہیں جن کے خاتمے اور بیخ کنی کئے بغیر سرحد کے اس جانب مکمل طور پر امن و استحکام نہیں آسکتا اس ضمن میں کابل کی حکومت کاعدم تعاون کسی سے پوشیدہ نہیں بجائے اپنی اصلاح اور اس عمل کو روکنے کے الٹا دنیا کو مطعون کیا جاتا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں مداخلت کا جواز ڈھونڈ رہی ہے حالانکہ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اب شاید ہی کوئی افغانستان کی اوکھلی میں سر دینے پر آمادہ ہو بہرحال عالمی طور پر طاقت کا استعمال اور فوجی مداخلت ہی نہیں ہوتی بلکہ عالمی برادری کے پاس دیگر پرامن ذرائع بھی ہیں جن کو اب بروئے کار لا کر افغانستان سے خطرات کا سبب بننے والے عناصر کونکلنے اور نکالنے پر مجبور کیا جائے اس ضمن میں افغانستان کی حکومت کے پاس سوائے تعاون کے اور کوئی راستہ نہیں افغان عبوری حکومت دیر یا بدیر بالاخر اسی نتیجے پر پہنچے گی کہ اس کامفاد ان عناصر کوپناہ دینے میں نہیں بلکہ ان عناصر کوبے اثر کرنا ہی سبھی کے مفاد میں ہوگا۔

مزید پڑھیں:  قابل تقلید اقدام