افسر شاہی کی جملہ مراعات ختم کرنے کی ضرورت

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بجلی بل کے ستائے عوام کو فوری طور پر ریلیف دینے کافیصلہ نہ ہوسکا اس حوالے سے طلب کردہ رپورٹ ملنے کے بعد ہی شاید خیر کی کوئی صورت نکل آئے۔ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ جلد بازی میں کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق صرف 4 اعشاریہ 9 فیصد ڈومیسٹک صارفین کے لیے ٹیرف میں 7اعشاریہ5روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ حکام پاور ڈویژن کے مطابق ڈومیسٹک صارفین کے لیے اوسطاً ٹیرف میں 3 اعشاریہ 82روپے کا اضافہ ہوا۔ دیگر کیٹیگریز میں آنے والے صارفین کے لئے 7اعشاریہ5 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق جولائی 2022ء میں زیادہ سے زیادہ بجلی کا ٹیرف31اعشاریہ02روپے فی یونٹ تھا۔ اگست 2023ء میں89اعشاریہ33روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ہے۔امر واقع یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی جانب سے سالانہ34کروڑ یونٹ مفت بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔ ٹیرف میں بڑے فرق کے لیے تمام ملازمین کی مفت بجلی سہولت ختم کرنا ضروری ہے۔یہ سرکاری ملازمین سالانہ 10ارب کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق گریڈ 17تا 21کے ملازمین سالان ایک ارب 25کروڑکی بجلی مفت استعمال کر رہے ہیں جبکہ گریڈ 1سے 16کے ملازمین ماہانہ 76کروڑ 43لاکھ روپے کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ایک جانب یہ صورتحال اور دوسری جانب آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 200ارب سے زائد بجلی کی قیمت ریکور نہیں ہوتی، سارے ملک میں 650ارب سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے، بڑے شہروں، مارکیٹوں میں 70سے 80 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے، یہ بوجھ عام صارف پہ پڑتا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت 900ارب سے زائد سبسڈی چوری، کم ادائیگی اور لائن لاسز کو کور کرنے کیلئے پاور سیکڑ کو ادا کرتی ہے۔بجلی کی بے تحاشہ بلوں کے حوالے سے وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں عجلت اختیار نہ کرکے اور جملہ معاملات کا تفصیلی اعدادوشمار کی روشنی میں جائزہ لینے کے بعد جوبھی قدم اٹھایا جائے اصولی طور پر وہی مناسب ہوگا لیکن یہاں پر معاملہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا والاہے اس لئے کہ صرف وزارت بجلی و پانی کے ملازمین ہی مفت بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ بیورو کریٹس ‘ صوبائی اور وفاقی ججز اورجرنلز سمیت خود حکمران بھی مفت بجلی ہی نہیں بلکہ دیگر مراعات بھی دھڑلے سے حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں اور بعد از سبکدوشی ملازمت بھی ان کو بے تحاشہ مراعات ملتی ہیں عوام پر بجلی کے مد میں صرف 520 روپے کا خسارہ ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ سرکاری گاڑیوں ‘ مفت پٹرول ‘ ٹیلی فون بل گیس بل اور دیگر مراعات میں بھی بے تحاشہ مراعات کا بلاجواز بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر عوام ہی پر پڑتا ہے اگر عوام کاواقعی اور حقیقی معنوں میں بوجھ کم کرنا ہے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہیں تو پھر گربہ کشتن روزاول کے مصداق آئندہ کے اجلاس میں اس حوالے سے سخت فیصلے کرنا ہوں گے جہاں تک آئی ایم ایف کی شرائط کا حیلہ تراشنے کا سوال ہے آئی ایم ایف وطن عزیز کے عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کا مشورہ نہیں دیتی بلکہ ان کی خاتون ڈائریکٹر نے واضح طور پر اس امر کا اعادہ کر چکی ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو امیروں اور ان افراد پر ٹیکس عائد کرنے کا مشورہ دیا ہے جن پر ٹیکس لاگو ہونا چاہئے نیز ان تمام شعبوں سے ٹیکس وصولی کی جائے جن پر ٹیکس اصولی طور پر لگنا چاہئے آئی ایم ایف عام آدمی کے تحفظ کی خواہاں ہے اور ان کی جانب سے قرض دینے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس سے معیشت کو سہارا مل سکے مگر ہمارے ہاں الٹا عام آدمی پر ٹیکسوں کابوجھ لادا جارہا ہے صرف بجلی کے بل پر دس سے زائد مختلف قسم سرچارج اور ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں بجلی چوری اور مہنگے داموں بجلی کے معاہدے اور خاص طور پر بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود بھی آئی پی پیز کو ڈالر میں ادائیگی کے معاہدوں پر اب نظر ثانی کئے بغیر یہ معاملات حل نہیں ہوتے ۔ اب عوام کے تیور دیکھ کر لگتا یہ ہے کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں سے مایوس اور حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں عوام میں سرکاری اداروں کے خلاف بھی نفرت انتہا کوچھوتی نظر آتی ہے اس وقت بھی اگر صورتحال کا ادراک کرکے انقلابی اور سخت قسم کے اقدامات نہ کئے گئے اور سطحی قسم کے فیصلوں سے وقت کو ٹالنے کا حربہ اختیار کیاگیا تو بعد میں صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجائے گا اگست کے بلوں کے حوالے سے محولہ رپورٹ کی روشنی میں تو آئندہ ماہ مزید بھاری بل متوقع ہیں اگر ایسا ہی ہوا جس کا محولہ رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے تو عوام اور حکومتی ادارے آمنے سامنے ہوں گے جسے سنبھالنا حکومت کے لئے تقریباً ناممکن ہوجائے گا عوام میں اس وقت جذبات کی جو لہراٹھی ہے اس کا حل نہ انتخابات میں ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے وعدوں اور دعوئوں پر عوام کان دھرنے کے لئے تیار ہیں اب یہ نگران حکومت کا امتحان ہے کہ وہ تمام تر مفادات اور مصلحتوں سے بالاتر ہوکرایسا کیا بڑا فیصلہ کرتی ہے جو عوام کے لئے قابل قبول اور ریلیف کا باعث ہو۔

مزید پڑھیں:  مرے کو مارے شاہ مدار