قانون کی گرفت سے کوئی بچنے نہ پائے

رمضان پیکیج آٹا سکیم میں مفت سرکاری آٹا ہڑپ کرنے اور واجبات کی عدم ادائیگی پر ڈیلروں کے خلاف کریک دائون بلا امتیاز اور بے رحمانہ ہونا چاہئے اس طرح کے عناصر کسی روروعایت کے مستحق ہر گز نہیں امر واقع یہ ہے کہ رواں سال ماہ رمضان میں حکومت کی مفت آٹا سکیم میں متعدد ڈیلروں نے بے قاعدگیوں کا ارتکاب کرکے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ۔ مفت سرکاری آٹا مفلس اور نادار عوام کا حق تھاجسے ملی بھگت کے ذریعے ہڑپ کیا گیااطلاعات کے مطابق سرکاری مفت آٹے کی چوری میں ملوث ڈیلروں کو بلیک لسٹ کرنے کیساتھ ساتھ ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کردی گئی ہیں اور ان سے سرکاری آٹے کی رقوم کی وصولی کے لئے گرفتاری وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں مذکورہ ڈیلرز کے فوڈ لائسنس بھی منسوخ کرکے کئی ایک سے رقم وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرادی گئی ہے ۔امر واقع یہ ہے کہ رمضان المبارک میں مفت سرکاری آٹا کی تقسیم میں جس طرح کی بدانتظامی سامنے آئی بعض ا طلاعات کے مطابق اس کا مقصد ہی مستحق افراد کو کم سے کم رسائی دینا تھا بہرحال اس تاثر کے حقیقت سے قطع نظر صوبہ بھر کے آٹا ڈیلروں نے نہ صرف مفت سرکاری آٹا کی تقسیم کے وقت انت مچایا بلکہ وہ رعایتی نرخوں پر آٹے کی تقسیم کے عمل کو بھی یرغمال بنا کر اسے چلنے نہ دیا جس کی بالاخر بندش کے بعد آٹا کی قیمتوں کو جس طرح پر لگے وہ ابھی تک جاری ہے اور اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی اور منڈی میں مسابقتی اقدامات اور رعایتی نرخوں پر دوبارہ آٹا فراہمی کا اچھے تقسیمی اقدامات کے ساتھ سلسلہ شروع نہ کیا گیاتو آٹا کی قیمت بھی عوام کی دسترس سے باہر ہوجائے گی دیکھا جائے تو اس وقت بھی عوام کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے ۔ حکومت کو چند ایک علاقوں ہی میں نہیں بلکہ صوبہ بھر میں آٹا ڈیلروں کی ملی بھگت اورمفت سرکاری آٹا کو گوداموں میں ذخیرہ کرکے فروخت کی تحقیقات کے بعد ان عناصر سے وصولی کے ساتھ ساتھ ا ن کو قیدو جرمانہ کی سزائیں بھی دی جائیں اور آئندہ کے لئے ان آٹا ڈیلروں کو کسی بھی طرح اس طرح کے مواقع میں موقع نہ دیا جائے ۔ان عناصرکو نشان عبرت بنانااس لئے بھی ضروری ہے کہ آئندہ کے لئے ایک ایسا سخت پیغام جائے کہ اب بدعنوانی اور ملی بھگت کرنے والے عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اور ان کا ہر قیمت پر احتساب یقینی بنایاجائے گا۔

مزید پڑھیں:  سرتسلیم خم