بجلی بلوں میں ریلیف

بجلی بلوں میں ریلیف، حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کا فیصلہ

ویب ڈیسک: بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے نگران وفاقی حکومت نے وزارت توانائی کی جانب سے دی گئی سفارشات پر عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ نہ ہوسکا اور اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت توانائی کی جانب سے دی گئی سفارشات پر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کی منطوری کے بعد عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں میں ممکنہ ریلیف پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، بجلی کے بلوں میں ٹیکسیشن میں کمی آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیے بنا نہیں کی جا سکتی اور بلوں میں ٹیکسیشن میں کمی کی تو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکسیشن کیلئے آئی ایم ایف سے معاہدہ طے ہوا ہے جس کے تحت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کو بجلی بلوں میں ریلیف نہیں دیا جاسکتا، دسمبر تک سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 4 اعشاریہ 37 روپے مزید فی یونٹ مہنگا ہوگا جس کے بعد سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 122 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:  جعلی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی، فسطائیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے