اٹک جیل میں سائفر مقدمے

سائفر کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

ویب ڈیسک: سائفر کیس میں گرفتار چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی گئی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی جس کا نوٹیفکیشن گزشتہ روز وزارت قانون نے جاری کیا تھا۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں سابق وزیراعظم کو 30 اگست تک جیل میں ہی قید رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں آج عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔
آج ہونیوالی ان کیمرہ سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ کو 13 ستمبر تک بڑھاتے ہوئے اس میں 14 روز کی توسیع کر دی۔
سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اٹک جیل میں پیش ہوئے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کے سامنے لایا گیا اور حاضری لگائی گئی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی اور کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی اور چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی اور ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا گیا، ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر اور پی ٹی آئی وکلاء درخواستِ ضمانت پر دلائل دیں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی اٹک جیل میں سماعت کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سائفر کیس کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے حاضری لگانے کے بعد عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی۔

مزید پڑھیں:  وفاقی سرکاری افسران کی بورڈ میٹنگ میں شرکت کے معاوضے میں کمی