ملک میں معاشی و سیاسی استحکام کیلئے الیکشن ناگزیر ہیں، بیرسٹر سیف

ویب ڈیسک: ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے رہنما تحریک انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس الیکشن کروانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا، سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہی کرانے پڑیں گے۔ بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 51 میں حلقہ بندیوں کی شرط نہیں ہے، الیکشن کمیشن کا یہ جواز بے بنیاد ہے، الیکشن کمیشن اب مشترکہ مفادات کونسل کے غیر آئینی اجلاس کے پیچھے مزید چھپنے سے گریز کرے۔ سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے مزید تاخیری حربے غیر آئینی اقدام کے زمرے میں آئیں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے طے ہو گیا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے جس میں پنجاب، خیبرپختونخوا کی نگران حکومتیں اور گورنرز برابر کے ذمہ دار ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ سابق وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے پنجاب انتخابات کے معاملے میں سپریم کورٹ کی حکم عدولی کی جس پر گورنر زخیبرپختونخوا اور پنجاب اور نگران صوبائی حکومتوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے غیرآئینی اجلاس کے فیصلے بھی عنقریب کالعدم قرار دے دئے جائیں گے۔
بیرسٹر سیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں معاشی اور سیاسی استحکام کے لئے بغیر کسی تاخیر کے الیکشن ناگزیر ہیں۔

مزید پڑھیں:  وزیراعظم کی سرمایہ دار طبقے کے 49لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ لانے کی ہدایت