پشاور، 6 سالہ بچی کا سفاک قاتل گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کی توقع

پشاور: تھانہ خزانہ پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کے دوران ننھی پری 6 سالہ عائشہ کے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر لیا۔ یاد رہے کہ 29 اگست کو خزانہ کے علاقہ شاہ عالم افغان مہاجر کیمپ سے 6 سالہ بچی طفلکہ عائشہ دختر فضل شر، لاپتہ ہوئی تھی جس کے اگلے روز گھر سے کچھ ہی فاصلے پر پھانسی شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ واقعہ کے بابت عائشہ کے چچا مسمی صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
واقعہ کا سی سی پی او پشاور سید اشفاق انور نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی آپریشن کاشف آفتاب عباسی اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن اشفاق خان کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ جنہوں نے جدید خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے علاقہ کے مشتبہ اور مشکوک افراد کیساتھ ساتھ ان کے رشتہ داروں کو بھی شامل تفتیش کرتے ہوئے ان کے بیانات قلمبند کئے۔
خصوصی ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے شامل تفتیش رشتہ داروں کے بیانات میں تضاد کو بنیاد بناتے ہوئے اندھے قتل کاسراغ لگا لیا اور درندہ صفت ملزمان کامران ولد جمیل اور امان اللہ ولد غلام سخی کو حراست میں لے لیا۔ ایس پی رورل ڈویژن ظفر احمد خان کے مطابق ملزمان میں سے ایک ملزم کامران مقتولہ کا قریبی رشتہ دار ہے، دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نےدوسرے ساتھی کے ہمراہ راستے سے عائشہ کو بہانے سے لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کو اسی کے دوپٹّے سے پھانسی دے کر قتل کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ گرفتار دونوں ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جن سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:  مسقط میں مسجد کے قریب فائرنگ ،4افراد جاں بحق