بجلی چوروں اور نادہندگان

سمگلنگ میں ملوث سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

ویب ڈیسک: نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں سمگلنگ کا نوٹس لیتے ہوئے کسٹمز حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک میں چینی، پٹرولیم مصنوعات، یوریا، زرعی اجناس اور دیگر اشیاء کی سمگلنگ کا سدباب کرنے اور سمگلنگ میں ملوث سرکاری افسران کی انٹر ایجنسی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کر دی۔
سمگلنگ اور اس کے سدباب کے حوالے سے اسلام آباد میں نگران وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں وزارتِ خزانہ، تجارت، پیٹرولیم اور ایف بی آر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو پورے ملک بالخصوص سرحدوں پر مختلف اشیاء کی سمگلنگ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ اور پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد کی گئی بیشتر مصنوعات پاکستان میں ہی فروخت کی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں سمگلنگ کی روک تھام کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 10 اضافی جوائنٹ چیک پوسٹیں نوٹیفائی کر دی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعظم کو سمگلنگ میں ملوث سرکاری افسران کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سمگلنگ میں ملوث سرکاری افسران کی انٹر ایجنسی رپورٹ مرتب کی جائے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کی کارکردگی جانچنے کے لئے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔

مزید پڑھیں:  بنگلہ دیش میں طلباء کا احتجاج ،جھڑپوں میں 5جاں بحق