چینی مافیا’ بے بس حکومت اور انتظامیہ

چینی دنیا میں مصنوعی مٹھاس حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے یہ گنے ،مکئی ،چقندر،آلو ، ناریل اور دیگر کئی زرعی اجناس سے رس کشید کرکے بنائی جاتی ہے ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ چینی پیدا کرنا والا ملک ہے اس کے بعد برازیل دنیا کی سب سے زیادہ چینی پیدا بھی کرتا اور برآمد بھی کرتا ہے پاکستان گنے سے چینی پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور کل ملا کر چینی کی پیداوار میں اس کا نواں نمبر ہے پاکستان میں سالانہ سترسے اسی لاکھ ٹن چینی بنائی جاتی ہے جبکہ پندرہ لاکھ ٹن گڑ بھی بنایا جاتا ہے جو پاکستان کے دیہی علاقوں میں چینی کے نعم البدل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ہر پاکستانی اوسطاً بائیس کلو چینی سالانہ استعمال کرتا ہے پاکستان اپنی ضرورت سے پندرہ فیصد زیادہ چینی اور گڑ پیدا کرتا ہے پاکستان میں چینی بنانے کے اس وقت نوے شوگر ملیں ہیں یہ 46پنجاب 39 سندھ 6خیبر پختونخوا میں ہیں ان تمام شوگر ملوں کے مالکاں یاتو سیاست دان ہیں یا ان کے بے نامی رشتہ دار جو ان کے لیے یہ شوگر ملیں چلاتے ہیں آصف علی زرداری سندھ میں اس کاروبار کو چلاتے ہیں ،شہباز شریف ، جہانگیر ترین اور گجرات کے چوہدری برداران پنجاب میں اس کے مالک ہیں اس فہر ست میں خسرو بختیار ، ہاشم جوان بخت ، ذکا اشرف ،ذوالفقار مرزا اور ان کی بیگم ہمایوں اختر اور عباس سرفراز غرض کئی ایسے نام ہیں جو پاکستان کی سیاست میں دہائیوں سے اہم حیثیتوں سے شامل ہیں زرداری اور جہانگیر ترین تو دس دس شوگر ملوں کے مالک ہیں اس لیے چینی کے حوالے سے پاکستانی اپنے ان رہنماوں کی وجہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے مہنگائی کا شکار ہیں پاکستان میں موجود شوگر ملز دنیا میں سب سے کم قیمت پر کسانوں سے گنا خریدتے ہیں اور ان کو ادائیگی بھی بروقت نہیں کرتے جس کی وجہ سے کسانوں کی مالی حالت ہمیشہ ابتر رہی ہے اس پر ظلم یہ ہے کہ ان طاقتور لوگوں نے زبردستی ان علاقوں میں گنے کی کاشت شروع کروائی ہے جہاں کپاس پید اہوتی تھی جس سے ملک میں کپاس کی پیدوار کئی گنا کم ہوگئی ہے چینی کے حوالے سے پہلی مرتبہ مشرف دور میں اس وقت لوگوں کو پریشانی ہوئی جب ان کے وزیر جہانگیر ترین نے چینی پاکستان سے ہندوستان برآمد کی اور یہاں چینی کی قلت ہوگئی تو انڈیا سے واپس درآمد کرکے چینی کی قیمت میںاچانک دوگنا سے زیادہ اضافہ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی اس کے مساوی رقم بطور سبسڈی حاصل کی یوں وہ مہینوں میں کھرب پتی ہوگئے اور چینی کے مصنوعی بحران کا سلسلہ شروع ہوا پھر مختلف اوقات میں اس مد میں سب نے اربوں روپے بنانے شروع کر دئیے عمران خان کے دور میں پھر ایسا کیا گیا اور چینی برآمد کرکے یہاں مصنوعی بحران پیدا کرکے پھر اربوں روپے کمائے گئے اس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت آئی اسحاق ڈار نے حکومت کو بتایا کہ چینی کی پیداوار زیادہ ہوئی ہے اس لیے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے فائدہ سب کا تھا اس لیے اجازت دے دی گئی اور اس کے نتیجے میں آج مارکیٹ میں چینی کی قیمت جو 88 روپے ہونی چائیے وہ175 روپے ہے اور یہ مزید بڑھے گی کیسا ملک ہے گزشتہ دو دہائیوں میں ہمیں بار بار لوٹا گیا مگر مجال ہے کسی کی حب الوطنی جاگی ہو کسی عدالت کی کان پر جوں تک رینگی ہو کہ یہ کیا ہورہا ہے ا س جرم میں ملوث لوگوں کو پکڑا جائے ان کو سزا دی جائے مگر ایساکون کرتا کرنے کی طاقت رکھنے والے سب حکومت میں ہوتے ہیں یا باہر بیٹھ کر بطور اے ٹی ایم حکومت چلاتے ہیںحالیہ چینی کا بحران تو کھلی کتاب ہے جنہوں نے چینی برآمد کرنے کے حوالے سے غلط اعداد و شمار اور اندازے لگائے اور جس کی بنیاد پر 88 کے حساب سے چینی باہر فروخت کی گئی ان کو پکڑ لیں اس لیے کہ اب ہم برازیل سے 220 روپے کی کلو چینی وہ بھی ایک لاکھ ٹن برآمد کریں گے یعنی اس سے صرف 13ارب روپے اس ایک لاکھ ٹن کے لیے پاکستانی عوام زیادہ دیں گے اور اس سے یہاں جو مقامی چینی کی قیمت بڑھے گی اس کا تخمینہ لگائیں تو وہ دو کھرب سے بھی زیادہ کی رقم بنتی ہے جب کچھ ماہ پہلے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی مارکیٹ میں فروخت کا نرخ 85روپے مقرر کی جسے بعد میں بڑھا کر 98.5 بھی کردیا تو لاہور ہائی کورٹ نے اس پر اسٹے دے دیا اب کوئی جاکران محترم جج صاحبان سے پوچھے کہ جناب آپ کے ایک سٹے کی وجہ سے دو سوکھرب کا اضافی بوجھ غریب پاکستانیوں پر پڑ گیا ہے اس کا ذمہ دار کون ہوگا پاکستان میں پاکستان کی ضرورت سے پندرہ فیصد زیادہ چینی پیدا ہوتی ہے لیکن اس ملک میں سٹے باز ہیں یہ سٹے باز کوئی اور نہیں یہی مل مالکان اور بڑے بڑے سیٹھ ہیں یہ مل کر چینی سٹاک کرلیتے ہیں سیٹھ مل مالکان کو دس فیصد بیعانہ کی رقم اداکرکے چینی ان کے ہی گوداموں میں رکھوا دیتے ہیں اور اسے مارکیٹ میں نہیں لاتے پھر اپنے کچھ کارندوں اور منڈی میں بیٹھے ہوئے افراد سے افواہ سازی شروع کردیتے ہیں کہ چینی کی کمی ہے جس کی وجہ سے چینی کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے اور یہ طلب سے کم چینی مارکیٹ میں لاتے ہیں جس سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے اور چینی کی قیمت یہ مصنوعی طریقے سے بڑھا کر اربوں روپے کھا جاتے ہیں ساتھ ہی یہ چینی افغانستان سمگل کرتے ہیں دس لاکھ ٹن سے زیادہ چینی افغانستان سمگل ہوتی ہے اتنی چینی لے جانے کے لیے لاکھوں ٹرکوں کی ضرورت ہے یہ ٹرک کیسے افغانستان جاتے ہیں کراچی اور لاہور سے یہ سفر شروع کرتے ہیں چمن اور لنڈی کوتل سے افغانستان جاتے ہیں راستے میں پولیس ہے کسٹم ہے اور دیگر کئی ادارے ہیں کیا سب ستو پی کر سو رہے ہوتے ہیں یہ ملک جو اس وقت شدید ترین مالی بحران کا شکار ہے وہاں صرف چند افرا د کھربوں روپے کی چینی یہاں سے افغانستان سمگل کرتے ہیں اور ہم ان کو روک نہیں سکتے اس سمگلنگ کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمت دگنی سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کا بوجھ ان غریب عوام پر پڑتا ہے جس میں اکثریت اپنی کل آمدنی سے دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے بجلی چوری کریں سیٹھ مفت میں استعمال کریں واپڈا کے ملازمین اور اعلیٰ ترین سرکاری افسران اور ہزاروں اور لاکھوں کے بل بھریں غریب عوام چینی کے اس مصنوعی بحران کو ایک دن میں حل کیا جاسکتا ہے ہر ضلع میں ایک ڈپٹی کمشنر ، پانچ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کا ہزاروں کی تعداد میں عملہ موجود ہے ہر جگہ جہاں ذخیرہ اندوزی کی گئی ان کی ساری چینی ضبط کی جائے اور جعلی انوائسنگ کرنے والے شوگر مل بھی سرکاری قبضے میں لے لیے جائیں اور افغانستان کے بارڈر پر دو ایماندار افراد بٹھا دئیے جائیں کل یہاں چینی واپس 80روپے کلو ہوجائے گی کیا ہندوستان میں عام آدمی پارٹی نے دہلی میں ایسا نہیںکیا تھا کیا ایک ہی دن میں وہاں ذخیرہ اندوزی ختم نہیں ہوگئی تھی کیا وہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ایک ہی دن میں نصف سے زیادہ نیچے نہیں آگئی تھیں اس لیے کہ ایک ایماندار شخص نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی چور وں اور ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنا شروع کردیا تھا اور اپنے نرخ نامے پر عمل کروانا شروع کردیا تھا پاکستان جس بدترین انتظامی نا اہلی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی یہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں جس دن پیٹرول مہنگا ہونے کا آوازہ ہوتا ہے سارے پیٹرول پمپ بند ہوجاتے ہیں کیا یہ علاقہ غیر ہے یہاں کوئی حکومت نہیں کہ ان کو پوچھ سکے کہ کیوں وہ ایسا کررہے ہیں اگلے دن اپنے سٹاک میں بچائے ہوئے پیڑول پر ہر پمپ والا سیٹھ کروڑوں کما لیتا ہے پنجاب میں آٹا سولہ سو کا اور خیبر پختونخوا میں تین ہزار کا یہ کیسے ممکن ہے اٹک کا پل کراس کرکے قیمت دگنی کیسے ہوجاتی ہے اس طرح پھر ہماری بجلی چار روپے یونٹ ہے لیکن ہم کو بھی ساٹھ روپے کا یونٹ پڑتا ہے یہاں سرکار نے گوشت کا نرخ چھ سو روپے مقرر کیا ہے اور قصاب نو سو روپے لے کر بیچ رہا ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہر حکومتی ہرکارے کو ایک کروڑ سے زیادہ مالیت کی گاڑی سرکاری گھر حفاظت کے لیے گارڈ اور گاڑی چلانے کے لیے ڈرائیور اور تنخواہ سے تین سو پچاس گنا زیادہ الاونس دیا جاتا ہے مگر کارکردگی ملاحظہ ہوسب کچھ افغانستان سمگل ہورہا جو یہاں بک رہا ہے وہ دگنی سے زیادہ قیمت پر بک رہا ہے یہاں زندگی اتنی مشکل ہوگئی ہے کہ عزت دار خودکشی کرلے گا اور باقی سارے ڈاکے ڈالیں گے اس سے پہلے کہ پانی سر پر سے گزر جائے اس کا تدارک کرلیں ۔بقول مرتضی برلاس
اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے
گر حرف غلط ہوں تو مٹا کیوںنہیں دیتے