چیف کمشنر اور پولیس پرویز الٰہی کو کل پیش کریں، جسٹس امجد رفیق

ویب ڈیسک: لاہور ہائیکورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور پولیس کو کل پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق کے حکم کے باوجود پولیس نے لاہور سے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا تھا جس پر جسٹس امجد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیشن جج اٹک کو حکم دیا تھا کہ وہ پرویز الٰہی کو بازیاب کراکے پیش کریں جبکہ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا تاہم بعد ازاں جسٹس امجد رفیق کا بینچ تبدیل کردیا گیا۔
جسٹس امجد رفیق کے بعد جسٹس مرزا وقاص رؤف نے آج پرویز الٰہی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں سیشن جج اٹک اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل عدالت میں پیش ہوئے تاہم سیشن جج پرویز الٰہی کو ساتھ نہ لائے۔
دوران سماعت عدالت نے سیشن جج سے پوچھا کہ کل پرویزالٰہی کو 11 بجے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا آپ کب جیل پہنچے؟ اس پر سیشن جج نے کہا کہ دوپہر کے بعد جیل پہنچا، پرویز الٰہی جیل میں نہیں تھے۔ عدالت نے ڈی پی او اٹک اور سی پی او راولپنڈی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔
کیس کی دوبارہ سماعت میں جسٹس مرزا وقاص نے کہا کہ کمشنر اسلام آباد کو حکم دے رہا ہوں کہ وہ پرویز الٰہی کو پیش کریں، بادی النظر میں ریاست پرویز الٰہی کو پیش کرنے سے گریزاں ہے، ویسے بھی آئی جی اسلام آباد کیخلاف توہین کا معاملہ تو عدالت کے سامنے موجود ہی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کی،عدالت نے اسلام آباد کے دونوں افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:  پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے قیام میں ایک سال کی توسیع