صبر کے خیمے میں شکر کی تسبیح اور قسمت کا لکھا

نصف صدی یا اس سے کچھ کم عرصے سے ان سطور میں تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتا آرہا ہوں کہ آزادی اظہار کی حد دوسرے کی عزت نفس سے قبل ختم ہوتی ہے اور ہر کس و ناکس کو اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کا بطور خاص خیال رکھنا چاہیے کہ یہی حق دوسرے کا بھی ہے اور اگر دونوں نے ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ اچھا یہ ایسی بات ہرگز نہیں کہ "پاکستان اپنی تاریخ کے برے ترین دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں جاری ہیں۔ یہودوہنود کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی” ۔ مندرجہ بالا تینوں باتیں ہماری بالادست اشرافیہ کے دائو پیچ ہیں۔ وہ خود جو بھی مرضی کرتے کہتے اور شکم میں اتارتے پھریں ہمارے اور آپ کے لئے ان کی تلقین یہ ہوتی ہے کہ "صبر کے خیمے میں شکر کی تسبیح پڑھیں” ۔ جو بھی ہوتا ہے اس کی جانب سے ہوتا ہے۔ اس کی جانب کا آسان ترجمہ یہ ہے کہ بس جی ہر چیز تو قسمت میں لکھی ہے انسان کو وہی ملنا ہے اس نے وہی کرنا ہے جو قسمت میں لکھا ہے۔ ہم ایسے طلبا نے اپنے شعور کے ابتدائی دنوں سے اس قسمت کے لکھے والی متھ سے پوری قوت کے ساتھ انکار کیا۔ یہ انکار شعوری تھا اندھی بغاوت نہیں۔ ہم سمجھتے تھے بلکہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ آدمی اپنی ذات میں کامل آزادی کا مالک ہے آگے بڑھنے اور جدوجہد سے جی چرانے والے اپنی نالائیقوں کا ملبہ قسمت کے لکھے پر ڈال کر رانجھا راضی کرتے ہیں لیکن اگر اس منطق کو درست مان لیا جائے تو انسانی سماج کا وہ سارا نظام جو ایک انسانی گروہ اپنے عصری شعور پر تعمیر کرتا ہے تلپٹ ہوجائے گا۔ سماج و نظام کے قاعدے قرینے اقدار وغیرہ اس میں بسنے والوں کو ایک طرح سے انتباہ ہوتے ہیں کہ تجاوز یا حدود کی پامالی کی صورت میں وہ گرفت میں آسکتے ہیں۔ دستیاب انسانی تاریخ میں جتنے بھی سماجوں نے ارتقا کے آسمانوں کو چھونے میں سبقت حاصل کی وہ اس شعور کی دولت سے مالامال تھے کہ سماجی گروہ کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے ہیں آگے بڑھنے کے لئے تحقیق و جستجو لازم ہے۔ قوانین پاسداری کے لئے ہوتے ہیں اور یہ کہ قسمت کے لکھے کی گاڑی کے پیچھے بھگانے والے اصل میں بالادست طبقات کے غلاموں میں کمی کو روکنے کے دھندے میں اپنی چرب زبانیوں سے کمیشن کماتے ہیں۔ صاف سادہ الفاظ میں یہ کہ پاپائیت اوربالادست اشرافیہ (نجی صورت میں ہو یا ریاستی صورت میں) ساجھے دار ہوتے ہیں۔ یہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کو امر ربی بتاتے ہیں حالانکہ یہ امر ربی نہیں بلکہ ہر دور کے انسانی سماج کے بڑے طبقات کا ریاست کے ساتھ مل کر کیا گیا پاکھنڈ ہے۔ "خدا کو کیا پڑی ہے کہ وہ ایک شخص کو ہزاروں ایکڑ زمین دے اور دوسرے کو اس کا مزارع بنادے لیکن تخلیق کے شکر کی دونوں سے توقع کرے؟” ساعت بھر کے لئے رکئے میں آج پھر اپنے دوست ساجد رضا تھہیم ایڈووکیٹ کی طرح عرض کئے دیتا ہوں معافی منگی جو کھڑاں کیا کیجئے تاریخ کے جھوٹ اور عصری شعور سے بلاتکار کے شوق نے ہم سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ ہمارے چار اور لکیر کے فقیر ٹولوں کی بھرمار ہے کالے پیلے سبز سرخ رنگوں والے یہ لکیر کے فقیر اس بات کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ روایت شکنی پر تلے مٹھی بھران کے اس دھندے کے لئے خطرہ ہیں جو صدیوں سے خوف اور لالچ پر چل رہا ہے۔ خوف تو خوف ہی ہے چلیں لالچ کو ترغیب کہہ لیجئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آج اس طرح کی باتیں کیوں کررہا ہوں؟ اصل میں تمہید طویل ہوگئی اور یہ طوالت بے اختیاری تھی۔ ایک شہری طالب علم اور مزدور کی حیثیت سے میں پچھلے چند دنوں (ڈیڑھ دو ہفتہ) سے گلگت بلتستان میں بھڑکائے جانے والے فرقہ وارانہ آگ کے شعلوں سے پریشان ہوں میں نے ہمیشہ ان سطور میں عرض کیا کہ پانچوں مسلمہ مسلم مکاتب فکر کے زعما کو چاہیے کہ وہ دستیاب مسلم تاریخ کے بعض ادوار اور شخصیات کے معاملے میں بحثیں اٹھانے کی بجائے اس امر کو بطور خاص مدنظر رکھیں کہ تاریخ تحقیق کا موضوع ہے تاریخ میں جو لکھا ہے آپ اسے پڑھ کر دوسروں کے گریبانوں سے الجھنے کی بجائے اپنے سماجی فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیجئے یا پھر ہمت کیجئے مسلم سماج کی اجتماعی دانش سے کچھ تحقیق پسندوں کو منتخب کرکے ایک تاریخ کمیشن قائم کیجئے جو نئی نسل کی درست سمت رہنمائی کے لئے اپنا فرض ادا کرے۔ تاریخ یعنی مسلم تاریخ کے جو ادوار اور کردار صدیوں کا سفر کرکے ہم تک پہنچے ہر دو پر مکالمہ ہوسکتا ہے ملاکھڑا نہیں اسی طرح جو عقائد کے دفتر صدیوں سے موجود ہیں اب ان کی جبری تالہ بندی بھی ممکن نہیں ہم زندہ اور اکٹھا رہنا چاہتے تو برداشت کریں تاکہ برداشت کئے جائیں۔ بدقسمتی سے یہاں معاملہ مختلف ہے اس کے مختلف ہونے کی ایک وجہ برصغیر میں منظم ہوئے وہ نئے فرقہ وارانہ رجحانات اور مکتب ہیں جس کے بانیان کے خیال میں اپنا سودا فروخت کرنے کے لئے دوسرے کے سر میں ہتھوڑا مارنا ازبس ضروری ہے۔ گلگت بلتستان میں پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے جو الائو بھڑکانے کی کوششیں جاری ہیں اس کے بھیانک نتائج طرفین کے ذمہ داروں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں یا پھر وہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں ؟ ۔ میری دانست میں اکٹھے رہنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عزت کرو اور عزت کرائو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کبھی بھی من و عن ایک فریق کی فہمی تائید کی داستان نہیں لکھی ہوتی۔ برصغیر کے مسلمہ مسلم طبقات دستیاب مسلم تاریخ سے ہی غذا حاصل کرتے ہیں اپنے اپنے منبروں سے پھٹے توڑ جذبات کے ساتھ تقاریر کرتے واعظین اسی تاریخ سے حوالے پیش کرتے ہیں۔ غلطی ان سے یہ سرزد ہوتی ہے کہ جو حوالہ ان کے گروہ کے جذبات کو گرم رکھے اسے یہ درست بلکہ ایمان کے حصے کے طور پر پیش کرتے ہیں جس سے دوسرے کے موقف کو تائید ملے اس پر پھبتی کستے ہوئے شرک و کفر کے فتوے داغتے ہیں۔ باردیگر عرض ہے اولا تو ان موضوعات پر ملاکھڑے کی ضرورت نہیں جو فساد کا دروازہ کھولتے ہوں۔ ثانیا یہ کہ یہ بھی کسی طور درست نہیں کہ کوئی ایک طقبہ عددی قوت یا دیگر وسائل کی برتری کے زعم میں دوسرے کو کچلنے کا شوق پالے یا اسے پابند محض کرے کہ جو ہم کہتے ہیں اسے درست مان کر جیو۔ ایسا نہیں ہوتا کسی بھی سماج کے مختلف الخیال طبقات اپنی اپنی فہم کے ساتھ جیتے بستے ہیں۔ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں زندہ سماجوں کی تشکیل اور ان میں جینے بسنے کا سلیقہ نہیں آتا۔ کم از کم میں اس صورتحال کا سب سے بڑا ذمہ دار ریاستی مذہب کی سوچ کو سمجھتا ہوں اسی لئے ہمیشہ عرض کرتا ہوں کہ جب کسی ریاست کا کوئی مذہب قرار پاتا ہے تو لازم ہوجاتا ہے کہ اس ریاست کا کوئی عقیدہ بھی ہو۔ دنیا میں آج جتنے بھی مذاہب موجود ہیں سبھی کے اندر مختلف الخیال فرقے پائے جاتے ہیں پھر ان فرقوں کے اندر در اندر مزید فرقے۔ اس لئے اگر ریاست کا نظام غیرمذہبی سوچ یعنی سیکولرازم سے عبارت ہوگا تو نظام بھی عدم توازن سے محفوظ رہے گا اور ریاستی حدود میں بسنے والے مختلف العقائد لوگ بھی بطور خاص اپنی حدود کو مدنظر رکھیں گے۔ یہ سطور لکھتے وقت ایک اچھی خبر یہ موصول ہوئی کہ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا ابوالخبیر آزاد کی سربراہی میں مختلف مسلم مکاتب کے علما کا ایک وفد گلگت بلتستان کے لئے روانہ ہوچکا ہے۔ خدا کرے کہ یہ وفد طرفین کو اپنی اپنی حدود میں رہنے پر آمادہ کرلے اور امن و امان کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ حرف آخر یہ ہے کہ ہم جتنی جلدی (یہاں ہم سے مراد سماج میں بستے تمام طبقات ہیں) ایک سماج میں ا کٹھا رہنے کا سلیقہ سیکھ لیں گے یہ ہماری اور آئندہ نسلوں کے حق میں بہت بہتر رہے گا۔