”کسی حد تک فلسفہ سے سروکار ناگزیر ہے”

قانون خداوندی یہ ہے کہ اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں کرتا،حد سے باہر نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ۔قانون الٰہی یہ بھی ہے کہ دنیا میں کسی قوم یا حکمران کو ہمیشہ غلبہ حاصل نہیں ہوتا اور قوموں کے درمیان ایام میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔قانون قدرت یہ بھی ہے کہ جب تک کوئی قوم خود اپنے اندر تبدیلی کا خیال پیدا نہیں کرتی اس کی حالت تبدیل نہیں ہوتی ۔ بہرحال یہ انقلاب برپا ہو کے رہتا ہے کیونکہ قانون خداوندی اٹل ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو لاالہ لا اللہ کے معروف نظریہ پر جمہوری طریقے سے معرض وجود میں آیا ہے ۔ خالق زمان ومکان کا نظریہ ہونے کے سبب یہ اپنے اندر ہر دور کے انسانوں کے لئے امن اور فروغ کا ایک تروتاز ہ اور سدا بہار پیغام رکھتا ہے۔جس قوم کا مذہب اور تہذیب ایک ہوں اس کا ایمان محض مذہبی ایمان نہیں ہوتا بلکہ بعینہ دنیوی ایمان بھی ہوتا ہے۔ تحزیب کا مذہب سے آزادہوجانا آخر کار اخلاقی انحطاط اور تباہی کا موجب ہوتا ہے۔بحیثیت مسلمان مذہب ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زمانے میں بے حیائی نہ پھیلائیں ،جسمانی ضروریات کو دین کے دائرے میں رکھ کر پورا کریں۔ عورتیں اپنے حسن وجمال کی نمائش نہ کریں،فحش کلامی ،بے پردگی،ناچ ورقص،جسم فروشی اور مردوں سے آزادانہ میل جول سے اجتناب کریں اسی طرح مردوں پر بھی لازم ہے کہ تاک جھانک سے باز رہیں۔مذہب ایک طرف تو انسان کی انفرادی فلاح کا ضامن ہے اور دوسری طرف انسانی سماج مذہب کو اپنائے بغیر بہبود نہیں پاسکتا۔بات دراصل یہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کی سائنسی ترقیات اور عام علمی فضا نے موجودہ ذہن پر اس طرح اثر ڈالا ہے کہ مذہب کے بارے میں وہ سوالات جو کسی زمانے میں صرف فلسفیانہ سوالات سمجھے جاتے تھے آج کل عام ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔مثال کے طور پر مذہب کی ضرورت کے خلاف آج کل جو بات سب سے عام ہے وہ یہ کہ آج کا دور سائنس کا دور ہے یعنی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اگست کومت ایک فرانسیسی مفکر ہے اس کا کہنا ہے کہ انسانی فکر تین ادوار میں منقسم کی جاسکتی ہے مذہب اس فکر کا دور اولین ہے،دوسرا فلسفیانہ اور تیسرا سائنسی ہے ۔کاروبار مندے پڑے ہیں ، رشوت ستانی کا بازار گرم ہے۔امن وامان قائم نہیں ہے۔میں یہ بھی مانتا ہوں کہ دنیا کا ایسا ملک نھیں ہے جہاں کوئی خرابی نہیں ہے ،کوئی جرم نہیں ہوتا ؟ یا عوام سکون وچین سے زندگی گزار رہی ہے؟ ہر ملک کے اپنے مسائل ہوتے ہیں ،اپنی مشکلات ہوتی ہیں اور وہ مسائل اور مشکلات اسی ملک کی لوگوں نے ہی حل کرنے ہوتے ہیں باہر سے کوئی نہیں آتا ۔خرابی ہمیشہ اندر سے واقع ہوتی ہے اور پھر سرطان کی طرح پورے نظام کو لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔قدرت کا کوڑا برستا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کے نشان چھوڑ جاتا ہے،یہ کوڑا کبھی چنگیز کی شکل میں نمودار ہوتا ہے کبھی ہلاکو ،کبھی تیمور اور کبھی آپس میں لڑ لڑ مرنے کی صورت میں ۔ قدرت کی طرف سے یہ عذاب اس وقت نازل ہوتے ہیں جب اصلاح کا جذبہ اجتماعی طور پر ختم ہوجاے۔قدرت جلدی کسی قوم سے ناامید نہیں ہوتی ،انتظار کرتی ہے ۔مسلمان حکمرانوں پر ہمیشہ اس وقت زور سے خدا ئی قہر کا کوڑا برسایا گیا جب ان کے اندر گمراہ کن عقیدے اور بے دینی کے خیالات بہت زیادہ زور پکڑ رہے تھے ۔ گزشتہ کئی سال سے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔انتہائی افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس کھیل کے کھلاڑی دونوں طرف مسلمان ہیں۔انسان کی بلاعذر شرعی جان لینا گویا ساری انسانیت کا قتل ہے۔ایک مسلمان مجاہد تو اس کافر عورت پر بھی حملہ نہیں کرسکتا جو جنگ میں عملًا شریک نہیں ہے۔پاکستان میں بسنے والوں کی زبانیں ثقافتیں اور قومیتیں مختلف ہیںلہٰذا ان کے درمیان واحد رشتہ صرف اور صرف اسلام کا ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے یہاں اس کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں کی۔اس لیے ہمارے درمیان زبان اور نسل کی بنیاد پر عصبیتوں نے نفرت پیدا کی اور پاکستان کی سیاست شدید خطرات سے دوچار ہے۔ لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا یہ ملک جس میں ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں،آج کل انتہائی نازک صورتحال کا شکار ہے جس کے ذمہ دارہم خودہیں۔تاریخ گواہ ہے پاکستانی قوم نے ایک طرف بے مثال قربانیاں دیں وہیں ان قربانیوں پر کبھی لاعلمی،کبھی بے حسی کی چادر ڈال کر خود کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے خود کو وہاں لا کھڑا کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔دنیا میں بہت سے ایسے لیڈر گزرے ہیں جن کے بعد ان جیسی لیڈر شپ خال خال ہی کسی کو نصیب ہوئی ہوگی اور ایسے بہت کم لیڈر ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنی باتوں اپنے خیالات سے متاثر کیاہو اور دنیا کسی روبوٹ کی طرح ان کے پیچھے نہ چل پڑی ہو ،دوسرے ممالک میں شاید ایسے لیڈرز اب بھی دستیاب ہوں لیکن پاکستان کے حصے میں یہ خوش قسمتی کم ہی آئی ہے ۔ابن خلدون کہتا ہے کہ حکمران ہمیشہ عادل ہونا چاہئے ،بہادر اور نڈر ہو اور ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کا عالم بھی ہو۔اس کے مطابق حکمران کے فرائض یہ ہیں ، ریاست میں ظلم وستم کو ختم کرنا،شہریوں کے حقوق ادا کرنا،منصفانہ قوانین جاری کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ایک معیاری ریاست وہی ہے جس کو ایسا حکمران مل جائے جو ان مثالی خوبیوں کا حامل ہو۔لیکن آج کل کا دور جس میں سائنس کی ترقی نے تمام فاصلے گھٹا دیئے ہیں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پوری دنیا میں ایک اجتماعی نظام ہونا چاہئے ۔آج کل کے حالات ایک عالمی ریاست اور عالمی حکومت کا تقاضا کرتے ہیں لیکن عالمی ریاست اس وقت تک نہیں بن سکتی جب تک افراد انسانی کے درمیان جغرافیائی ، نسلی ، لسانی اور طبقاتی تعصبات کی خود ساختہ دیواروں کو ڈھانہ دیا جائے۔پس اب تک مغربی فلاسفہ نے انسانی اجتماعیت کے لیے جتنے بھی اصول فراہم کئے ہیں ان میں کوئی اصول بھی ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد پر تمام افراد انسانی کو ایک محاذ پر لایا جا سکے ۔مغربی فلاسفہ کی اکثریت ایک حد تک الجھن میں گرفتار ہے کہ زیادہ سے زیادہ جس نظریہ پر موجودہ دور عمل پیرا ہے وہ جمہوریت کا نظریہ ہے ۔ان کے نزدیک جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک فرد بذات خود حاکم مطلق ہو۔اس کو حاکمیت کے اختیارات حاصل ہوں،وہ جس چیز کو چاہیے حلال قرار دے اور جسے چاہے حرام قرار دے لیکن انسانی حاکمیت کے اصول پر یہ ممکن نہیں کہ دنیا میں کوئی بھی نظام اور کوئی بھی ریاست اور حکومت چل سکے۔مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کون سا سیاستدان صحیح ہے کون سا غلط،کون سا محکمہ صحیح کام کر رہا ہے اور کون سا نہیں مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ میں نے پاکستان کے لئے کیا کیا ہے۔