انگور اڈا کا مسئلہ لاینحل کیوں؟

پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر 18ماہ سے بند تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے مذاکرات کی ناکامی تشویشناک امر ہے تجارتی سرگرمیاں معمولی تنازعہ کے باعث پچھلے18 ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔جس کو ختم کرانے کیلئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تاجر وںاور پاک افغان بارڈر سے وابستہ لوگوں نے افغان حکومت سے رابطہ کرکے پکتیکا کے گورنر کو انگوراڈا گیٹ پر معمولی نوعیت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے راضی کیا تھا ،گورنر پکتیکانے ایک وفد مذاکرات کے سلسلے میں انگوراڈہ گیٹ بھیجا، وفدکے نمائندوں نے ڈی سی اور ڈی پی او لوئر وزیرستان کیساتھ مذاکرات کئے۔ افغان حکومتی وفد نے انگوراڈا گیٹ پرتجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے تمام مطالبات تسلیم کئے اور مسائل کو حل کرانیکی ساری ذمہ داریاں لینا کیلئے تیارہوگئے لیکن ڈی سی لوئر وزیرستان اور ڈی پی او نے پاکستان کی طرف سے ذمہ داریاں لینے سے انکار کے بعد مذاکرات ناکام ہو گئے۔دوسری طرف سے معاملات طے کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے انکار کی وجوہات کاعلم نہیں بہرحال جو بھی معاملات تھے وہ طے ہونے چاہئیں اور سرحدی تجارت کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے تھی۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارتی راستوں کی بندش کی نوبت آنالمحہ فکریہ ہے حکومت کی جانب سے سرحدی مقامات پر چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں کے قیام اور پاک افغان تجارت میں اضافے کے باوجود عندیے دیئے جارہے ہیں لیکن عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ تجار تجارت چھوڑنے پر مجبو رہوگئے ہیں معلوم نہیں وہ کیا عوامل اور مشکلات ہیں جس کے باعث یہ نوبت آگئی ہے بہرحال جوبھی صورتحال ہو اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے اور اس کا تدارک کرکے پاک افغان سرحدی تجارت بحال کی جائے اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ یہ سرحدی تجارت ہی ہے جو سرحد کے دونوں طرف کے عوام کا ذریعہ معاش اور رزگار کاذریعہ ہے جس کی بندش سے علاقے میں کاروبار اور روزگار کے متاثر ہونے سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوگا حکومت کو چاہئے کہ وہ تاجر برادری کے نمائندوں سے رابطہ کرکے ان کے تحفظات اور مشکلات کو دور کرے اور آئندہ کے لئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سرحدی تجارت متاثر نہ ہو ضرورت یہی کافی نہیں بلکہ حکومت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں اضافے اور تجارتی اشیاء کے نقل وحمل کے نظام کو سہل بنائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ رکاوٹیں پیش نہ آئیںاور باآسانی تجارت کو جاری رکھا جا سکے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ آئندہ کے لئے ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں گے کہ جودونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کا باعث بن سکیں۔اس وقت ملک کی جومعاشی صورت حال ہے اور عوام و تجارجس قسم کی مشکلات کا شکار ہیں اس کاتقاضا ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو تجارت میںاضافہ کیا جا سکے اور تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔