خبریں’ لطیفہ’ کہانیاں اور ایک میگا پراجیکٹ

پہلے تین خبریں پڑھ لیجئے پھر اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ پہلی خبر مصر سے ہے جہاں کورونا کو سفید جھوٹ قرار دینے والا شہری کورونا سے ہی جاں بحق ہوگیا۔ دوسری خبر گردشی قرضوں کے بارے میں ہے۔ نیپرا کی دستاویزات کے مطابق گردشی قرضوں میں ریکارڈ بنیاد پر 20ارب روپے ماہانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے، ایک سال میں تقسیم کار کمپنیوں کے واجبات میں 248ارب کا اضافہ ہوا، اس طرح یہ واجبات 896 ارب سے بڑھ کر 1145 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ تیسری خبر وزیراعظم کی سابق مشیر اطلاعات آپا فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے ہے، آپا فردوس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں بیٹھے چند بونے ان کیخلاف جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف اطلاع یہ ہے کہ آپا فردوس نے بلاول ہائوس فون کرکے بلاول بھٹو سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کی درخواست رد کردی گئی۔ جہانگیر ترین کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد آپا ملتان پہنچیں اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی خواہش مند ہوئیں، انہوں نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ یوں آپا کا دورہ سندھ و سرائیکی وسیب ناکام رہا۔ اب ایک لطیفہ، جناب شیخ رشید ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہنا تو یہ چاہتے تھے کہ ریلوے کو ایڈوانس بکنگ میں 24کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے مگر کہہ یہ بیٹھے کہ 24کروڑ لوگوں نے ریلوے کے ذریعے سفر کیلئے بکنگ کروائی ہے۔ زبان غوطہ کھا گئی، سوشل میڈیا پر جناب شیخ کا ویڈیو کلپ وائرل ہوگیا۔ ان دنوں دو تصوریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، پہلی تصویر وفاقی وزیرمملکت زرتاج گل کی ہے جس میں وہ ایک گلی کو پختہ کئے جانے کے کام کا آغاز ہوتے وقت زمین پر بیٹھی دعا کر رہی ہیں، اس تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے ''محترمہ زرتاج گل ایک میگا پراجیکٹ پر تعمیراتی کام شروع ہونے کے بعد دعا کر رہی ہیں''۔ ہفتہ کو کورونا کے 1144 نئے کیسز آئے جبکہ اموات کی تعداد 870 ہوگئی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی ہی نرمی ہے مگر اس کیساتھ جناب اسد عمر کا یہ بیان بھی کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے جون کا مہینہ سخت ثابت ہوسکتا ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی' کورونا وائرس کے حوالے سے لکھنا کڑھنا چھوڑ دو، حکومت جانے اور شہری اس کے بعد جو ہوگا دونوں بھگتیں گے۔ بات ان کی درست ہے' سیاست کے میدان میں ان دنوں دھول بہت اُڑ رہی ہے، اگلے روز وزیراعظم کے احتسابی مشیر شہزاد اکبر تھکا دینے والی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی کرپشن کہانی کاغذ دکھا دکھا کر سناتے رہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران یہ ساتویں کہانی ہے، پہلی چھ کہانیوں کا کیا ہوا؟ البتہ لگتا یہ ہے کہ لندن سے وزیراعظم بننے کیلئے واپس آنے والے شہباز شریف کیساتھ ہاتھ ہوگیا ہے، ان کے دونوں کام نہیں ہوئے۔ وزیراعظم بنوانے کی یقین دہانی کروانے والے غائب ہوگئے، پنجاب میں تختہ اُلٹنے کا منصوبہ بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ رہی شہزاد اکبر کی ساتویں کرپشن کہانی، اس کے درست و غلط ہونے کی اصل جگہ عدالت ہے ٹی وی چینل ہرگز نہیں، کیس بنتا ہے تو بنائیں اگلا عدالت میں صاف دامنی ثابت کرے گا یا سزا پائے گا۔ یہ قسطوں میں کہانیاں بیان کرنا تو ایسا لگتا ہے کہ نون لیگ کو دبائو میں رکھنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ ''چھوٹے میاں صاحب کیلئے لاک ڈائون میں لاک اپ کا پروگرام ہے''۔ لاک ڈاؤن تو ختم ہوگیا جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہوگی، ان حالات میں شہباز شریف کیلئے لاک اپ کا انتظام مناسب بات نہیں۔ پچھلے چند دنوں سے انٹر نیٹ پر قائم کچھ ویب چینل سابق صدر آصف علی زرداری کی وفات کی خبریں چلا کر ویورز سمیٹ رہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دوستوں نے جب بھی سوشل میڈیا کی مخالفت کی ہم نے ان سطور میں عرض کیا کہ آپ کے منفی رویوں، کرائے پر پروپیگنڈہ مہم چلانے کے کاروبار نے لوگوں کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ بھی جب چاہیں جس کی چاہیں پگڑی اُچھالیں یا آنچل نوچیں۔ ایک صاحب جو عجب کرپشن کی غضب کہانیاں سنایا کرتے تھے، ان دنوں پھر اتاولے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر افسوس کہ اب ان کی سنجیدہ بات کو بھی لوگ غیر سنجیدہ لیتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی نیٹ پر قائم ویب چینلز کی، آپ حیران ہوں گے جعلی تاریخی واقعات اور جھوٹ کی تومار کرنے والے ان چینلوں کے لاکھوں ویورز ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک مثبت ذرائع ابلاغ کو منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے کیلئے استعمال کرکے کوئی خدمت ہوسکتی ہے؟ آصف زرداری کی صحت بجاطور پر خراب ہے، وہ کراچی کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، ان کی وفات کی جعلی خبریں اور یہ دعویٰ کہ کورونا کے حالات کی وجہ سے وفات کا اعلان نہیں کیا جا رہا گھٹیا ترین حرکت ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ایسی ویڈیوز اور پوسٹوں کے نیچے کئے گئے کمنٹس پڑھ کر رونا آتا ہے کہ ہم کس ''شان'' سے تعمیر کئے گئے معاشرے میں جینے پر مجبور ہیں، جہاں گالی کے بغیر کوئی شخص بات نہیں کرتا۔ افسوس ہوتا ہے خود کو پڑھا لکھا کہنے کہلوانے والوں کے اذہان میں کیسی غلاظت بھری ہے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر قانون سازی کا عمل آگے نہیں بڑھ پایا تو اس کی ذمہ دار حکمران جماعت اور اس کے اتحادی ہیں۔ ضمنی سوال یہ ہے کہ پونے دو سال کے دوران خود وزیراعظم کتنی بار قومی اسمبلی یا سینیٹ میں تشریف لائے؟ وزارت صحت کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے کورونا سے پیدا ہوئے مسائل پر دونوں ایوانوںکے بلائے گئے اجلاسوں میں انہوں نے شرکت کیوں نہ کی اور کیوں ان کی جگہ وزیرخارجہ نے ایوان میں حکومتی موقف پیش کرنے کی بجائے ایک ایسی تقریر فرما دی جس کا موجودہ حالات اور ضرورتوں سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا بلکہ اس تقریر سے وہ دھول اُڑی کہ کورونا سے پریشان شہریوں کا سانس لینا دشوار ہوگیا۔