نگران وزیر اعظم کی یقین دہانیاں

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے دو اہم معاملات پر یقین دہانیاں کراکے صورتحال کو بہت حد تک واضح کردیاہے ‘ ایک اہم مسئلہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے آنے والے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ یعنی یکساں اور برابر کے مواقع فراہم کرنے پر شکوک و شبہات کا اظہار ہے نگران وزیر اعظم نے کہا ہے کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان پورا آئین نہیں ہے ‘ کہا یہ پہلونظرانداز کردیں؟انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وفاداروں کوبھی الیکشن مہم چلانے اور ووٹ ماننگے کی اجازت ہوگی ‘ ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی پرپابندی لگائے ‘ انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ دیںگے’ چیئرمین پی ٹی آئی کے وفادار الیکشن میں حصہ لیں گے ‘ اس سے زیادہ لیول پلینگ فیلڈ کیا ہوسکتی ہے ‘ ا لیکشن کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرتے رہیں گے ۔ الیکشن کی تاریخ کا اعلان پورا آئین نہیں ہے ‘ آئین کے کئی اور پہلو ہیں ‘ کیا ان تمام پہلوئوں کونظر انداز کرکے صرف اس ایک پہلو پرزور دینا چاہئے؟ووٹ دینے کے لئے جتنے سب بے چین ہیں اتنا ہی میں بھی ہوں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے تحریک انصاف کے چیئرمین کے خلاف مختلف مقدمات قائم ہوئے ہیں اور بعض میں انہیں قید و بند کا سامنا ہے ‘ جبکہ سائفر کیس ‘ توشہ خانہ کیس اور ایک بڑے ٹائیکون سے مبینہ طور پر اربوں کی زمین لینے اور اس پر ایک ادارے کے قیام کے ضمن میں کچھ مبینہ بدعنوانیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ‘ جن میں نہ صرف ان کی ضمانتیں نہیں ہو پا رہی ہیں بلکہ سیاسی حلقوں میں یہ خدشات بھی عام ہیں کہ ان میں سے اکثر مقدمات میں انہیں لمبی سزا ہو سکتی ہے ‘ یوں ان کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کی وجہ سے انتخابی عمل میں ان کی موجودگی پر سوالیہ نشان ثبت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ‘ جن کی وجہ سے ا ن کی پارٹی کے حلقوں کے اندر تشویش دوڑنا فطری امر ہے اس لئے نہ صرف پارٹی کے اہم رہنمائوںکی جانب سے آنے والے انتخابات میں پارٹی چیئرمین کو حصہ لینے کے مواقع نہ ملنے کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اسے ”لیول پلینگ فیلڈ” نہ دینے سے موسوم کیا جارہا ہے ‘ حالانکہ تحریک انصاف کے چیئرمین توکیا کسی بھی جماعت کے سربراہ سے لے کر عام پارٹی ورکر تک پر ملکی قوانین کے تحت اگرمقدمات کی وجہ سے پابندی لگے تو اسے لیول پلینگ فیلڈ سے جوڑنا درست نہیں ہوسکتا ‘ زیادہ دور نہ جائیں بلکہ نون لیگ کے قائد ‘ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ جوبرتائو کیاگیا’ ان پر مقدمات قائم کرکے انہیںساری زندگی کے لئے نااہل کرکے انتخابی میدان سے باہر کیاگیا البتہ ان کی جماعت کے رہنمائوں کوا نتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ‘تب نون لیگ کی جانب سے ایسا کوئی اعتراض نہیں کیاگیا ‘ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ جو مقدمات اس وقت نون لیگ کے سربراہ پرقائم کئے گئے تھے ان کی حقیقت کیا تھی ‘ اور اب وہ سب کچھ واضح ہو کرسامنے آبھی رہا ہے جبکہ جہاں تک چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف قائم مقدمات کا تعلق ہے اس حوالے سے بھی حقائق سب پر واضح ہیں ‘ اور جب تک انہیں ان مقدمات میں عدالتوں سے واضح طور پر ریلیف نہیں ملتا ‘ ان کی انتخابات میں شمولیت کے حوالے سے اٹھائے جاے والے سوالات کولیول پلینگ فیلڈ کے ساتھ جوڑنے کاکوئی جواز نہیں بنتا ‘ نگران وزیر اعظم نے اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر افراد پر الیکشن میں حصہ لینے کی کوئی پابندی نہیں ہو گی ‘ دریں اثناء جوحلقے ا نتخابی عمل میں کسی بھی جماعت کو یکساں مواقع نہ ملنے کے خدشات کاا ظہار کر رہے ہیں ہماری دانست میں یہ درست سوچ نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے کہ اگر گزشتہ کل نواز شریف کو (کسی بھی طور) انتخابی عمل میں باہر رکھنے کو لیول پلینگ فیلڈ کے کلیے سے نہیں جوڑا گیا تو آج ایسا سوال کیسے اٹھایا جاسکتا ہے ‘ البتہ اگر عدالتوں سے ریلیف کے باوجود کسی کو انتخابی عمل سے باہر رکھا جاتا ہے تو یہ قابل اعتراض ہوگا ‘ اورسیاسی حلقوں کو انتخابی عمل میں شامل ہونے والوںکے حوالے سے آئینی اور قانونی تقاضوں پر بھی ضرور غور کرنا چاہئے ‘ خواہ مخواہ کے اعتراض سے حقائق کوچھپایا نہیں جا سکتا ‘ دوسرا مسئلہ جس پر نگران وزیر اعظم نے اظہار خیال کیا وہ غیر قانونی طور پرپاکستان میں مقیم غیرملکیوں کے انخلاء کا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس نہیںبھیج رہے ہیں البتہ بہت سے لوگ بغیر کسی دستاویزات کے کئی سالوں سے رہائش پذیر ہیں یہ لوگ واپس جائیں اور قانونی طور پر واپس آئیں ‘ کسی بھی دوسرے ملک کا باشندہ و یزا لے کر پاکستان آسکتا ہے البتہ کسی کے املاک پر قبضہ کرنا یا ہتھیانا ہمارا مقصد نہیں ہے ۔ نگران وزیر اعظم کی بات پر یقین نہ کرنے کی اگرچہ بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی تاہم جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانافضل الرحمن نے افغان مہاجرین کی جائیدادوں پر قبضہ جمانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ظالمانہ رویہ قراردیا ہے اگر اس میں حقیقت ہے تو مسئلے کے اس پہلو کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ‘ اور اس الزام کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات ہونی چاہئے ‘ کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہئے ‘ تاہم تحقیقات کرتے ہوئے مسئلے کے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ جب قانونی طورپر افغانوں کویہاں جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہے تو ان لوگوں نے اتنی بڑی جائیدادیں کیسے خریدیں ؟ ظاہر ہے جعلی شناختی کارڈز حاصل کرکے ہی ایسا کیاگیا ‘ تو اصل مجرم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان غیر ملکیوں کوپاکستانی بنانے میں سہولت کاری کی ‘ ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:  دہشت گردی اور انتخابات