ہیروگیری و دیوتا کشی کے ریاستی تجربات

مسلم تاریخ کی ہیرو گیری والی متھ اتنی کامل ہے کہ جو جس کو ہیرو سمجھتا ہے وہ اسے ”صفاتِ خداوندی” سے بھردیتا ہے۔ پاکستان کا یا یوں کہہ لیجئے کہ برصغیر پاک و ہند کا مسئلہ اور معاملہ بھی مسلم تاریخ سے الگ بالکل نہیں۔ اپنے ہاتھوں ضرورتوں اور خوابوں میں تراشے ہوئے محبوب، بْت اور ہیرو نہ صرف عزیز جاں سے بڑھ کر ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو ان کی معصومیت پر یقین کامل ایسا جوش مارتاہے کہ انہیں پوجنے لگتے ہیں۔ یہاں نانگے، نہ صرف پہنچ والے بزرگ قرار پاتے ہیں بلکہ ان کے ”مزارات”بھی گمراہوں کے لئے بندرگاہ کے لائٹ ہائوس کا کام دیتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت عقیدت میں اور اختلاف نفرت میں گندھے ہوتے ہیں۔ اچھا فقط ہم ہی نہیں پورے برصغیر پاک و ہند کی ذہنی و فہمی حالت اور اٹھان ایسی ہی ہے۔ آپ مسلم تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ پڑھ لیجئے کہ ہیرو گیری کے پردے میں کیا کیا اور کیسے ہوا۔ کیسے قاضیانِ وقت نے باپ کی لونڈی بیٹے پر حلال قرار دینے کا راستہ نکالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس باپ اور بیٹے کے جودوسخا، حلم، علم پروری اور اسلام دوستی کے فسانے اسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ ایک مثال ہے لیکن آپ اگر مسلم تاریخ کے ساتھ ساتھ مزید کتب تواریخ پڑھنے کی ہمت کریں تو آپ کو درجنوں کیا سینکڑوں مثالیں مل سکتی ہیں۔ البتہ ان مثالوں کی بنیاد پر بنی رائے کے اظہار سے گریز کیجئے گا کیونکہ ہیرو مقدس ہوتے ہیں۔ میں ان بالائی تمہیدی سطور کی کیا وضاحت کروں ماسوائے اس کے کہ ماضی کی ایک اداکارہ حاجرہ خان پانیزئی نے ایک شخص کی کردار کشی میں حصہ ڈالا ہے۔ ویسے مجھے بھی حیرانی ہے کہ 2014ء میں تحریر کی گئی کتاب اب شائع کیوں ہوئی تقریباً 9 برس تک کتاب کی ”بلوغت” کا انتظار کرنے کی ضرورت کیا آن پڑی تھی اور یہ کہ برطانیہ اور امریکہ کے پبلشرز نے 2014ء اور 2016ء میں اس کتاب کی اشاعت سے انکار کیوں کیا؟ ساعت بھر کے لئے رکئے آج کا کالم اداکارہ حاجرہ خان پانیزئی کی کتاب بارے نہیں ہے۔ اس کتاب پر بات کرنا یا لکھنا گٹر میں پتھر مار کر گندگی اڑانا ہے۔ میں درحقیقت آپ سے اس ریاست کے تراشے ہوئے ہیروز بارے بات کرنا چاہ رہا ہوں۔ دلچسپ بلکہ باعث عبرت بات یہ ہے کہ اس ریاست نے ہیرو گیری کے شوق میں جتنے تجربے کئے وہ الٹ کر اس کے گلے پڑے۔ ریاست کے تجربوں کے شوق سے تخلیق ہونے والے اشخاص ہوں یا گروہ اولاً تو وہ اپنے خالق کے وجود سے انکاری ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ معروضی حالات، مسائل اور مشکلات کا ردعمل ہیں ریاست کی تخلیق نہیں۔ مجھے یا آپ کو اس دعوے یا ”بڑ” پر ہنسنے کی ضرورت نہیں۔ تخلیق ہمیشہ خالق کے گریبان سے الجھتی ہے۔ ریاست کے تخلیق کردہ ہیروز، فرد یا گروہ دونوں نے پچھلے برسوں عشروں میں ریاست کے ساتھ کیا کیا اس سے ہم سبھی واقف ہیں مثلاً ریاست نے جو محفوظ اثاثے بنائے تھے ان اثاثوں کے پھٹنے پھوٹنے اور دوسری کارروائیوں میں اس ملک کے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موت کا رزق ہوئی۔ حکومت 75 سے 80 ہزار اموات کی دعویدار ہے جبکہ عمومی خیال یہ ہے کہ اس ماردھاڑ میں ایک لاکھ کے قریب افراد مارے گئے۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ کب رکے گا؟ اس سوال کاجواب کسی کے پاس نہیں۔ سیاست کے میدان میں ریاست نے جو تجربات کئے وہ بھی ایک دن اس کے لئے دردسر بنے۔ کسی نے نتیجہ سے سبق سیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ ایک ”گناہ اور سہی” کے مصداق ایک تجربہ اور سہی سے جی بہلایا۔ 1988ء میں تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد ریاست نے معتوب پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ جنرل ضیاء الحق کے منظور نظر وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نوازشریف کو متبادل قیادت کے طور پر ڈھالا پھر کیا ہوا۔ میاں صاحب اور ریاست میں تین بار ان بن ہوئی ریاست نے انہیں جس طرح اقتدار سے نکلوایا وہ ان کا بْت تراشنے سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔ آج کل ریاست اور میاں صاحب میں چوتھی صلح چل رہی ہے۔ اس صلح کا انجام نہ سمجھ میں آنے والا نہیں۔ اسی طرح جناب عمران خان کی حالیہ ”مقبولیت” اپنی جگہ لیکن یہ بھی اسی ریاست کا تجربہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مکو ٹھپنے کے پروگرام کے تحت محنت کے ساتھ ایک مسیحا تخلیق کیا گیا۔ ریاست نے اپنے سارے وسائل اور ذرائع ان کی قدآوری کے لئے دائو پر لگائے یہاں تک ففتھ جنریشن وار کے لئے بنایا گیا لشکر بھی جہیز میں عطا ہوا۔ پنجاب میں بھارت دشمنی کی مٹی سے بنائی گئی نسل کے ساتھ پختونخوا سے جہادیوں کی نئی نسل سبھی ان کی جھولی میں ڈالے گئے۔ انتخابی مینجمنٹ کی کالک چہرے پر ملی اسے اقتدار میں لائے۔ ریاستی پروپیگنڈہ مشینری کے ذریعے چور قرار پائے ہوئوں سے نجات کے ساتھ اسلامی صدارتی نظام لاکر ترکی کے پرانے نظام کا تڑکہ لگاکر سکیورٹی سٹیٹ کے ساجھے داری میں مزید اضافہ کرنا تھا۔ بائیس چوبیس برس عموماً اور 2005ء کے بعد سے خصوصاً اس بت گری کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اکتوبر 2011 ء سے برہنہ ہوکر سامنے آگیا۔ دو سوا دو عشروں کی محنت سے تیار کردہ ہیرو اور خالقوں میں لڑائی ہوئی تو ماضی کی طرح فراہم کردہ لشکری نئے ہیرو کے ساتھ چلے گئے۔ یہاں بار دیگر رکئے۔ میں آپ کی توجہ اس امر کی جانب دلوانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس ریاست نے جتنے بھی لسانی، سیاسی، مذہبی، مسلکی تجربات کئے ان تمام تجربات کا نتیجہ کیا نکلا۔ سکیوٹری اسٹیٹ کے تام جھام کو برقرار رکھنے کے لئے تجربوں کی بجائے عوام کو نظام اور قیادت کے حوالے سے آزادانہ فیصلے کرنے دیئے جاتے تو حالات و نتائج مختلف ہوتے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ اس سارے تجربات سے تخلیق ہوئے اشخاص اور گروہوں بارے لڑائی کے بعد ریاست نے جو کہا کہلوایا گیا لوگوں نے اس پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرلیا؟ اعتبار کیا ہوتا تو کالعدم ٹی ٹی پی کو مالی اور افرادی قوت اسی سماج سے نہ ملتی جس سماج کے ہزارہا لوگ ٹی ٹی پی اور اس کے ہم خیال گروہوں نے موت کارزق بنائے۔ ریاستی الزامات پر لوگ یقین کرتے تو ریاست کو نوازشریف سے چوتھی بار صلح کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ریاست نے جتنی محنت اور وسائل مسیحا قیادت کے لئے ذہن سازی اور حالات کو معاون بنانے پر صرف کئے اس سے متاثر ہونے والے تینوں طبقات اور خود ریاست پرست گروہ اپنی نئی محبت کے بارے میں کوئی بات سننے پر تیار نہیں۔ ریاستی سائنسدانوں کو یقین نہیں تو پچھلے دو دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر جو کہا لکھا جارہا ہے اس پر نگاہ ڈال لیں خاصا افاقہ ہوگا۔ ایک ایسی قوم جو باپ و بیٹا دونوں کو مسلم عہد کی شاندار شخصیات قرار دے کر ان کی سخاوت، دریا دلی، علم دوستی وغیرہ وغیرہ کے پرلطف کتابی قصوں پر سردھنتی ہو اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ اب ہیرو گیری کی محبت چھوڑ کر سوچے گھاٹے کا سودا ہے۔ تجربوں سے بہتر یہ ہوگا کہ رائے دہندگان کو آزادانہ طور پر قیادت بارے فیصلہ کرنے دیا جائے۔ کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی اسی صورت میں باردیگر عرض ہے جہاں برہنہ گھومنے والے پہنچی ہوئی شخصیت شمار ہوتے ہوں، ان سے بانڈ کا نمبر لینے، اولاد اور دوسری مشکلات کے حل کا نسخہ لینے والے قطاروں میں ہوں، جس سماج میں تعویز گنڈوں اور مردانہ صحت کے مسائل کے حل کے لئے دیواری اشتہارات کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہو وہاں ہر شخص کا اپنا ہیرو اور دیوتا ہوتا ہے وہ اپنے ہیرو اور دیوتا کے لئے ”کچھ” بھی کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  پیشہ ور گداگروں کی بھرمار