جاگدے رہنا حکمرانو!

ان انتخابات کے بارے میں تبصرہ کیا جائے یا نہیں یہ سوال ہم میں سے اکثرلوگوں کے ذہنوں میں گردش کرنا چاہئے ۔ اس کے حوالے سے بات چیت ‘غور و فکر ہونا چاہئے ‘ یہ سوچنا چاہئے کہ یہ بات کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں اس لئے نہیں کہ لوگ خوفزدہ ہیں کہ ان کی کسی بات کے نتیجے میں انہیں کیسے ثمرات بھگتنے پڑ سکتے ہیں’ یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں ‘ کون کس حد تک ناراض ہوسکتا ہے اور کیا ہم ان نتائج کے متحمل ہوسکتے ہیں ۔ نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے بڑے بڑے برج الٹ گئے ہم اس سب میں کس کھیت کی مولی ہیں یہ سب باتیںاپنی جگہ لیکن ان کا خوف کچھ کم ہے اصل بات تو سود و زیاں کے حوالے سے ہے کہ کیا اس سب پر بات چیت کرکے وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے ملک میںانتخابات ہوئے ‘ کیسے ہوئے ‘ نتائج کے حوالے سے کیا بات چیت ہو رہی تھی ‘ اگر اندازے غلط ہوئے توکس کے اور کیونکر اور اس میں کون مددگار ثابت ہوا ‘ عوام نے کس طرح کا ردعمل دیا اور بین ا لاقوامی میڈیا اس حوالے سے کیا کہہ رہا ہے ‘ ہم پر یہ سب کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے پاکستان کو اس سب سے کیا اورکس قدر نقصان ہوسکتا ہے اور کیا بحیثیت غریب ملک ہم اس سب کے متحمل ہو سکتے ہیں ‘ ڈیفالٹ کی باتیں بھی ایک بارپھرفضا میں گرد اڑا رہی ہیں ‘ یہ سب باتیں اس وقت کی جا سکتی ہیں ‘ اندازے لگائے جا سکتے ہیں ‘ حساب کتاب اور گوشوارے مرتب ہو سکتے ہیں اور اس سے نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں جب ان باتوں میں کسی قسم کا ابہام ہوجس کو دور کرنے کی ضرورت ہو ‘ کیا ہوا’ کیسے ہوا’ کس نے کیااور کیوں اس میںاگر کسی قسم کی تفصیل پہلے کبھی پنہاں تھی تواب سب کچھ سب کے سامنے ہے اور عوام سب جانتے ہیں ۔ عوام کی ترجیحات میں ردعمل کس قدر ہے اورکس کی جانب ہے اس کو مکمل طور پر سمجھ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس ردعمل کا جہاں ایک نتیجہ اچھا ہے وہیں ایک جانب اس ملک کے لئے اچھی نہیں ‘ اس ردعمل نے ثابت کیا ہے کہ لوگوں میں سیاسی شعور پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔پاکستانی پہلے بھی سیاست میں بہت دلچسپی رکھنے والے لوگ تھے ‘ اب انہیں اپنے ووٹ کی طاقت کا ابھی اندازہ ہونے لگا ہے ۔ اس ووٹ کی طاقت کو انہوں نے ان انتخابات میں استعمال بھی کیا ہے ‘ ایک انتہائی مناسب طریقے سے اس کے ذریعے ایک پیغام بھی دیا ہے کہ اگر اس ملک میں جمہوریت ہے تو نمائندے درست ہیں یا نہیں ابتداء کا اندازہ عام آدمی کو ہوگیا ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں تبدیلی کی ‘ انتقام کی اور غصے کی ایک ایسی طاقت ہے جسے وہ جب چاہے گا استعمال کرے گا اور وہ لوگ جوانہیں کمل عقل یا کند ذہن سمجھتے ہیں انہیں بتا دیا جائے گا کہ یہ فیصلہ عوام کا ہے وہ اپنی مرضی کریں گے ان انتخابات میں وہ مرضی اور طاقت تو جتا دی گئی ۔ اس طاقت کے جتا دیئے جانے میں سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے لئے بھی بڑا خطرناک اورواضح پیغام ہے ۔ان انتخابات کے نتائج میں کوئی کسی طرح بھی کارگر رہا اس کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جو متوقع تھے ‘ غصہ ‘ آزاد امیدواروں کی فتح میں مترشح ہے حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی اپنے دور اقتدار میں کوئی کارکردگی ظاہر نہیں کر سکی ‘ انہیں حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور پھراقتدار ایک ایسے ٹولے کے ہاتھ میں تھا جوخود کو فرشتہ اور باقی ساری دنیا کوگنہگارسمجھتے تھے ۔ میں باربار ان دنوں میں لکھتی رہی کہ تحریک انصاف کوٹیم بنانے کی ضرورت ہے ‘ بیورو کریسی میں نیک نیت اور پاکستان دوست لوگ موجود ہیں جوپاکستان کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں اور ان میں سے اکثر کھڈے لائن سیٹوں پربیٹھے ہیں لیکن انتخاب ان لوگوں کا ہوتا رہا جن کی زبانیں شہد کی اور نیتیں انتہائی مکروہ تھیں پھر وزراء کے دماغ میں یہ خیال ہی عنقا تھا کہ یہ ملک کسی نظام ‘ کسی قانون کے مطابق چل رہا ہے ‘ نتیجہ ساڑھے تین سال بعد ایک ڈرامہ ہوا کیونکہ مسلم لیگ نون کوحکومت کاموقع دے کر ہی خفقان قلب ہونے لگتا ہے اس میں انہوں نے اپنا مستقبل بھی دائو پر لگا دیا اور اب پہلے سے کہیں زیاہ یہ ہونے جارہا ہے اس سب میں صرف اس ملک اور عام آدمی کا نقصان ہوتا ہے ‘ اب کی بار بھی یہی ہوگا ‘ اتنی کمزور حکومت اور اتنی بٹی ہوئی مکمل اپوزیشن ‘ اس میں اس ملک کے لئے کیا بہتری ہو گی اسے سمجھنے کے لئے کسی استخارے کی ضرورت نہیں۔
ہاں اس ساری تاریکی اور گھمسان میں چند باتیں اچھی بھی تھیں ‘ لوگوں کے شعور کا اظہار اچھا تھا ‘ چاہے ان کے پاس کوئی مناسب ‘ متبادل سیاسی طاقت نہ تھی لیکن لوگوں نے جنہیں پیغام دینا تھا انہیںبا آواز بلند دیا’ سراج الحق صاحب نے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی حالانکہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اس شکست میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا ۔ لیکن جماعت اسلامی کا کمال یہ ہے کہ یہ پاکستان کی واحد باشعور اور انتہائی جمہوری سیاسی جماعت ہے ۔ یہ با اصول لوگ ہیں ‘ اس جماعت میں داخلی انتخابات ہوتے ہیں یہ اپنے لوگوں کی مسلسل تربیت کرتے ہیں اور مولانا مودودی سے آج تک ان کے طریقہ کار میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ یہ انتہائی خلوص سے لوگوں کے کام کرتے ہیں اورحدوں سے تجاوز نہیں کرتے ‘ یہ اصولوں کے پکے ہیں اور وطن پرست ہیں اسی لئے حکومت میں اس بارتوان کی بالکل بھی جگہ نہیں تھی ‘ سراج الحق صاحب کے بعد نعیم الحق نے دوسری خوبصورت بات کی کہ پی ٹی آئی کے حق میں اپنی سیٹ سے دستبردار ہوئے اور تیسری ا س الیکشن کی اچھی بات سعد رفیق صاحب کا کھلے دل سے شکست تسلیم کرنا تھا ‘ ان کے ساتھ حلقہ بندیوں میں تبدیلی سے زیادتی بھی ہوئی تھی اس کے باوجود انہوں نے کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا اورسب سے پہلے ٹویٹ کیا ‘ سعد رفیق صاحب کے ساتھ کام کرنے کا میرا اپنا تجربہ ہے صاف گوئی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے اور وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں ان کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے اب بھی جیسے انہوں نے اپنی شکست تسلیم کی یہ وہی کرسکتے تھے ۔
انتخابات ہوئے اور اب ملک میں حکومت سازی کے معاملات جاری ہیں ‘ آنے والی حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے گی اور مسلسل مشکلات کا شکار بھی رہے گی لیکن سیاست دان بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اوریہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اب کی بار کارکردگی دکھانی لازم ہے کیونکہ عوام کواب مزید باتوں سے بہلانا ممکن نہیں۔ اب کی بار ”جاگدے رہنا” کا نعرہ حکمرانوں کے لئے ہے خواہ وہ سیاسی ہوں یا دوسرے۔

مزید پڑھیں:  ایران کے خلاف طاغوتی قوتوں کا ایکا