بے وقت کی راگنی

عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے زیراہتمام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئین کی بالادستی اور تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار تک محدود رکھنے کی جدوجہد نہیں رکے گی۔پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا صرف ایک ہی نعرہ ہے کہ پاکستان میں کسی ادارے کی نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہو۔ سیاست میں سٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا ہوگا، ملکی بقا کا واحد راستہ یہی ہے۔دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے قائد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ براہ راست مداخلت کرکے ایک ایک حلقہ سے اپنی مرضی سے نمائندوں کو چنے گی تو وہ عوام کے نمائندے نہیں ہوںگے، ایسی پارلیمنٹ کیسی پارلیمنٹ ہوگی ملک میں انتخابی نتائج کے بعد سے جس خاص رخ میں بیانات اور غم و غصے کا اظہارسامنے آرہا ہے اگرسیاستدان اچھے وقتوں میں مل بیٹھ کر اور میثاق کرکے اس مشکل کاحل ڈھونڈ نکالنے کی سعی کرتے تو آج صورتحال شاید مختلف ہوتی کہا جاتا ہے کہ لڑائی کے بعد مکا یاد آجائے تو اسے اپنے منہ پرمار لیناچاہئے بہرحا ل اب بھی وقت ہے کہ سیاستدان جس عطار کے لڑکے سے دوا لینے کو زہر ہلاہل سمجھنے لگے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ اس امر پرکلی طور پر اتفاق کیا جائے کہ آئندہ کوئی بھی زہرہلاہل کوقند نہ کہے گا اور نہ ہی اس کے حصول کی سعی کرے گا جب تک سیاستدان مفادات کے وقت الگ موقف اور مشکلات کے وقت موقف میں تبدیلی لانے کا عمل جاری رکھیں گے اور جب تک ایساہی ہوتا رہے گا تب تک ملکی سیاست اور جمہوریت کی درگت اسی طرح بنتی رہے گی اور اس کی ذمہ داری بھی بادی النظرمیں سیاستدانوں ہی پر عاید ہوتی رہے گی۔