قحط کا شکار

غزہ کی ایک چوتھائی آبادی قحط کا شکار

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا ہے کہ غزہ کی کم از کم ایک چوتھائی آبادی ( 576,000 افراد) قحط سے ایک قدم دور ہیں اور عملی طور پر پوری آبادی کو خوراک کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر اور اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیموں کے عہدیداروں نے غزہ کے تمام 2.3 ملین افراد کی ایک خوفناک تصویر کشی کی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار رمیش راماسنگھم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ آج کی تصویر انتی بھیانک ہے جس میںمزید بگاڑ کا ہر امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ قحط کے قریب غزہ کی ایک چوتھائی آبادی کے علاوہ، شمالی غزہ میں دو سال سے کم عمر کے ہر6 میں سے 1 بچہ ”شدید غذائی قلت “کا شکار ہے، جہاں جسم کمزور ہو جاتا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤنے کہا کہ یہ دنیا میں کہیں بھی بچوں کی غذائی قلت کی بدترین سطح ہے۔ انہوںنے متنبہ کیا کہ اگر کچھ نہیں بدلا تو شمالی غزہ میں قحط آنے والا ہے ۔
اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے اسرائیل کی جارحیت کے بارے میں مزید تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے ، جانوروں کی بڑی تعداد میں پناہ گاہیں اور بھیڑ اور ڈیری فارم تباہ، ایک چوتھائی سے زیادہ پانی کے کنویں تباہ، اور 339 ہیکٹر گرین ہاو¿س تباہ ہوئے۔ انہوںنے کہا کہ جنگ نے زیتون اور لیموں کے پھلوں کی فصل پر بھی بہت زیادہ اثر ڈالا ہے، جو فلسطینیوں کے لیے ایک اہم نقد آور فصل ہے۔
جہاں تک جانوروں کا تعلق ہے، تمام مرغیوں کو ممکنہ طور پر ذبح کر دیا گیا ہے، اور خیال کیا جاتا ہے کہ 65% بچھڑے اور 70% گائے کے مویشی مر گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:  نواز شریف اور مریم نواز کیمپ شہباز شریف کا دھڑن تختہ چاہتے ہیں،بیرسٹر سیف