نئے وزیر خزانہ

معیشت کے حوالے سے چیلنجز نئے وزیر خرانہ کیلئے بڑا متحان

ویب ڈیسک:پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کے مختلف ناموں پر غور جاری ،مشکل اصلاحات ،آئی ایم ایف سے مذاکرات اور کمزور معیشت سمیت کئی بڑے چیلنجز نئے وزیر خزانہ کے لئے بڑا امتحان ثابت ہوں گے ۔
نئی حکومت بننے کے بعد وزیر خزانہ کو فوری طورپر فوری طور پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)سے نئے بیل آٹ پیکج کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 350 ارب ڈالر کی حامل معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ معاہدہ11 اپریل کو ختم ہونے والا ہے جس کے لیے ایک اور بیل آٹ منصوبے کی ضرورت ہے۔
مسلم لیگ ن میں موجود دو ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے عہدے کے لیے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اہم ترین امیدوار ہیں جو اس سے قبل چار بار وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو اتحاد کی جانب سے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے جن کا انتخاب تین مارچ کو ہونا ہے، وہ منتخب ہونے کے بعد اپنی کابینہ کا اعلان کریں گے جس میں وزیر خزانہ بھی شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار ایسے واحد امیدوار نہیں جن کے نام پر غور ہو رہا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے رشتہ دار اور قریبی ساتھی ہیں، بہت سے سیاسی اتحادی ان کی گزشتہ کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں۔
تاہم وہ اپنے اقدامات کا یہ کہتے ہوئے دفاع کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کرنا ان کی مجبوری تھی کیوں کہ سابق وزیراعظم نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے پہلے حالات ہی ایسے پیدا کر دیے تھے۔
پاکستان کو گزشتہ موسم گرما میں چار ماہ تک معاہدہ کرنے کے لیے کوشش کرنا پڑی تھی جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے اور اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کو یہ معاہدہ کرنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی تھی۔
پارٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار اگر یہ عہدہ حاصل نہیں کر پاتے تو ان کی پارٹی ان کے لیے نائب وزیراعظم کا عہدہ تخلیق کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
دونوں ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سابق نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کے نام پر بھی غور ہو رہا ہے جو مرکزی بینک کی گورنر رہی ہیں اور موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اہم پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہی ہیں۔
شمشاد اختر اس نگراں حکومت کا اہم حصہ رہی ہیں جس کی تعریف آئی ایم ایف کی جانب سے کی جا چکی ہے کہ اس نے ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملک کے سب سے بڑے حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکیٹو آفیسر محمد اورنگزیب کے نام پر بھی غور ہو رہا ہے۔
وہ ایشیا میں جے پی مورگن گلوبل کارپوریشن بینک کے سی ای او کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ترجمان نے بھی تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔
اسحاق ڈار نے خود پارلیمان کے افتتاحی سیشن کے موقع پر رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ایک بار پھر وزارت خزانہ کا قلم دان سنبھالیں گے، کہا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما عرفان صدیقی نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو اس عہدے کے لیے ممکنہ طور پر منتخب کیا جائے گا۔
نئے وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ محض ایک نئے معاہدے کے لیے ہی مذاکرات نہیں کرنا ہوں گے بلکہ نئے وزیر خزانہ کے پاس نیا بجٹ تیار کرنے کے لیے تقریبا تین ماہ ہوں گے جسے مشکل اصلاحات اور معیشت کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان مسلم لیگ ن اتحادی حکومت کی قیادت کر رہی ہے جس کے باعث اسے اہم قانون سازی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی جیسا کہ اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ حکومت کی ایشو ٹو ایشو حمایت کرے گی۔
نئے وزیر خزانہ کے لیے تقریبا 30 فی صد کے غیرمعمولی افراطِ زر پر عوامی غصے کو کم کرنا بھی آسان نہیں ہو گا جب کہ اس وقت معاشی طور پر بہت زیادہ گنجائش موجود نہیں ہے۔
لندن میں مقیم ماہر معاشیات اور سٹی گروپ سے منسلک بینکار یوسف نظر نے کہا کہ پاکستان کو ایک ایسا وزیر خزانہ چاہیے جس کا ایسی اصلاحات متعارف کروانے کے حوالے سے تجربہ وسیع اور گہرا ہو جو بہت سے دیگر ممالک کی بھی معاشی بحرانوں سے نکلنے میں مددگار ثابت ہوں۔

مزید پڑھیں:  امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی، سٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان