نگران کابینہ کی تحلیل سے عوام کیلئے مشکلات بھرا دور ختم

ویب ڈیسک: نئے وزیراعلیٰ کا چارچ سنبھالنے کے ساتھ ہی نگران وزیراعلیٰ اور ان کی دس رکنی کابینہ کو گھر بھیج دیا گیاہے۔
نگران کابینہ تمام عرصہ صوبے کے عام لوگوں اور سرکاری ملازمین کیلئے ایک تکلیف دہ اور مشکلات بھرا دور تھا۔
ہسپتالوں میں ادویات کا فقدان تھا جبکہ ملازمین کی تنخواہوں کے بھی لالے پڑے ہوئے تھے۔
امن اومان کے لحاظ سے بھی یہ ایک بدترین دور تھا جبکہ شخصی آزادی بھی چن کر رہ گئی تھی۔
حکومت نے اداروں کی مدد سے چن، چن کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا اور لوگوں پر غیر ضروری پابندیاں لگائی گئیں۔
نگران کابینہ کے خاتمے کے ساتھ ہی عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے اور نو منتخب حکومت سے بہتری کی امیدیں لگارکھی ہیں۔
اس سلسلے میں جمعہ کے روز شام کے بعد گورنر نے نگران کابینہ کو تحلیل کرنے کی منظوری دی تھی ہفتہ کے روز محکمہ انتظامی امور کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے مطابق نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ اور ان کی کابینہ کے عہدیداروں سید مسعود شاہ، بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل، ارشاد قیصر، احمد رسول بنگش، آصف رفیق، نجیب اللہ، قاسم جان، سید عامر عبداللہ، احمد جان اور عامر ندیم درانی کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا ہے۔
مذکورہ عہدیداروں میں سے تین عہدیدار یعنی فیروز جمال شاہ، ارشاد قیصر اور سید مسعود شاہ 13ماہ اور تیرہ دنوں تک ان عہدوں پر فائز رہے ہیں جبکہ باقی عہدیدار بشمول نگران وزیراعلیٰ تقریبا تین ماہ سے ان عہدوں پر تعینات تھے۔

مزید پڑھیں:  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا محرم کے پر امن اختتام پر پولیس سمیت تمام اداروں کو خراج تحسین