ماہ رمضان سے قبل مہنگائی زوروں پر ، منافع خور اور ذخیرہ اندوز سرگرم

ویب ڈیسک: ماہ رمضان سے قبل مہنگائی کا جن پوری طرح بوتل سے باہر آ گیا۔
منافع خور اور ذخیرہ اندوز عوام کو دونوں ہاتھوں سےلوٹنے لگے جبکہ ایسے میں انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگی۔
ذرائع کے مطابق عوام پر بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر کے بجلیاں گرائی گئیں اس کے بعد اب اشیائَے خوردو نوش کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی کا جن عوام کو نوچنے لگا۔ ان حالات میں‌پریشان حال عوام دہائیاں دینے لگے۔
اس موقع پر عوام کا کہنا ہے کہ حکومت صرف ٹیکسز لگا رہی ہے، روز بروز بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بجلی، گیس بل پورے کریں یا بچوں کا پیٹ پالیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ تعلیمی اخراجات الگ سے طوفان بپا کئے ہوئے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں‌آمدن اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔
بارش کے دنوں میں جہاں رین ایمرجنسی لگائی گئی اور لوگوں کو مفت امداد دینے سمیت مکمل سہولیات دی گئیں، ایسے ہی ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی لگا کر عوام کو مفت تعلیم کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔
ذرائع کےمطابق عوام نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان سے قبل حکومت مہنگائی کے اس بڑھتے طوفان کو قابو کرے اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کارروائی کرے تاکہ عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

مزید پڑھیں:  بنکاک میں ہوٹل کے کمرے سے 6سیاحوں کی لاشیں برآمد