انانیت اور نرگسیت سے پرہیز؟

میئر پشاور اورڈی جی کیپیٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے درمیان جاری چپقپلش اوررسہ کشی کے باعث صوبے کی سب سے بڑی بلدیاتی حکومت غیرفعال ہونے اور دفتری امور ٹھپ ہونے کی خبریں صوبائی دارالحکومت کے لئے کوئی حوصلہ افزاء صورتحال نہیں ہے محولہ دونوں افراد کے حوالے سے گزشتہ چند روز سے باہم اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں ، ان کے اختلافات کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت میں شہری سہولیات پر سوال اٹھ رہے ہیںعوام کو آسانیاں بہم پہنچانے کے سلسلے میں میٹروپولیٹن گورنمنٹ کاجوکردار ہے اور جو ذمہ داریاں ہیں انہیں یوں دو کرداروں یعنی عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے میئر پشاور اور اہم سرکاری افسر کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی میں ضائع کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔ قانون نے یقینا دونوں کرداروں کے حقوق اختیارات کاتعین کیا ہوگا اس لئے اگر دونوں اپنے اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنااپنا کردار ادا کریں توکسی تصادم کی نوبت آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا ۔ امید ہے دونوںاپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل