نظریاتی اختلاف کے باوجود وفاق سے ورکنگ ریلیشن رکھیں گے،وزیراعلی

اضافی رقم نہیں صوبے کے حصے سے سبسڈی فراہم جائے، لائن لاسز کا مسئلہ حل کرنا لازمی ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہےکہ وفاق سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف رہے گا لیکن اس کے باوجود وفاق سے ورکنگ ریلیشن رکھیں گے۔
پہلے کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کابینہ کے تمام اراکین کو مبارکباد اور شرکت پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ تجربہ کار اور نئے ارکان پر مشتمل اچھی کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔ مشکل حالات میں بڑی ذمے داری ملی ہے، کوشش کرینگے کہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔
کابینہ کے پہلے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ہمارے صوبے میں بارش متاثرین کو پیکج دینا اچھی بات ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اپنا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف رہے گا لیکن ہم ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن رکھیں گے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 1991 سے اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت بقایاجات 1510 ارب سے متجاوز ہیں۔ لائن لاسز کا مسئلہ حل کرنا لازمی ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری پہلی ترجیح امن و امان کا مسئلہ حل کرنا ہے۔ لاء اینڈ آرڈر کی وجہ سے صوبے میں کاروبار کو نقصان ہورہا ہے جس کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔
وفاق سے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاق اگر پورا پیسہ نہیں دے سکتا تو سبسڈی دی جائے۔ وفاق ہمیں بجلی اور گیس کی مد میں سبسڈی دے تاکہ بوجھ کم ہو۔
وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جو قسط آئے گی اس میں ہمیں 100 یا 200 ارب روپے فراہم کیا جائے۔ آئینی فورمز پر میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کروں گا۔ شہباز شریف نے حلف لیا ہے اور آئینی طور پر وہ وزیر اعظم ہے میں ضرور آئینی فورم پر ان سے ملوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پولیس کو مضبوط کرینگے اور ایسا کرنے کیلئے ہم انہیں پورا فنڈ دیں گے، فورس کو تربیت دیں گے اور تیار کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ضلع میں معدنیات کے اتنے وسائل ہیں کہ پورے صوبے کا بجٹ بن سکتا ہے، مائننگ کے مافیا کو ختم نہ کرسکے تو مائننگ ہی بند کر کے اسے ثقافتی ورثہ قرار دے دیں گے۔
علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ صحت کارڈ میں ایک مہینے میں ریفارمز لے کر آئینگے۔
بلدیاتی نظام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے اسے بہترین قرار دیدیا اور کہا کہ ابتک عملی طور ہر انکا دور شروع ہوا ہے کہ ہی ان کو اختیارات اور فنڈز دئے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:  اقوام متحدہ نے غزہ کو مقتل گاہ قرار دیا ،اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش