یہ تو نہیں ہے ، تیرا اشتہار بولتا ہے

ایک بہت ہی مشہور مصرعے کو تبدیل کرنے اور اسے نئی شکل دینے کی معذرت قبول کیجئے ، جو کچھ یوں ہے کہ خدا جب حسن دیتا ہے ، نزاکت آہی جاتی ہے ، اور اب جو تبدیلی ہم نے کی ہے اس کے بعد یہ مصرعہ کچھ یوں بن جاتا ہے کہ ”خدا جب عقل دیتا ہے ، ذہانت آہی جاتی ہے ، اس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں چائے کے ایک ڈھابے والا بہت مشہور ہوا تھا ، نام تھا اس کا ارشد ، اور اسلام آباد کے مکینوں میں وہ ارشد چائے والا کے نام سے مقبول ہوا تھا ، ہر کوئی اس کی چائے کا دیوانہ ہوا پھر رہا تھا ، خدا جانے اس کی چائے میں کیا کمال تھا کہ اس حوالے سے ہمیں ایک شعر نے خاصا متاثر کیا تھا جس سے ارشد چائے والے کے ہاتھ کی لذت کا اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی ، شعر یوں ہے کہ
اس نے کہا کہ کونسی خوشبو پسندہے
ہم نے تمہاری چائے کا قصہ سنا دیا
بات چلی تھی ایک مشہور زمانہ مصرعہ میں تبدیلی کی ، یعنی حسن اور نزاکت کے بیانئے میں تبدیلی کے بعد نیا بیانیہ عقل اور ذہانت بنانے کی ویسے بھی عقل اور ذہانت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اب محولہ مصرعے میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی ، تو عرض ہے کہ ارشد چائے والا نے اپنے چائے کے ڈھابے سے آگے بڑھتے ہوئے اسے پہلے چائے کیفے میں ڈھالا یعنی کاروبار کو مقامی سطح پر توسیع دی ، اوراب اس نے اسلام آباد سے ایک لمبی زقند بھرتے ہوئے لندن میں فرنچائز کھولنے کا اہتمام کر لیا ہے جبکہ اس نے انگلستان کے مختلف شہروں میں ”چین”Chaine کو توسیع دینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ایک ویب شو میں گفتگو کے دوران ”چائے والا” کے نام سے اپنا برانڈ بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارشد نے بتایا کہ میں اپنے چائے کے کام کو وسیع کرنے کا خواہشمند تو ہمیشہ سے ہی تھا اور اسی لئے میں نے اسلام آباد میں اپنا چائے کا ایک کیفے کھولا اور اس ایک کیفے سے میںاپنی زندگی آرام سے گزار سکتا تھا ، لندن میں ہماری ایک برانچ کھل گئی ہے اور برطانیہ میں ابھی دس برانچز کھولیں گے میں نے اپنے چائے کے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے بارے میں اس لئے سوچا کہ اپنے ملک کا نام روشن کر سکوں کیوں کہ میں نے پاکستان کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک کسی پاکستانی برانڈ کو بین الاقوامی سطح پر جاتے ہوئے نہیں دیکھا جبکہ میں لوگوں کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنا چاہتا ہوں ۔ ارشد خان کے خیالات تو اچھے ہیں تاہم اگر ”لوگوں” کے لئے روزگار کے حوالے سے وہ یہ کہہ دیتے کہ میں برطانیہ میں مقیم بے روزگار پاکستانیوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہوں تو زیادہ اچھا ہوتا ،ممکن ہے برطانیہ میں اپنی چائے کے فرنچائز کھولتے ہوئے موصوف کے سامنے”وہ پائونڈ فش” والے پاکستانی کی مثال ہو جس نے اسی طرح پہلے ایک سٹور پر سیلز مین کی ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی تو اپنی”خدمات” کو بورنگ محسوس کرتے ہوئے اس نے سٹور پر گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے ”ون پائونڈ فش” کا گیت نہ صرف سوچا ، تخلیق کیابلکہ لہک لہک کرگایا اور یوں وہ سٹور کے مالک کی نظروں میں اہمیت اختیار کرتا چلا گیا ، وہیں سے وہ عالمی سطح پر مشہور ہوتا چلا گیا ، اس کے بعد اس نے باقاعدہ ایک ”سوشل میڈیا گلوکار” کی حیثیت سے مزید کچھ گیت بھی گائے مگر آج نہ جانے وہ کہاں ہے ؟ سو دیکھتے ہیں کہ ”ارشد چائے والا” بھی اپنی برانڈ کے لئے خود ہی کوئی گیت گا کر اور لندن فرنچائز کے باہر کھڑے ہوکر گاہکوں کی توجہ حاصل کرتا ہے یا پھر کوئی اور اقدام کرتا ہے ، کیونکہ اگر اپنے دعوے کے مطابق وہ لندن میں دس برانچز کھولتا ہے توپھر بیک وقت وہ ہر فرنچائز میں گیت کیسے گا سکے گا ، اس کے لئے یا تو وہ مختلف برانچز میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے ٹائم مخصوص کرکے مقررہ وقت پر وہاں پہنچے گا یا پھر انٹر نیٹ سے استفادہ کرتے ہوئے کسی ایک مرکزی مقام پر فن کا مظاہرہ کرے گا جبکہ باقی برانچوں میں بڑی بڑی سکرینز پر اس کو نشر کرے گا ، ایک بات کا اگرچہ ہمیں تھوڑا سا خدشہ ضرور ہے اور وہ یہ کہ مقبول ہونے کے بعد وہ ”دل پشوری” کرتے ہوئے چائے کی پتی پشاور سے منگوانا نہ شروع کر دے یعنی وہ جو مبینہ طور پر چھلکوں کو رنگ کر اسے چائے کی شکل دی جاتی ہے اور پھر اصلی چائے میں ملا کر لوگوں کو چائے کے نام پر پلائی جاتی ہے ، ویسے آج کل ملک کے مختلف حصوں میں ”کوئٹہ چائے” کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں ، جہاں مٹی کے پیالے میں کڑک چائے کوئلوں پر پکا کر بیچی جاتی ہے ، لوگ اس کے بھی بہت دلدادہ ہیں ہمیں تواپنے قیام کوئٹہ کے دوران وہاں ملنے والی ”سلیمانی چائے” بھی یاد ہے جس میں دودھ کا استعمال نہیں کیا جاتا تھا بلکہ شاید اس کا رواج پہلے افغانستان میں شروع ہوا تھا خود ہم نے شاید 1967ء یا پھر 1968 میں کابل یاترا کے دوران یہ نظارہ کیا تھا ، دراصل کابل میں دودھ صرف صبح اور سہ پہر کے بعد شام تک ہی ملتا تھا ، اس لئے محدود پیمانے پر صبح اورشام کے اوقات میں دودھ ملی چائے مل جاتی تھی جبکہ دن کے اوقات میں سلیمانی چائے وہ بھی پھیکی ملتی تھی جو لوگ میٹھی چائے کے عادی تھے ان کے آگے ہوٹلوں میں میٹھی سنتریاں لا کر رکھ دی جاتی تھیں اور لوگ منہ میں کھانڈ کی سنتری ”Candies” ڈال کر بغیر دودھ کے (سلیمانی) چائے کے گھونٹ پیتے تھے یا پھر قہوہ سے ہی لطف اندوز ہوتے تھے ، بہرحال جن لوگوں کو چائے سے رغبت ہوتی تھی وہ بازارسے بغیر دودھ کی چائے پینے پر مجبور تھے ۔ ارشد چائے والے کی اس سوچ کے حوالے سے اگر یہ سوچا جائے تو شاید غلط نہ ہو کہ وہ انگریزیوں سے بدلہ لینا چاہتا ہے جنہوں نے چائے ہندوستان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ، یعنی وہ ہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے کے لئے آتے ہوئے اپنے ساتھ چائے کی پتی بھی لاتے تھے ، اور یوں چائے نے معاشرتی تقاریب میں جگہ بناتے ہوئے مہمان نوازی اور مہمان داری میں جو اہمیت حاصل کی ، شاید کسی اور چیز نے نہیں کی ، اگرچہ اس کے بعد کافی نے بھی چائے کے متبادل کے طور پر اپنااحساس دلادیا تھا جو اب تک جاری و ساری ہے ، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ارشد چائے والا برطانیہ میں چائے کو ایک بارپھر وہی مقام دلاناچاہتا ہے جو کبھی انگریزوں نے برصغیر میں چائے کودلایا تھا ، خیر کچھ بھی ہو ، آئیڈیا اچھا ہے جبکہ محنت ، ایمانداری اور اختراع(چائے بنانے سے لے کر اس کی گاہکوں کی خدمت میں پیش کرنے تک) میں جدت کوعمل دخل ہونا چاہئے ، اور خاص طور پر گھاگ ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ، سمجھدار انگریزوں کو کھوکھلی اشتہار بازی سے قابو نہیں کیا جا سکتا ، یعنی وہ جو ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا کہ
میں من کی بات بہت من لگاکے سنتا ہوں
یہ تو نہیں ہے ، تیرا اشتہار بولتا ہے
موضوع تو اگرتھوڑا سا تبدیل کردیا جائے تو کوئی شکایت تو نہیں ہوگی؟ تاہم ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں چائے کی بھینی بھینی خوشبو کے بالکل ہی برعکس تبدیل ہونے والے موضوع کی ہیئت پر آپ اعتراض نہ کر بیٹھیں ، کہ اب پیازکی ”بے توقیری” پر روشنی ڈالنی ہے کیونکہ اس موضوع کو اس لئے زیر بحث لانا ضروری ہے کہ ”آنسوئوں” کے اس خزانے کی بے توقیری نے بھارت کے ہوش اڑا دیئے ہیں اور گزشتہ چند سال سے پیاز کی پاکستان کے لئے برآمد پرپابندی لگا کر بھارت نے تکبر اورغرور کا ارتکاب کرنا شروع کر رکھا ہے اور پاکستان میں پیاز اور ٹماٹرکو مہنگائی کے آسمان پر پہنچا دیا ہے حالانکہ بھارت میں پیاز اور ٹماٹروں کے کاشتکاروں کواس سے فائدہ بھی نہیں ہورہا ہے بلکہ گزشتہ برسوں میں بھارتی پنجاب کے سکھ زمینداروں اور کاشتکاروں کوآڑھتیوں کے ہاتھ ٹماٹروں کی بے توقیری کی وجہ سے فصل پر اٹھنے والا خرچہ بھی نہیں مل رہا تھاتو انہوں نے غصے میں آکر مارکیٹ تک لانے والے ٹماٹروں کو زمین پر گرا کر ان پر سوزوکیاں اور ٹرک چڑھا کر انہیں رزق زمین بنا دیا تھا ، اسی طرح پیاز کی بھی وہ قیمت نہ ملنے سے کاشتکاروں کو سخت پریشانی لاحق ہوگئی تھی کیونکہ اگر پیاز اور ٹماٹر پاکستان کو برآمد کر دیئے جاتے تو ان کواچھا خاصا منافع ہوجاتا پھر بھی متبادل کے طور پر بھارت اپناپیاز بنگلہ دیش کو برآمد کرکے کچھ نہ کچھ منافع کما رہا تھا مگر اب بنگلہ دیش نے بھارتی پیاز کی درآمد بند کرکے بھارتی کسانوں کو سبق سکھادیا ہے بلکہ بھارت کے خلاف نفرت کی یہ لہر بھارت کیایک اور ہمسایہ مالدیب سے چلی اور اب بنگلہ دیش میں پھیل رہی ہے بنگلہ دیش اپوزیشن کے رہنمائوں نے بھارتی مال کا بائیکاٹ کر دیا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ بھارت کے ٹماٹروں کے بعد بھارتی پیاز کا کیا حشر ہوتا ہے اگر بھارتی حکمران پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دے کر ٹماٹر اور پیاز سے محروم نہ کرتے توشاید مالدیب اور بنگلہ دیش میں بھارتی پیاز کی یہ درگت نہ بنتی ۔ بقول میر تقی میر
راہ دور عشق میں روتاہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

مزید پڑھیں:  حکومتی کارکردگی کا امتحان شروع