سائفر کیس

سائفر کیس :ایف آئی اے کاعمران خان کی اپیل ناقابل سماعت قرار دینے کا مطالبہ

ویب ڈیسک: ایف آئی اے نے سائفر کیس میں سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیل کو ناقابل سماعت قرار دینے کا مطالبہ کردیا ،عدالت نے بدھ کو فریقین سے دلائل طلب کرلیے۔
بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے سماعت کی جس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب شامل تھے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر،علیمہ خان، علی محمد خان اور حامد خان عدالت پہنچے۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر حامد علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں؟ عدالت اپیلوں کو ناقابل سماعت قرار دے، اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیسے اپیلیں قابل سماعت نہیں؟ قانون بتائیں۔
وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ 1923 کے ایکٹ کے تحت یہ اپیل نہیں ہے، کیا سی آر پی سی بھی اپیل نہیں کرے گی؟ اس پر ایف آئی اے نے کہا کہ اس حوالے سے سی آر پی سی خاموش ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کوئی حق موجود ہی نہیں ہے، ہمارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اپیل دو رکنی بنچ نہیں سن سکتا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈرز میں شاید آپ کی بات ٹھیک ہو لیکن ہائیکورٹ رولز آپ کی مدد نہیں کریں گے۔
ایف آئی اے کے پراسیکوٹر حامد علی شاہ کے دو اعتراضات سے متعلق دلائل مکمل ہونے پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا۔ سلمان صفدر نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ ان کے اعتراضات یہ ہیں کہ نا دو جج نا ایک جج اپیل سن سکتا ہے، اس ایکٹ کے تحت آرمی نیوی کی بہت مختلف طرح کی سزاں سے متعلق درخواستیں عدالت کے پاس آتی ہیں پہلے ضمانت میں بھی یہی اعتراض آیا تھا پھر عدالت نے طے کیا تھا کہ یہ سن سکتے ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سلمان صفدر سے کہا کہ آپ اس نکتے پر عدالت کی معاونت کریں، اگر اعتراض منظور بھی کر لیا جاتا ہے اس کے باوجود پروسیڈنگ ختم نہیں ہوں گی، یہ کلئیر ہے اعتراض منظور ہونے پر اپیل کی صورتحال تبدیل ہو جائے گی مگر ختم نہیں ہوگی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اِس سزا کے خلاف اپیل سنی ہی نہیں جا سکتی، قانون کی یہ دانست نہیں ہوسکتی کہ اپیل کو سنا ہی نہیں جا سکتا، سزائے موت کے خلاف اپیل کیا ہائیکورٹ میں دائر نہیں کی جاتی؟ پراسیکیوشن نے درخواست ضمانت پر بھی کہا کہ درخواست ضمانت سنی ہی نہیں جا سکتی، بعد میں تفصیلی دلائل کے بعد طے ہوا کہ درخواست ضمانت سنی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر کوڈ آف کرمنل پروسیجر کا اطلاق ہوگا؟ اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ بالکل اپلائی ہوگا۔
جسٹس گل حسن نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپیلوں پر بنیادی اعتراض اٹھایا ہے، ہم پہلے بنیادی اعتراض کو سن کر فیصلہ کریں گے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کسی کو بھی ریمیڈی کے بغیر چھوڑا نہیں جا سکتا، پراسیکیوشن نے جو سوال اٹھایا ہے اسے دیکھنا ہو گا، اس کیس میں بہت سے ایشوز ہیں جس میں آپ تفصیل سے دلائل دیں۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ انہوں نے اس اسٹیج پر یہ اعتراض اٹھایا ہے جب میں نے اپیل پر دلائل دینے شروع کر دئیے۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو ہدایت دی کہ ایک نکتہ ہمارے سامنے آیا ہے اس پر ہم نے کچھ فیصلہ تو کرنا ہے آپ بھی دلائل دیں۔
بعدازاں عدالت نے اپیلیں قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے ایف آئی اے کے اعتراض پر بدھ کو دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:  وزیراعلیٰ کا بنوں واقعے کی شفاف تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا اعلان