نشان عبرت بنانے کی ضرورت

تحریک انصاف کی حکومت میں صوبہ بھر کے عوام کوصحت کارڈ کے ذریعے علاج کی جو سہولت میسر آئی اس کے مخالفین بھی معترف ہیں اگرچہ کسی ہسپتال کے عملے کی جانب سے کسی مریض سے سلوک کوحکومت اورمتعلقہ محکمے کے وزیر کیلئے باعث شرمساری قرار دینا قرین انصاف نظر نہیں آتا لیکن میاں راشد حسین ہسپتال پبی میں پیش آنے والا واقعہ اتنا سنگین ہے کہ اس واقعے پر حکومت اور متعلقہ محکمے کے وزیر اور متعلقہ حکام کاسرنگوں ہونا ہی صورتحال کاتقاضا ہے اسے الزام قرار دینے کی بھی گنجائش نہیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ساری صورتحال طشت ازبام اور پوری طرح واضح ہے کہ کس طرح رات کو ریسکیو1122 تحصیل پبی کی ایمبولنس گاڑی نے ایک لاوارث مریض کو پبی ہسپتال کے شعبہ حادثات پہنچایا گیا اور مریض کو باقاعدہ سٹریچر میں ڈال کر شعبہ حادثات کے بیڈ پر منتقل کردیا گیا بظاہر مریض نشئی یا مخبوط الحواس لگتا تھا ممکن ہے ایسا ہی ہو یا پھر شدید تکلیف کی حالت میں ایسا ظاہر ہو رہا ہو بہرحال جو بھی تھا وہ بطور مریض ہسپتال لایاگیا تھا جس کا ممکنہ طور پر علاج اور طبی امداد عملے کی ذمہ داری اور فرض تھا لیکن افسوسناک طور پراسے وہیل چیئرپرڈال کر باہر صحن میں پھینک دیامریض ایمرجنسی کے سامنے چمن میں کئی گھنٹے تک پڑا رہا اور دم توڑ گیا میت پوری رات چمن میں پڑی رہی ہسپتال میں پھرنے والے جانور بلی اور کتے میت کی بے حرمتی کرتے رہے لیکن ہسپتال کا تمام سٹاف اور انتظامیہ تماشائی بنی رہی اس حرکت کی اشرف المخلوقات سے تو توقع کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جنگل میں بھی تکلیف میں مبتلا کسی جانور سے دوسرے جانور بھی ہمدردی کا اظہار کرنے کی کوشش کرتے دیکھے جاتے ہیں مگر یہاں مریض کو اٹھا کر باہر پھینکنے کی وہ شقی القلبی ہوئی ہے جس کے بارے میں ذہن کچھ سوچنے اور اظہار سے بھی قاصر ہے مہذب دنیا میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہوتا تو متعلقہ محکمے کے وزیر اور سیکرٹری اورڈی جی جیسے سربراہی افسران کب کے معافی مانگ کر مستعفی ہو چکے ہوتے مگر یہاں ان سطور کے تحریر کئے جانے تک ہسپتال کے ایم ایس کو بھی نہیں ہٹایا گیا صرف متعلقہ شفٹ ہی کے عملے کیخلاف تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے اس طرح کی تحقیقات اور سرکاری قواعد و ضوابط کی بھول بھلیوں میں سنگین سے سنگین غفلت بلکہ جرم کے مرتکب افراد کے گم ہوتے دیکھنا عام مشاہدے کی بات ہے یہاں تحقیقات ذمہ داری کاتعین اور سزا دینے کی نوعیت کم ہی آتی ہے یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث آوے کاآوا ہی بگڑا ہوتا ہے کسی ایک واقعے کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنایا گیا ہوتا تو باقی کوعبرت ہوتی مگر شاید ہم کوئی اچھی مثال قائم کرنا ہی نہیں چاہتے کیا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس مرتبہ کوئی اچھی مثال قائم کریں گے بس اسی کا انتظار ہے علاوہ ازیں کچھ نہ ہونے کے خدشات ہی غالب ہیں۔

مزید پڑھیں:  روزنامچہ میں اندراج کی مکمل بندش کی ضرورت