عوام کے ساتھ ”کھلواڑ؟

گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھا جارہا ہے کہ ملک کے اندر ایک مخصوص”طبقہ” ایسا بھی ہے جو ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ”باہمی اشتراک” کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے عوام کے لئے پریشانیاں اور عذاب میں اضافہ کرتے رہتے ہیں یہ طبقہ جہاں دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں سرگرم ہیں ، وہاں بطور خاص گندم اور چینی کے حوالے سے سکینڈلز بنانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں ، ہر سال گندم اور کماد(گنے) کے بمپر کراپس کی نشاندہی کرکے ایک دوسرے کے ساتھ دست تعاون بڑھاتے ہوئے اربوں کھربوں کی کمائی کرتے ہیں بلکہ یہ سلسلہ اکثر دو طرفہ ہوتا ہے ، ابھی حالیہ دنوں میں جس طرح گندم سکینڈل سامنے آچکا ہے جس کے کئی پہلوئوں پر میڈیا میں بحث کے دروازے کھولے گئے او رملکی خزانے کوجو ٹیکے لگائے گئے بدقسمتی سے اس میں ملوث کرداروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی ، یوں قومی خزانے کو جونقصان پہنچا اس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی رہی ہیں مگر قوم و ملک کے ساتھ ”کھلواڑ” کرنے والوں سے پہلے کسی نے تعرض رکھا نہ ہی حالیہ سکینڈل کے ذمہ داران پر قانون کے مطابق ہاتھ ڈالنے کی کوئی خبر عوام تک پہنچی ، اب تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے جس کی شرائط میڈیا پر سامنے آچکی ہیں تاہم اس موقع پر عوام کو محاورے کے مطابق ”مشتری ہوشیار باش”کا پیغام دینے کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی ہے کہ آنے والے کل کو (ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں) اس اقدام کے ممکنہ منفی نتائج بہرحال عوام ہی کوبھگتنے ہیں ، یعنی جن بااثر افراد کو ”اضافی چینی” برآمد کرنے کی اجازت دے کر ملک میں چینی کی قلت ہی پیدا کرنے ”تعاون” فراہم کرنا ہے اور بعد میں چینی کی کمی کا رونا رو کر انہی بااثر افراد کو چینی درآمد کرنے کے لائسنس دے کر ان کو بار دیگر تجوریاں بھرنے کے مواقع دینا مقصود ہے تو بہتر ہے کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا یہ سلسلہ ترک کردیا جائے اور ویسے بھی اگر واقعی چینی اتنی مقدار میں اضافی ہے تو اسے ملک کے اندر عوام کو سستے داموں فراہمی سے فائدہ اٹھانے کا مقع ملنا چاہئے کیاعوام کی قسمت میں مہنگائی ہی لکھی ہے؟۔

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل