بجلی چوری کے ذمہ دار کون ہیں؟

ملک میں بجلی چوری کے حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے اس بیان سے صورتحال کی حقیقت واضح ہو گئی ہے اس میں قطعاً شک نہیں کہ بجلی کی چوری کی جاتی ہے لیکن اس ضمن میں اصل ذمہ داروں کے تعین کے حوالے سے وفاقی وزیر نے جو انکشاف کیا ہے اس پر ”چوکیدار کے تعاون کے بغیر چوری کی واردات کی کامیابی” کے امکانات روشن ہو ہی نہیں سکتے ، وزیر موصوف نے کہا ہے ”بجلی چوری کے طریقے بجلی کمپنی والے خود بتاتے ہیں ، لائن مین سے لے کر ا علیٰ ا فسران تک سب ملے ہوئے ہیں” اور دراصل یہ وہ حقائق ہیں جن سے انکار کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی ، تاہم اس کا علاج کیا ہے ؟ اس پر بھی ضرور غور کرنا چاہئے ، اور ہماری دانست میں اس کا واحد علاج بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کے بغیر ممکن نہیں ہے جب سے آئی ایم ایف کے دبائو بلکہ ”بلیک میلنگ” کے تحت ملک میں بجلی کی قیمتوں میں بتدریج ، مسلسل اور بے پناہ اضافہ کا رجحان چلا ہے بجلی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، غربت اور تنگدستی نے عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے ، یوں مہنگی ہوتی ہوئی بجلی خریدنے کی سکت نہ رکھتے ہوئے وہ بجلی چوری پر”مجبور” ہے رہی سہی کسر متعلقہ اداروں کے ”لائن مین سے اعلیٰ افسر” تک نے پوری کر دی ہے ، پھر ملک میں مراعات یافتہ طبقات کو ماہانہ کروڑوں کی مفت بجلی کی فراہمی سے بھی عوام میں رد عمل پیدا ہوتا ، مستزاد حال یہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کے بعد بجلی تین روپے یونٹ مقررکئے جانے سے بھی صورتحال خاصی بگڑ چکی ہے اور ملک میں سستی بجلی کی فراہمی کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے جو ملک کے دیگر عوام کے ساتھ نانصافی ہی قرار دیا جا سکتا ہے اس لئے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کم از کم مفت بجلی فراہمی کا خاتمہ ضروری ہے ۔