اصلی تے وڈی مسلم لیگ

ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ مسلم لیگ پاکستان کی خالق جماعت ہے اور اسی ناطے سے ملک عزیز کی سادھ لوح عوام کی اکثریت کو اس سے لگائو ومحبت ہے ہمارے ملک کی تاریخ میں جتنا عرصہ جمہوری حکومتیں رہی ہیں سب سے زیادہ مسلم لیگ نون ہی کی حکومت رہی ہے۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ اب الف سے لے کر ی تک مسلم لیگیوں میں تقسیم ہوچکی ہیں اور عوام بھی ہر ایک مسلم لیگ سے لگائو و محبت ہی کے طفیل ہر بارانتخابات میں ہر بارمسلم لیگ نون کو ووٹ مل ہی جاتے ہیں ۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ بلکہ بھاری مینڈیٹ اور سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ بھی مسلم لیگ نون کے پاس ہے ۔ اب ایک طرف پاکستان کے عوام ہیں جن کا لگائو مسلم لیگ نون کے ساتھ دیکھیں ان کی وسیع القلبی اور یگانیت دیکھیں مگر دوسری طرف مسلم لیگ کے رہنما ہیں جو اتحاد و یگانگت کے سرے سے قائل ہی نظر نہیں آتے اور مسلم لیگ نون دھڑوں میں بٹتے بٹتے ملک کی اکثریتی جماعت سے اقلیتی جماعت بنتی جارہی ہے جہاں دس یا دس سے زیادہ مسلم لیگی ملتے ہیں ایک نیا گروپ ایک نئے جماعت اور نئی مسلم لیگ بنالیتے ہیں ، اس موقع پر مسلم لیگی اور خاص طور پر ناراض مسلم لیگی کے بارے میں کھل کر لب کشائی نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے مسلم لیگ کی رسوائی ہوگی بہرحال بات تو سچ ہے اب ملک میں اتنی مسلم لیگیں بن چکی ہیں کہ لوگوں نے مسلم لیگ کو لطیفے بنا لیے ہیں ۔ پچھلے دنوں اخبار میں خبر تھی کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں ایک سوال کہ مسلم لیگ پر نوٹ لکھیں کے جواب میں امیدوار نے لکھا کہ” جناب کون سی مسلم لیگ کے بارے میں لکھوں کیونکہ پاکستان میں تو الیف، بے، ج،د ۔۔۔ی اور ے تک کئی مسلم لیگیں ہیں ”۔
اگر دیکھا جائے جواب ایک طرح سے بالکل مناسب و درست تھا طالب علم کیا لکھے کس مسلم لیگ پر نوٹ لکھے ، مسلم لیگ کے گروپس دن بہ دن بڑھ رہے ہیں ۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ ایوان میں جاکر ہر گروپ یامسلم لیگی رہنمائوں نے اکتفاء نہیں کیا اب ان مسلم لیگیوں کا کیا کیا جائے جواپنے زاتی مفادات کی خاطر عوام کے مینڈیٹ کو چند ٹکوں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں جو اپنے ضمیر کو فروخت کر دیتے ہیں اور جھنڈے والی گاڑی کے شوق میں لوٹا اور لفافہ کے القابات سے بھی نہیں شرماتے ۔ آئے روزاپنی وفاداریاں تبدیل کرکے حکومتی پارٹی کی چھتری تلے آن بیٹھتے ہیں اس پر عوام کیا کریں اس کاجواب کس کے پاس ہے اس کا جواب تو چٹھہ ، ضیائ، شیخ ریشید ، ق لیگ یا جناح لیگ کے پاس بھی نہیں کہ وہ کن مقاصد کی خاطر علیحدہ ہوئے تھے۔ چوہدری برادران کس کے ایماء پر” اصلی تے وڈی مسلم لیگ” سے علیحدہ ہوئے ۔ لیکن میں ان میں سے کسی ایک گروپ کو بھی اس کا بالکل ملال ہی نہیں کہ وہ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ ہیں ۔ فوجی حکومت آنے سے پہلے جب نواز شریف کی بادشاہت تھی تو یہ بات بھی کتنی مضحکہ خیز تھی لوگ پوچھتے تھے کہ وفاق اور پنجاب میں کس کی حکومت ہے جواب ملتا مسلم لیگ کی، اور اپوزیشن کس کی جواب آتا مسلم لیگ کی سینٹ کا چئیرمین کون ہے مسلم لیگی ، قائد ایوان کون ہے مسلم لیگی ، قائد حزب اختلاف کون ہے اس کاجواب بھی آتا تھا کہ مسلم لیگی، تو پھر لڑائی کس سے اختلاف کس سے اور جھگڑا کس کے ساتھ اور جب انتخابات کادور آتا ہے تو یہ ہی مسلم لیگ کے رہنما عوام سے کہتے ہیں کہ عوام ووٹ پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دیں انہوں نے ملک کے دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور اب بھی ملک کو لوٹ کھائے گی، عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ نہ دیں وہ غدار رہے ہیں ، مہاجر قومی موئومنٹ (متحدہ قومی موئومنٹ) کو بھی ووٹ نہ دیں دہ دہشت گرد ہیں ، تحریک انصاف والے نومئی والے ہیں۔ جماعت اسلامی ، تحریک استقلال اور دیگر ساری چھوٹی پارٹیاں ہیں۔ عوام تو مخالف سیاسی پارٹیوں کی بجائے مسلم لیگ کو ووٹ دیتے ہیں مگر مسلم لیگ پھر ان ہی لوگوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک مسلم لیگ کا اتحاد ہے تو پیپلز پارٹی کے ساتھ دوسری مسلم لیگ کا ۔ پاکستان میں جس شرح سے اسمبلیوں میں وفاداریاں تبدیل ہوتی ہیں ان میں وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان میں مسلم لیگیوں کی شرح زیادہ ہی رہی ہے جب کے دوسری پارٹیوں کے ارکان کی شرح کئی گنا کم ہے۔ چند دنوں قبل ن لیگ سے ش لیگ نکلنے والی تھی مگر پھر سے نواز شریف کو صدر بناکر اس سانحہ کو فی الحال روک لیا گیاہے لہٰذا اب ن لیگ ہی اصلی اور وڈی مسلم لیگ ہے۔

مزید پڑھیں:  سیاسی پارٹی پر پابندی