وفاقی بجٹ

18ہزار7 87ارب روپےکاوفاقی بجٹ پیش،ٹیکس وصولی کاہدف13کھرب مقرر

ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25کیلئے 18ہزار7 87ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔
قومی اسمبلی کا اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس ہوا، وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ جاری رہا اورسنی اتحاد کونسل کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کا آغاز کرتے ہوئے نواز شریف، شہباز شریف، بلاول بھٹو، خالد مقبول صدیقی سمیت تمام اتحادی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کیا
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 13 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں ترقیاتی بجٹ 1500 ارب ہے، شرح نمو کا ہدف 3.6 رکھا گیا ہے، 9775 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جائیں گے۔ دفاعی بجٹ کے لیے 2 ہزار ارب سے زائد، سول انتظامیہ کے لیے 847 ارب، پنشن کے لیے 1014 ارب اور بجلی و گیس کی سبسڈی کی مد میں 1013 روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر سے حاصل شدہ محصولات کا تخمینہ 12 ہزار ارب روپے اور حکومت کی خالص آمدنی کا تخمینہ 9 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تخواہوں میں 25فیصد تک اضافے اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
ایک سے 16گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے جبکہ گریڈ 17سے 22تک کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافے کی تجویزہے اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کی آٹ سورسنگ کے حوالے سے مختلف کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی اور بولیاں لگائی ہیں، جلد اس کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹ کو بھی آٹ سورس کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار روپے مقرر تھی جس اب بڑھا کر 36 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کروانے کے لیے الگ الگ سلیب متعارف کروانے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ نان فائلرز پر ٹیکس بڑھانے کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا ہے، ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر پندرہ (15) فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے
نان فائلرز کے ٹیکس ریٹ مختلف سلیبس کے تحت 45 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قدم سے معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے میں مدد ملے گی، اسی طرح ہاوسنگ سیکٹر سے افواہوں کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو ہاسنگ افورڈ ایبل کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
بی آئی ایس پی کے تحت مالی خود مختاری پروگرام متعارف کرایا جائے گا، حکومت گریجویشن ایںڈ اسکلز پروگرام کا آغاز کرنے جارہی ہے، تعلیمی وظائف پروگرام میں مزید دس لاکھ بچوں کا اندراج، تعداد 10.4 ملین ہوجائے گی، نشو ونما پروگرام، اگلے مالی سال میں پانچ لاکھ خاندانوں کو اس میں شامل کیا جائے گا، کسان پیکج کے لیے پانچ ارب کی تجویز، کسانوں کو قرض دیا جائے گا۔
جامشورو کول پاور پلانٹ کیلئے21ارب روپے مختص، این ٹی ڈی سی کے سسٹم کی بہتری کے لیے 11ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
کراچی میں آٹھ ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک بنایا جائے گا جس کے لیے بجٹ میں رقم مختص کردی گئی۔ ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد کیلئے گیارہ ارب روپے رکھے گئے ہیں، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے 20 ارب روپے کی تجویز ہے۔ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور ڈیجیٹل پاکستان اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے ایک ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں سولر پینل کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری، پلانٹ اور اس سے منسلک آلات اور سولر پینلز و انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں رعایت دینے جارہے ہیں، اس اقدام سے سولر کی ملک کی مقامی ضرورت بھی پوری ہوسکے گیا ور برآمد بھی کیا جاسکے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ فاٹا اور پاٹا میں دی گئی ٹیکسوں کی چھوٹ بتدریج ختم کی جارہی ہے، تاہم فاٹا و پاٹا کے رہائشیوں کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ میں ایک سال کی توسیع کی جارہی ہے، سیلز ٹیکس و فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ڈیفالٹرز پر عائد 12 فیصد سالانہ ڈیفالٹ سرچارج کو بڑھا کر کائبور پلس 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دوسری بار جب وزیراعظم کا منصب سنبھالا اور اس کے بعد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے صحت کی انشورنش کی بحالی کا حکم دیا اور آج صحافیوں کو اس اسکیم کی بحالی کی خوش خبری سناتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 5 ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس ہوگی اور دوسرے مرحلے میں 10 ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو صحت کا یہ بنیادی حق فراہم کریں گے۔
لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم کردی گئی۔
مچھلیوں کی فارمنگ کے لیے منگوائے جانے والے فیڈ اور سیڈ یونٹس کی درآمدات پر رعایتیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
جعلی اور اسمگل شدہ سگریٹ بیچنے والوں کی دکانیں سیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  بلوچستان میں فورسز کا آپریشن ،ایک دہشت گرد ہلاک،2زخمی